Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
327 - 361
علاوہ بھی اب کسی چیز میں انسیت  ہے ؟ کوئی آپ کے لیے دکھاوا کرے یا آپ کسی کے لیے تکلُّف کرو تو پھر بھلائی کس میں ہے ؟
(10992)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن ادریس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا دادد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا:  مجھے نصیحت کیجئے ۔ فرمایا:  لوگوں سے جان پہچان کم رکھو۔ میں نے کہا:  مزید نصیحت کیجئے ۔ فرمایا:  دین کی سلامتی کے ساتھ تھوڑی دنیا پر راضی رہوجیسے دنیا والے دین میں خرابی کے باوجود دنیا پر راضی ہو گئے ۔ میں نے کہا: اور نصیحت کیجئے ۔ فرمایا: دنیا کو اس دن کی طرح بنا لو جس کاتم نے روزہ رکھا ہوا ہے اورپھر موت پر افطار کرو۔ 
وحشت دور کرنے والی وحشت: 
(10993)…حضرت سیِّدُناابویحییٰ احمدبن ضِرارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفّاربیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُناداود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی  عَلَیْہ کے پاس آیا، آپ بڑے رقبے والے کھنڈر مکان میں رہتے تھے جس میں فقط ایک ہی کمرہ تھااور اس کا بھی دروازہ نہیں لگا ہوا تھا، کچھ لوگوں نے آپ سے کہا:  آپ ویران گھر میں رہتے ہیں، کیا ہی بہتر ہو کہ آپ اس کمرے میں ایک دروازہ لگوالیں، آپ کو وحشت نہیں ہوتی؟ فرمایا:  میرے اور دنیاوی وحشت کے درمیان قبر کی وحشت حائل ہو چکی ہے ۔  
تین کے لیے تین کافی: 
(10994)…حضرت سیِّدُناداودطائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی  عَلَیْہفرماتے ہیں: دنیا سے یوں گھبراؤ جیسے درندوں سے گھبراتے ہو۔ آپ یہ بھی فرمایا کرتے : زہد کے لیے یقین، عبادت کے لیے علم اور مصروفیت کے لیے عبادت کافی ہے ۔ 
(10995)…حضرت سیِّدُنا عمیر بن صدقہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے دوست تھے اور ہم دونوں حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حلقَۂ درس میں بھی ساتھ بیٹھا کرتے تھے حتّٰی کہ آپ گوشہ نشیں ہو کر عبادت میں مصروف ہو گئے تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا:  ابوسلیمان! آپ نے تو ہم سے منہ موڑ لیا ہے ۔ آپ نے فرمایا:  ابو محمد! تمہاری یہ مجلس اُخروی معاملے سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ پھر اَسْتَغْفِرُ اللهَ، اَسْتَغْفِرُ اللهَ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور مجھے چھوڑ دیا۔ 
(10996)…حضرت سیِّدُنا شعیب بن حربرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  کس کی ہم نشینی اختیار کی جائے اس کی جو تمہاری لغزش کو یاد رکھتا ہو؟ یا اس لڑکے کی جو تمہیں مشقت میں ڈال دے ؟ 
(10997)…حضرت سیِّدُناابن سماکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے میری گفتگو ہوئی، میں نے ان سے کہا:  کیا ہی اچھا ہو کہ آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھا کریں۔ آپ نے فرمایا:  تم دو قسم کے لوگوں کے درمیان ہوگے : (۱)…بچوں کے جو تمہاری عزت نہیں کریں گے اور (۲)… بڑوں کے جو تمہیں تمہارے عیب گنوائیں گے ۔ 
زاہدین کی نشانی: 
(10998)…حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  دنیا میں زہد کا ارادہ رکھنے والوں کی نشانی ایسے شخص کی ہم نشینی کو چھوڑنا ہے جو ان جیسا ارادہ نہیں رکھتا۔ 
(10999)…حضرت سیِّدُنا حفص بن عمر جُعْفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ایک ہوشیار آدمی حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ملنے آیامگر آپ نے اسے ملاقات کا کوئی موقع ہاتھ نہ آنے دیا، آپ اپنے کپڑے میں لپٹے ہوئے نکلتے گویا خوفزدہ ہیں اور جیسے ہی امام سلام پھیرتا آپ تیزی سے روانہ ہوجاتے گویا بھاگ رہے ہیں حتّٰی کہ اپنے گھر میں داخل ہو جاتے ۔ 
زاہد کون؟
(11000)…حضرت سیِّدُنا اسحاق بن منصور سَلُوْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں اور میراایک ساتھی حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئے ، آپ مٹی پر تشریف فرما تھے ، میں نے اپنے ساتھی سے کہا:  یہ دنیا سے بے رغبت شخص ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: زاہد تووہ ہے جو قدرت کے باوجود دنیاترک کر دے ۔ 
(11001)… حضرت سیِّدُنا حسن بن عطیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوفہ آئے ، آپ کوئی مسئلہ پوچھنا چاہتے تھے لہٰذا طالب علموں میں سے کسی شخص کے ذریعے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس پہنچے جبکہ وہ طالب علموں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ پس حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُن سے  مسئلہ پوچھنے لگے مگر آپ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا، جب انہوں نے کئی مرتبہ وہ مسئلہ دُہرایا اور آپ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا تو وہ اُٹھ کر چلے گئے اور آپ وہیں بیٹھے رہے ۔ کسی نے عرض کی:  آپ کے چچازاد آپ سے مسئلہ پوچھنے آئے تھے مگر آپ نے انہیں جواب ہی نہیں دیا؟ جب آپ سے بہت زیادہ پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت تلاوت کی: 
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ(۱۰۱) (پ۱۸، المؤمنون: ۱۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:  تو  جب صُور پھونکا جائے گا تو نہ ان میں رشتے رہیں گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے ۔
11002)…اسماعیل بن احمد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے چچازادبھائیوں کو احادیث بیان کررہے تھے کہ اُن میں سے ایک نے آپ سے کوئی بات کی مگر آپ نے اُس سے بات نہ کی، اُس نے بات بڑھائی مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا تووہ غصہ میں آگیا  اور آپ کو بہت باتیں سنائیں ، پھر چلا گیاتو حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی: 
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ(۱۰۱) (پ۱۸، المؤمنون: ۱۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:  تو  جب صُور پھونکا جائے گا تو نہ ان میں رشتے رہیں گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے ۔
 (11003)…حضرت سیِّدُنا بکر بن محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے مجھ سے فرمایا:  لوگوں سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔