حالت نزع میں ہی تھے ، پھر ہم ان کا دم نکلنے تک وہیں ٹھہرے رہے ۔
جنازے میں لوگوں کی کثرت:
(10982)…حضرت سیِّدُنا حسن بن بِشررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے جنازے میں حاضر تھا، آپ کے وصال کی خبر وقفے وفقے سے دی جا رہی تھی، ہمارے دل اسے قبول نہیں کر رہے تھے ، آپ کو دو یا تین چار پائیوں پر رکھا گیاکیونکہ لوگوں کی کثرت کی وجہ سے چارپائی ٹوٹ جاتی تو پھر چار پائی بدل دی جاتی، آپ کی نماز ِجنازہ کئی دفعہ پڑھی گئی، میں نے دیکھا کہ آپ کی چارپائی کو قبر پر رکھاجاتا پھر کچھ لوگ آکر اسے اُٹھا کر لے جاتے پھر واپس ان کی قبر کے مقام پر لے آتے ۔
(10983)…حضرت سیِّدُنا ابو داود طیالسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال کے وقت کوفہ آیا، میں نے آپ سے زیادہ سخت موت کے غرغرے کسی کے نہیں دیکھے ، میں ان کی ایسی آواز سن رہا تھا جیسے بیل کی آواز نکلتی ہے ۔
(10984)…حضرت سیِّدُنا یونس بن عُروہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناداود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے جنازے میں لوگوں کی بھیڑکی وجہ سے میری چپل ٹوٹی اور ضائع ہو گئی اور میرے کاندھوں سے چادر اتری اور وہ بھی گم ہو گئی۔
عمل کب کرے گا؟
(10985)…حضرت سیِّدُنا حَفْص بن حُمَیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے ایک مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب کوئی جنگ کا ارادہ کرتا ہے تو کیا وہ اپنے لئے سامانِ جنگ جمع نہیں کرتا؟پھر اگر وہ اپنی عمر سامان جمع کرنے میں گزار دے توجنگ کب کرے گا؟ بے شک علم عمل کا آلہ ہے لہٰذا اگرکوئی اپنی عمر حصولِ علم میں ہی گزار دے تو عمل کب کرے گا؟
سال بھر گفتگو میں حصہ نہ لیا:
(10986)…حضرت سیِّدُنا احمد بن ابو حواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کو ان کے کسی ساتھی نے بیان کیا کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے گوشہ نشین ہونے کا سبب یہ تھا کہ آپ حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے ، ایک مرتبہ امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ سے فرمایا: ابو سلیمان! ہم ہتھیار مُسْتَحْکَم کر چکے ہیں۔ آپ نے کہا: پھر کون سی چیز رہ گئی؟ فرمایا: اس پر عمل کرنا باقی ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اس کے بعد میرانفس گوشہ نشینی اور اکیلے رہنے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑنے لگا، میں نے اس سے کہا: جب تک تو شرکائے مجلس میں رہے کسی سوال کا جواب نہ دینا۔ راوی کا بیان ہے کہ گوشہ نشینی اختیار کرنے سے پہلے آپ لوگوں میں ایک سال تک بیٹھتے رہے ، آپ فرماتے ہیں: جب مجلس میں کوئی مسئلہ آتا تو مجھے جواب دینے کی خواہش پیاسے کو پانی کی خواہش سے بھی زیادہ ہوتی مگر میں اس کا جواب نہ دیتا، پھر میں نے ان سے علیحدہ ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔
لوگوں سے دوری میں شدت:
(10987)…حضرت سیِّدُنا سعید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ گوشہ نشینی میں انتہائی سخت تھے وہ اپنے نفس کا علاج خاموشی کے ذریعے کیا کرتے تھے جبکہ اس سے قبل آپ زیادہ گفتگو کرنے والے تھے اس کا علاج یہ تھا کہ آپ بولناچھوڑ دیں، اس علاج نے آپ کو فکرِ آخرت میں مبتلا کیا اور اس فکر کی بدولت آپ نے اپنے نفس پر قابو پا لیا، میں ایک دن نماز کے وقت آپ کے یہاں آیا اور آپ کا انتظار کرنے لگاجب آپ نماز کے لئے نکلے تومیں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا، مسجد آپ کے قریب ہی تھی، آپ مسجد کاراستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلے تو میں نے پوچھا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ پس آپ میرے ساتھ خالی گلیوں میں چلتے رہے حتّٰی کہ ہم مسجدکی طرف نکل آئے ۔ میں نے کہا: آپ کے لئے قریبی راستہ تو وہاں سے ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: سعید! لوگوں سے ایسے بھاگو جیسے درندے سے بھاگتے ہو، جو بھی لوگوں میں گھل مل کر رہااس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عہد بُھلا دیا۔
(10988)…حضرت سیِّدُنا لُوَیْن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے نفس کو آزمانا چاہا کہ یہ گوشہ نشینی پر پختہ رہ سکے گا یا نہیں؟چنانچہآپ حضرت سیِّدُنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی مجلس میں ایک سال اس طرح بیٹھے کہ کوئی کلام نہیں کیا پھر لوگوں سے کنارہ کش ہو گئے ۔
(10989)…حضرت سیِّدُناابواُسامہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں اورحضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: آپ دونوں ایک مرتبہ میرے پاس آچکے ہیں لہٰذا اب دوبارہ نہ آئیے گا۔
گوشہ نشینی کے ساتھ پابندیٔ جماعت:
(10990)…حضرت سیِّدُناابو ربیع اَعْرَج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا، آپ اپنے گھر سے تب ہی نکلتے تھے جب مؤذ ن ” قَدْقَامَتِ الصَّلَاةُ “ کہتا، آپ گھر سے نکل کر نماز اداکرتے اور جب امام سلام پھیرتاتوآپ اپنی چپل پہنتے اوراپنے گھر چلے جاتے ، میرے ساتھ یہ معاملہ کافی عرصے رہا ایک دن میں نے انہیں پا لیا اور کہا: ابو سلیمان! ذرا ٹھہریے ۔ وہ میرے لئے رُک گئے ، میں نے کہا: ابو سلیمان! مجھے نصیحت کیجئے ۔ تو آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو اور اگر تمہارے والدین زندہ ہیں تو ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرو ۔ یہ بات تین دفعہ کہی پھر چوتھی مرتبہ فرمایا: تمہارا بھلا ہو! دنیا سے روزہ رکھو اوراپنی موت کو اِفطار بنا لو، لوگوں سے کنارہ کش رہومگران کی جماعت نہ چھوڑو۔
(10991)…حضرت سیِّدُناامام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُناداود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو سلام کرنے ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اندر آنے کی اجازت دے دی، میں کمرے کے دروازے پر ہی بیٹھ گیا اور کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ پر رحم فرمائے ! آپ یہاں اکیلے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر بھی رحم فرمائے ! کیا تنہائی اور گوشہ نشینی کے