اسے ملا لیتے تو یہی آپ کا سالن ہوتا اور یہی میٹھابھی، آپ کو عمدہ کھانے کی خواہش ہوئی تو سادہ کھانا کھایا، نرم لباس کی خواہش ہوئی تو کُھردرا لباس پہنا، آپ نے جو چھوڑا اُسے بڑا نہیں سمجھا، لوگ جس چیز سے مانوس ہوتے آپ اس سے گھبراتے تھے اور جس سے لوگ گھبراتے آپ اس سے مانوس ہوتے تھے ، آپ نے اپنے لئے فقہ حاصل کر کے لوگوں کو فقہ حاصل کرتا چھوڑ دیا اور اپنے لئے علم حاصل کرکے لوگوں کو علم حاصل کرتا چھوڑ دیا، تو کوئی ہے جس نے سنا ہو کہ آپ کے عزم کی طرح کسی کا عزم تھا یاپھر آپ کے عمل جیسا کسی کا عمل تھا؟ آپ نے ساری زندگی اپنی خواہش کو مارا تاکہ وہ آپ کو فتنے میں مبتلا نہ کر دے ، جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کے رب تعالیٰ نے آپ کو مشہور کر دیا، آپ کو آپ کے عمل کی چادر سے ڈھانپ دیا اور آپ کے لئے لوگوں کو جمع فرما دیا ، اگر آج آپ اپنے پیروکاروں کو دیکھتے تو جان لیتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو عزت و شر ف عطا فرمایا ہے ، اگر قبیلہ طے والے اپنے منہ سے آپ کے سبب اپنی بڑائی بیان کریں تو یقیناًوہ اس کے حقدارہیں کیونکہ ابو سلیمان! آپ ان ہی میں سے ہیں۔
کنگھی کرنے کی فرصت نہ ہوتی:
(10973)…حضرت سیِّدُنا ولید بن عقبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ سے ایک شخص نے پوچھا: ابو سلیمان!کیا آپ اپنی داڑھی میں کنگھی نہیں کرتے ؟ فرمایا: مجھے اس کی فرصت نہیں۔
(10974)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن ابو داود خُرَیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا گیا: آپ اپنی داڑھی میں کنگھی کیوں نہیں کرتے ؟فرمایا: اگر میں کنگھی میں مشغول ہوجاؤں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں فارغ ہوں۔
(10975)…حضرت سیِّدُناحَفْص بن عمر جُعْفِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے فرمایا: آپ اپنی داڑھی میں کنگھی کیوں نہیں کرتے ؟ فرمایا: دنیا سوگ کا گھر ہے ۔
فضائل پرلوگوں کی گواہی:
(10976)…حضرت سیِّدُنا ابو بکر بن خلفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنااسحاق بن منصور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہِمَا نے بغداد میں سن205 ہجری میں فرمایا: جب حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہوا تو لوگ آپ کے جنازے کے ساتھ گئے ، جب آپ کی تدفین ہو گئی تو حضرت سیِّدُناابو عباس ابن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے داود! آپ ساری رات جاگتے رہتے جبکہ لوگ سورہے ہوتے تھے ۔ تمام حاضرین نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ انہوں نے فرمایا: آپ اس وقت نفع اُٹھا رہے تھے جب لوگ نقصان اٹھا رہے تھے ۔ سب لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ انہوں نے فرمایا: آپ بُرائیوں سے دور رہے جب لوگ ان میں پڑے ہوئے تھے ۔ تمام حاضرین نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ حتّٰی کہ ا نہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے تمام فضائل گنوائے ، جب آپ فارغ ہوئے تو حضرت سیِّدُنا ابوبکر نہشلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے کھڑے ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کی پھر فرمایا: اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ!لوگ جتنا جانتے تھے کہہ چکے ، اے میرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اپنی رحمت سے ان کی مغفرت فرما اور انہیں ان کے عمل کے سپرد نہ فرما۔
تذکرۂ جہنم سے بیماری وموت:
(78-10977)…حضرت سیِّدُناحَفْص بن عمر جُعْفِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کئی روز بیمار رہے ، آپ کی بیماری کا سبب یہ تھا کہ آپ نے جہنم کے تذکرے پر مبنی ایک آیت پڑھی تو رات میں اس کی تکرار کرنے کی وجہ سے بیمار ہو گئے ۔ لوگوں نے جب آپ کو دیکھا تو آپ وصال فرما چکے تھے اور آپ کا سر اینٹ پرتھا، آپ کے بھائی اور پڑوسی آپ کے گھر کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے ، ان کے ساتھ حضرت سیِّدُناابو عباس ابن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تھے ، جب انہوں نے آپ کے سر کو دیکھا تو کہنے لگے : اے داود! آپ نے تو قاریوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جب آپ کو قبر تک لے جایا گیا تو آپ کے جنازے میں لوگوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی حتّٰی کہ پردہ نشین عورتیں بھی گھروں سے باہرنکل آئیں، حضرت سیِّدُناابوعباس ابن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا: اے داود! آپ نے قید ہونے سے پہلے اپنے نفس کو قید کیا اور اپنے محاسبے سے قبل اپنے نفس کا محاسبہ کیا لہٰذا آج آپ وہ ثواب دیکھ رہے ہیں جس کی آپ کو امید تھی، اسی ثواب کے لئے آپ محنت و مشقت اور عمل کرتے رہے ۔ پھر آپ کی قبر کے کنارے کھڑے حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن عیاش
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!داودکواس کے عمل کے سپردنہ فرما۔ ان کے کلام پر لوگ متعجب ہو گئے ۔
(10979)…حضرت سیِّدُنا ابو عباس ابن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُناداود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال کے دن ان کے پاس گیاتو وہ اپنے گھر میں مٹی پر لیٹے تھے اور سر کے نیچے اینٹ رکھی تھی، میں ان کا حال دیکھ کر رو پڑا، پھرمجھے وہ انعامات یاد آئے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اولیائے کرام کے لئے تیار کر رکھے ہیں، میں نے کہا: اے داود! آپ نے قید ہونے سے پہلے اپنے نفس کو قید کیا اور عذاب دیئے جانے سے قبل ہی اپنے نفس کو مبتلائے عذاب کیا لہٰذا آج آپ وہ ثواب دیکھیں گے جس کے لیے عمل کیا کرتے تھے ۔
(10980)…حضرت سیِّدُنا محمد بن عیسٰی رابِشی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا بیا ن ہے کہ میں نے دیکھا لوگ تین راتوں سے یہاں آرہے ہیں صرف اس خوف سے کہ کہیں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نماز جنازہ فوت نہ ہو جائے ، میں نے تمام لوگوں کو آپ کے لئے روتا دیکھا، مجھے وہ قیامت کا دن لگ رہا تھا۔
نزع کی شدت:
(10981)…حضرت سیِّدُنا ابو داود طَیالِسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا داود طائی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے جنازے میں حاضر تھا اور ان کے وصال کے وقت بھی ان کے پاس موجود تھا، میں نے نَزع کی سختی ان سے زیادہ کسی کی نہیں دیکھی، ہم رات کو آپ کے پاس آئے تو اندر جانے سے پہلے ہی آپ کے دم نکلنے کی آواز آرہی تھی، پھر ہم اگلی صبح آپ کے پاس آئے تو آپ ابھی