کو دیکھا تو آپ کے دل کی بصیرت نے آنکھوں کی بصارت کو ڈھانپ دیا گویا جو تم دیکھتے ہو اسے وہ نہیں دیکھتے اور جسے وہ دیکھتے ہیں اسے تم نہیں دیکھتے ، تم ان پر تعجب کرتے تھے اور وہ تم پر، جب انہوں نے دیکھا کہ تم دنیا کی محبت اور اس کے دھوکے میں ایسے ڈوبے ہو کہ تمہاری عقلیں دنیا پر فدا ہو گئیں، دنیا سے محبت کے سبب تمہارے دل مردہ ہو چکے ، تم دل وجان سے اس پر فریفتہ ہو گئے اور تمہاری نظریں دنیا کی طرف پھیل گئیں تو وہ زاہد تم سے نامانوس ہو گیا۔ اگرتم انہیں دیکھتے تو جان لیتے کہ وہ دنیا والوں سے خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ مُردوں کے درمیان زندہ تھے ۔
پھر حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے داود! آپ کی شان بڑی نرالی ہے ، آپ کی خوبی میں مزید اضافہ اس بات سے ہوا کہ آپ نے اپنے اہْلِ زمانہ میں اپنے نفس پر خاموشی لازم کر لی حتّٰی کہ اپنے نفس کو عدل پر قائم کر دیا، آپ نے اس کی توہین کی تو اسے عزت دینے کی نیت سے ، اسے ذلیل کیاتو اسے اعزاز اکرام دینے کے ارادے سے ، اسے جھکا یا تواسے بلند کرنے کے ارادے سے ، اسے تھکا دیا تاکہ اسے راحت نصیب ہو، اسے بھوکا رکھا تاکہ وہ سیر ہو جائے ، اسے پیاسا رکھا تاکہ وہ خوب سیراب ہو جائے ، اسے کھردرا لباس پہنایا تاکہ وہ نرم لباس پہن سکے ، اسے معمولی کھانا کھلایاتاکہ عمدہ وپاکیزہ کھانے کھا سکے ، آپ نے مرنے سے پہلے ہی اسے ماردیا، تدفین سے پہلے ہی اسے دفن کر دیا، اس کو عذاب ہونے سے پہلے عذاب میں مبتلا کیا، اسے لوگوں سے چھپائے رکھا کہیں اسے شُہرت نہ مل جائے ، آپ نے اِسے دنیا سے دور رکھ کر دنیا کوکوئی قدر و اہمیت نہ دی اورآپ نے اُخروی بیویوں، اخروی لباس، موٹے وباریک ریشم کی خاطر اپنے نفس کو دنیوی بیویوں، کھانوں اور لباس سے دوررکھا۔
میرا یہی گمان ہے کہ آپ نے جس کی رغبت کی اور جسے طلب کیا اُسے پانے میں کامیاب ہو گئے ، آپ کی پہچان چہرہ اور ظاہر کے بجائے آپ کا عمل اورباطن تھا ، آپ نے اپنے دین میں فقاہت حاصل کی پھر لوگوں کو اس حال میں چھوڑ دیا کہ وہ فتوٰی دینے اور فقہ سیکھنے میں لگے ہیں، آپ نے احادیث کی سماعت کی اور لوگوں کو حدیثیں بیان کرتا اور روایات کرتا چھوڑ دیا ، آپ بولنے سے گونگے ہوگئے اورلوگوں کوباتیں کرتا چھوڑ دیا، آپ نے نیک لوگوں سے حسد کیا نہ شریر لوگوں کو بُرا بھلا کہا، خلیفہ کا عطیہ قبول کیا نہ امیروں کا ہدیہ، حرص و لالچ نے آپ کو ذلت میں ڈالا نہ آپ نے لوگوں کے معاملات میں دلچسپی لی، بارگاہِ الٰہی میں خلوت نشین رہتے تو مانوس رہتے ، لوگوں میں بیٹھتے تو گھبراہٹ کا شکار رہتے ، جس سے آپ گھبراتے اس سے لوگ اُنسیت پاتے تھے اور جس سے آپ اُنسیت پاتے اس سے لوگ گھبراتے تھے ، آپ سفر میں رہنے والے مسافروں کی حد کو پار کر گئے اور اس حد سے بھی بڑھ گئے جو قید خانے میں قیدیوں کی ہوتی ہے ۔
مسافر تو اپنا کھانااور مٹھائی اٹھائے ہوتے جبکہ آپ کے پاس مہینہ بھر کے لیے ایک یا دو روٹیاں ہوتیں جنہیں آپ اپنے مٹکے میں ڈال دیا کرتے ، جب روزہ افطار کرتے تو اس میں سے اپنی حاجت کے مطابق روٹی لے کر اسے اپنے وضو کے برتن میں ڈالتے پھر اس پر بقدرِ حاجت پانی ڈالتے اور نرم کرنے کے لئے اسے ملا لیتے تو یہ آپ کا سالن، آپ کا میٹھا اور آپ کی راحت کا کُل سامان ہوتا، تو کوئی ہے جس نے آپ کے صبر جیسا صبر اور آپ کے عزم جیسا عزم کرنے والی کسی ہستی کے بارے میں سنا ہو؟ میرا گمان یہی ہے کہ آپ اسلاف میں شامل اور بعد والوں پر فضیلت رکھنے والے ہیں ، آپ نے عبادت گزاروں کو مشقت میں ڈال دیا ہے ۔ اے داود! آپ بعد والوں میں زندہ رہے اور پہلے والوں سے جا ملے اور یقیناً آپ نے دنیا کے متوالوں کے دور میں رہتے ہوئے زاہدوں کے اعلیٰ ترین مقام ومرتبے کو حاصل کیا۔
اور قیدی تو لوگوں کے ساتھ قید ہوتا ہے اور ان سے اُنسیت حاصل کرتاہے کیونکہ ایک قیدی کے ساتھ بہت سے اور قیدی بھی ہوتے ہیں لیکن آپ نے خود کو اپنے گھر میں تنہاقید رکھاجہاں آپ کاکوئی ہم نشین تھانہ کوئی بات کرنے والا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان دو معاملوں میں سے کونسا آپ پر زیادہ سخت تھا: (۱)…گھر میں خلوت نشینی جس میں کئی مہینے اور سال گزر گئے یا (۲)…آپ کا طرح طرح کے کھانوں اور مشروبات سے منہ موڑنا کہ نہ آپ نے ان سے کچھ کھایا اورنہ کسی چیز سے راحت حاصل کی، آپ کے دروازے پر کوئی پردہ نہ ہوتا، آپ کے نیچے کوئی بچھونا نہ ہوتا، آپ کے پاس کوئی ایسا مٹکا نہ تھا جس میں آپ کے لئے پانی ٹھنڈا ہوتا اور نہ ہی الگ سے کوئی ایساپیالہ جس میں آپ کا ناشتہ یا رات کا کھانا ہوتا، پاکی حاصل کرنے کے لئے آپ کے پاس صراحی اور پانی پینے کے لئے ایک پیالہ تھا۔
اے داود! آپ کا ہر معاملہ حیرانی میں ڈالنے والا ہے ، کیا آپ کو ٹھنڈے پانی، عمدہ کھانے اور نرم لباس کی خواہش نہیں ہوئی؟ ضرور ہوئی ہو گی لیکن آپ نے ان چیزوں میں زہد اختیار کیا کیونکہ آپ کے مَدِّنظر وہ معاملہ تھاجس کی طرف آپ کو بلایا گیا اور جس میں آپ رغبت رکھتے تھے پس آپ نے جو خرچ کیا وہ کوئی چھوٹی شے نہیں اورآپ نے جو چھوڑا وہ کوئی معمولی وحقیرچیز نہیں اور اپنی امید یا طلب کے سلسلے میں آپ نے جو کیا وہ آسان نہ تھا، بہر حال آپ جلد ملنے والی راحت میں کامیاب ہو گئے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلآپ دائمی زندگی میں بھی کامیاب ہوں گے ، آپ نے ہر حال میں اپنی خواہش کو مارا کہ کہیں اس کی محبت اور اس کا فتنہ آپ کو گھیر نہ لے ، جب آپ وصال فرماچکے تو آپ کے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی موت کے سبب آپ کو مشہور کر دیا اور آپ کو آپ کے عمل کی چادر سے ڈھانپ دیا، جو عمل آپ نے چھپ کر کیا اور اس کا چرچا نہیں کیاتواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آج اسے ظاہر فرما دیا اور آپ کے نفع کو بڑھایا، آپ لوگوں سے وحشت زدہ رہے پس اگر آج آپ اپنے پیروکاروں کی کثرت دیکھتے تو جان لیتے کہ آپ کے رب عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو عزت و شرف سے نواز دیا ہے ، آج آپ ہی اپنے قبیلے
والوں کو بتایئے کہ آپ ان کی زبان میں گفتگو کرتے ہیں، آپ کا رب عَزَّ وَجَلَّ اس قبیلے کی فضیلت ظاہر کر رہا ہے کیونکہ آپ کا اس سے تعلق ہے ، لہٰذا آپ کو اپنی نیکی کے سبب اس اچھی شُہرت اورکثیرپیروکاروں کے اس حسین اجتماع کی صورت میں راحت مل رہی ہے ، بے شک آپ کارب عَزَّ وَجَلَّ کسی اطاعت گزار کو ضائع نہیں کرتا نہ کسی عمل کرنے والے کو بھولتا ہے ، وہ اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والی اپنی مخلوق کو ان کے شکر سے بھی بڑھ کر بدلہ عطا فرماتا ہے ، پاک ہے وہ ذات جو صلہ دیتی ، جزا عطا فرماتی اور ثواب سے نوازتی ہے ۔
عظیم شان کے مالک:
(10972)…حضرت سیِّدُنا محمد بن صباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناابو عباس محمد بن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے جنازے میں فرمایا: آپ کی شان بڑی نرالی ہے ، ہمارے تعجب میں اس بات سے اور بھی اضافہ ہو گیا کہ آپ نے اپنی تدفین سے پہلے ہی اپنے زمانے والوں سے اپنے نفس کو دفن کر دیا، آپ نے موت آنے سے پہلے ہے اسے ماردیا، آپ ایک یا دو روٹیوں کا قصد فرماتے اور اسے اپنے مٹکے میں ڈال دیا کرتے ، جب رات کا وقت ہوتا تو وضو کے برتن کو اپنے قریب کرتے ، مٹکے سے روٹی نکال کر اس پر پانی ڈالتے پھر