Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
323 - 361
(10963)…حضرت سیِّدُنا عدی بن عمیر کِندِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ  میں نے صاحب جود وسخا، پیکرِشرم وحیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشاد فرماتے سنا: تم میں سے جو ہمارے کام پر عامل ہو پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی کم چیز چُھپالے تو یہ خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا۔ (1)
(10964)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میرے سرتاج، صاحبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غسل کے بعد وضو نہیں فرمایا کرتے تھے ۔ (2)
(10965)…حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضور رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن، خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا تو میں نے عرض کی:  یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ بھول گئے ؟ ارشاد فرمایا:  بلکہ تم بھول گئے  اس کا حکم مجھے میرے ربّعَزَّ  وَجَلَّنے دیا ہے ۔ (3)
٭…٭…٭…٭
حضرت سیِّدُنا داود بن نُصَیْر طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	عقلمند فقیہ، صاحبِ بصیرت محافظ ابوسلیمان داود بن نصیر طائی بھی انہی بُزرگانِ دین میں سے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ، سبقت حاصل کرتے ہوئے آگے نکل گئے ، کثرت قیام کے سبب دُبلے ہو گئے ، گہری فکر میں مبتلا رہے ، خوف نے آپ کو لاغر کر دیا، بے چینی و اضطراب نے آپ کو ہر چیز سے غافل کر دیا۔ 
	منقول ہے : سبقت حاصل کرنے کے لئے تیز چلنے اور مالک حقیقی سے ملنے کے لئے دبلا ہو جانے کا نام تصوُّف ہے ۔ 
موت کی فکر: 
(10966)…حضرت سیِّدُنا عبَیْدُاللہ بن محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سیِّدُناداود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ملا اور آپ سے ایک حدیث کے متعلق پوچھاتو آپ نے فرمایا:  مجھے چھوڑ دو!کیونکہ مجھے جلدی ہے کہ کہیں میری جان نہ نکل جائے ۔ 
	حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن جب بھی آپ  کا ذکر کرتے تو فرماتے : حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے  معاملے پرخوب نظر رکھی۔ 
(10967)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: دین داری تو وہ ہے جس پر حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عمل پیرا رہے ۔ 
(10968)…حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے :  عبادت گزار مجھ پر سبقت لے گئے ، ہائے افسوس!میری امید ٹوٹ گئی۔ 
(10969)…حضرت سیِّدُناظفر بن عبد الرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا:  ابو سلیمان! تیر اندازی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیونکہ میں اسے سیکھنا پسند کرتا ہوں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تیر اندازی کرنا بلاشبہ اچھا عمل ہے لیکن وہ بھی تمہاری زندگی کے دن ہیں غور کر لینا کہ  انہیں کس کام میں گزاررہے ہو۔ 
پہلے فقیہ پھر عالِم پھر عابد: 
(10970)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی  عَلَیْہ ان لوگوں میں سے تھے جو فقیہ بنے پھر عالِم بنے پھر عابد بن گئے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امامُ الفقہاءحضرت سیِّدُنا امام اعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے ، ایک دن آپ نے ایک آدمی کو کاٹا تو حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے فرمایا:  ابو سلیمان!آپ کے ہاتھ اور زبان لمبے ہو گئے ہیں۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آتے جاتے تھے لیکن گفتگو نہیں کیا کرتے تھے ۔ جب آپ نے جان لیا کہ آپ بقدرِ کفایت علم حاصل کر چکے ہیں تو اپنی کتابیں نہرِ فرات میں بہا دیں اور عبادت کی طرف متوجہ ہو کر خلوت نشیں ہو گئے ، حضرت سیِّدُنا زائدہ بن قدامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آپ کے دوست تھے ، ایک مرتبہ آپ کے پاس آئے اور کہا:  ابو سلیمان!
الٓمّٓۚ(۱) غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ(۲) (پ۲۱، الروم: ۱ ، ۲)                  ترجمۂ کنز الایمان: رومی مغلوب ہوئے ۔
	حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیت کے بارے میں پوچھنے پر جواب دیا کرتے تھے لیکن آپ نے فرمایا:  ابو صلت!جواب کا وقت گزر گیا۔ یہ کہہ کر آپ اپنے گھر چلے گئے ۔ 
داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی عظمتوں کا اعتراف: 
(10971)…مقامِ جزیرہ میں رہنے والے حضرت سیِّدُنا وکیع بن جَرَّاح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چچازاد بھائی حضرت سیِّدُنا ابو سفیان عبد الرحیم بن مُطَرِّف رُواسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہوا تو حضرت سیِّدُنا ابو عباس محمد بن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ کا زہد بیان کرتے ہوئے فرمایا : 
 ” اے لوگو! دنیا والے تیزی سے دل کے غموں، نفسانی خواہشات اور بدن کو تھکا دینے میں جلدی کر رہے ہیں حالانکہ حساب سخت ہے ، اہل رغبت کے لیے رغبَتِ دنیا وآخرت میں فائدہ مند ہے اور زاہدین کے لیے زہد دنیا و آخرت میں راحت ہے ، بے شک حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے دل سے اپنے آگے کے معاملے 


________________________________
1 -   مصنف ابن ابی شیبة، کتاب السیر، باب ما ذكر فی الغلول، ۷ / ۷۱۱، حدیث: ۹
2 -   نسائی، کتاب الطھارة، باب ترک الوضوء بعد الغسل، ص۴۸، حدیث: ۲۵۲
3 -   معجم کبیر، ۲۰ / ۴۱۶، حدیث: ۱۰۰۱