Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
320 - 361
کپڑے سیتے اور کسی کو رنگتے دیکھا تو رونے لگے پھر فرمایا:  انہیں دیکھو یہ دنیاوی کاموں میں لگے ہوئے ہیں حتّٰی کہ انہیں موت آجائے گی۔ 
زبان اور ورع وتقوٰی: 
(10933)…حضرت سیِّدُناحسن بن صالحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  ہم نے ورع و تقوٰی کا جائزہ لیا توزبان سے کم ورع وتقوٰی کسی چیز میں نہ پایا۔ 
(10934)…حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: کبھی کبھی میں اس حال میں صبح کرتا ہوں کہ میرے پاس ایک درہم بھی نہیں ہوتا تو ایسا لگتا ہے گویا ساری دنیا سمیٹ کرمیری مٹھی میں رکھ دی گئی ہو۔ 
(10935)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا:  میں نماز کے وقت جب بھی آپ کے پاس آتا آپ پر غشی طاری ہوتی اورآپ جب بھی قبرستان کو دیکھتے تو چیخ مار کر بیہوش ہو جایا کرتے تھے ۔ 
جان لیوا  زخم کا علم بھی نہ ہونے دیا: 
(10936)…حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جب میرے بھائی حضرت علی بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے آسمان کی طرف نظر کی پھر یہ آیت پڑھی: 
مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹) (پ۵، النسآء: ۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان: (تو اُسے ان کا )ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔
	پھر ان کی روح نکل گئی، جب ہم نے ان کے پہلو کی طرف  دیکھا تو وہاں ایک سوراخ تھا جو پیٹ تک جا رہا تھا مگر گھر میں سے کسی کو بھی اس کا علم نہیں تھا۔ 
(10937)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناعلی بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو  فرماتے  سنا: میں نے خواب دیکھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے اورلوگوں کو ایک نیکی کے بدلے 10گنادیا جا رہا ہے ، میں نے یہ بھی دیکھا کہ گویا ایک دن میں نے نصف درہم صدقہ کیا اور میرے ایک دن کے بارے میں لکھا ہے کہ ” نہ مجھے فائدہ ہے اور نہ ہی نقصان۔  “ 
خوف کی شدت: 
(10938)…حضرت سیِّدُنا حُمید رُوَاسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا علی اور حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا  کے پاس تھا اور ایک شخص یہ تلاوت کر رہا تھا: 
لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ     (پ۱۷، الانبیآء: ۱۰۳)	ترجمۂ کنز الایمان: انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ۔ 
	توحضرت سیِّدُنا علی نے حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکو دیکھا جن کی رنگت زرد اور سبز ہورہی تھی، فرمایا: اے حسن! یہ توپے در پے غم ہیں۔ میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی چیخ نکلنے لگی مگر انہوں نے اپنا کپڑا اِکَھٹّا کر کے دانتوں میں دبایاحتّٰی کہ آپ پرسکون ہوگئے اور چیخ رک گئی مگرآپ کا منہ خشک ہو چکا تھااور رنگت سبز وزرد ہورہی تھی۔ 
(10939)…حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  میں نے سنا ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا گیا: 
ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ   (پ۷، المآئدة: ۱۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا۔
	تو آپ کا جوڑ جوڑ ہلنے لگا۔ 
(10940)…حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا لقمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن نے اپنے بیٹے کو یہ آیت سنائی:  
اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُؕ      (پ۲۱، لقمٰن: ۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان: برائی اگر رائی کے دانہ برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں کہیں ہو اللہ  اسے لے آئے گا۔
	بیٹے نے اس میں غور و فکر کیا توانتقال کر گیا۔ 
اچھے اور بُرے عمل کے اثرات: 
(10941)…(الف)حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اچھا عمل بدن میں قوت، دل میں نوراور آنکھوں میں روشنی پیدا کرتا ہے جبکہ بُرا عمل بدن میں کمزوری، دل میں اندھیرا اور  آنکھوں  میں اندھا پن لاتا ہے ۔ 
(10941)…(ب)حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: دن اور رات ہر نئی چیز کو پُرانا کر رہے ہیں ، ہر دور والی چیز کو نزدیک کر رہے ہیں اور ہر وعدے اور وعید کو اپنے ساتھ لا رہے ہیں، دن کہتا ہے :  اے ابن آدم! مجھ سے فائدہ اُٹھا لے ، تجھے نہیں معلوم شاید میرے بعدتجھے کوئی دن نصیب نہ ہو اور رات بھی آدمی سے اسی طرح  کہتی ہے ۔ 
(10942)…حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: تم فقیہ نہیں بن سکتے حتّٰی کہ تم ہراس شخص سے بے پروا نہ ہو جاؤ جس کے ہاتھ میں دنیا ہے ۔ 
(10943)…حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ شیطان بندے کے لئے خیر کے ننانوے دروازے کھولتا ہے اور اس کے ذریعے وہ بُرائی کے  کسی ایک دروازے  پر پہنچانا چاہتا ہے ۔