(10924)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن اُنَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنااور جھوٹی قسم اٹھاناسب سے بڑے گناہ ہیں اورجوشخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سچی قسم کھائے اور اس میں مچھر کے پر برابر جھوٹ شامل کر دے تووہ قسم قیامت تک کے لئے اس کے دل میں سیاہ نکتہ بن جاتی ہے ۔ (1)
(10925)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا: کیا میں تمہیں رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وضو کے بارے میں نہ بتاؤں؟ پھر آپ نے اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔
حضرت سیِّدُنا علی و حضرت سیِّدُنا حسن عَلَیْہِمَا الرَّحْمَہ
ان بزرگوں میں سے عبادت گزاراور فقیہ جُڑواں بھائی حضرت سیِّدُناعلی اور حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح بن حی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا بھی ہیں، انہیں علم، عبادت، قناعت اور زہد کی دولت عطاکی گئی۔
رات کوعبادت میں تقسیم کرنے والا گھرانہ:
(10926)…حضرت سیِّدُنا وکیع بن جَرَّاحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعلی، حضرت سیِّدُنا حسن اور ان کی والدہ محترمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم نے رات کے تین حصے کیے ہوئے تھے حضرت سیِّدُناعلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تہائی رات تک عبادت کرتے پھر سو جاتے پھر حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تہائی رات تک عبادت کرتے اورسو جاتے پھر ان کی والدہ محترمہ تہائی رات تک عبادت کرتیں ، جب ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو دونوں بھائیوں نے رات کو بانٹ لیا پھر وہ اس کے مطابق صبح تک عبادت کرتے پھر حضرت سیِّدُنا علیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا تو حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پوری رات عبادت کرنے لگے ۔
(10927)…حضرت سیِّدُنا عبد القُدُّوس بن بکر بن خُنَیْس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح کے بھائی حضرت سیِّدُناعلی تھے جو حضرت سیِّدُناحسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا پر فضیلت رکھتے تھے ، وہ دونوں بھائی اور ان کی والدہ محترمہ قرآن کی تلاوت کرتے رہتے اورعبادت پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے ، رات
عبادت میں اور دن روزے میں گزارتے ، جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ دونوں اپنے اور اپنی والدہ کے وقت سے بھی رات کی عبادت اور روزے پر ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے ، جب حضرت سیِّدُناعلی کا انتقال ہوا تو حضرت سیِّدُنا حسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا اپنے اور ان دونوں کے وقت میں بھی عبادت کرنے لگے ، حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ” حَيَّةُ الْوَادِيیعنی رات کو نہ سونے والا “ کہا جاتا تھا اور آپ فرمایا کرتے تھے : مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حیا آتی ہے کہ میں بتکلُّف سونے کی کوشش کروں حالانکہ میں نیند کر چکا ہوں، پس اگر میں سو کر اُٹھنے کے بعد پھر سونے کے لئے جاؤں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری آنکھوں کو نہ سلائے ۔ آپ کسی سے کچھ بھی قبول نہیں کیا کرتے تھے ، جب آپ کا بچہ مسجد میں آپ کے پاس آکر کہتا کہ ” مجھے بھوک لگی ہے “ تو آپ اسے کسی چیز سے بہلانے لگتے یہاں تک کہ خادم بازار جاکر وہ سوت فروخت کرتا جوآپ کی کنیز نے رات کو کاتا ہوتا پھر وہ روئی اور تھوڑے سے جَو خرید کر لاتااور کنیز اسے پیس کر آٹا گوندتی پھر روٹی بناتی جسے بچے اور خادم کھا لیتے جبکہ آپ اور آپ کے اہْلِ خانہ کے افطار کے لئے رکھ دیا جاتا، آپ کا یہ معمول ہمیشہ رہا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی آپ پر رحمت ہو۔
خوف و خشیت:
(10928)…سیِّدُناابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: میں نے ایسا کوئی نہیں دیکھا جس کے چہرے پر سیِّدُناحسن بن صالحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے زیادہ خوف وخشیت کاظہورہو، وہ رات کوقیام کرتے اور عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ ( سورۂ نبا) کی تلاوت کرتے تو ان پر غشی طاری ہو جاتی اور اسے ختم بھی نہیں کر پاتے کہ فجر کا وقت ہو جاتا۔
خواہش کے باوجود مچھلی نہ کھائی:
(10929)…حضرت سیِّدُنا سلیمان بن ادریس مُقری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی، جب انہیں پیش کی گئی اور آپ نے اپنا ہاتھ مچھلی کے پیٹ تک بڑھایا تو آپ کا ہاتھ کانپنے لگا، چنانچہ آپ کے حکم پراسے اُٹھا لیا گیا اور آپ نے اس میں سے کچھ نہیں کھایا، کسی نے آپ سے اس کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: جب میں نے مچھلی کے پیٹ پر ہاتھ مارا تو مجھے یاد آگیا کہ انسان کی سب سے پہلے سڑنے والی چیز اس کا پیٹ ہے بس پھر مجھ میں مچھلی چکھنے کی طاقت نہ رہی۔
حقوقُ العباد کی فکر:
(10930)…حضرت سیِّدُناابونُعَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناحسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک باغ کے پاس آئے ، مٹی کاایک ڈھیلالے کر اس سے تیمم کیا پھر باغ والوں کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کران سے فرمایا: میں نے تمہارے باغ سے مٹی کا ڈھیلا لے کر اس سے تیمم کیا ہے لہٰذا مجھے معاف کر دو۔
(10931)…حضرت سیِّدُنا ابوعُتْبَہ عَبّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد نے فرمایا: ہم حضرت سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ کی ایک باندی فرخت کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: لوگوں کو بتا دینا کہ ہمارے ہاں اس کی کھنکھار سے ایک مرتبہ خون نکلا تھا۔
(10932)…حضرت سیِّدُنا اسحاق بن خَلَف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناحسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بازار میں داخل ہوئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا، آپ نے کسی کو
________________________________
1 - ترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب سورة النساء، ۵ / ۱۸، حدیث: ۳۰۳۱۔ ’’بر‘‘ بدله ’’صبر‘‘