(10916)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک رات اور دن کے فرشتے باری باری تمہارے درمیان آتے ہیں اور فجر وعصر کی نمازوں میں جمع ہو جاتے ہیں پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری کے لئے بلند ہو جاتے ہیں، ان سے کہا جاتا ہے : تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے پایا ؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان سے جُدا ہوئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ (1)
(10917)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! میں روزانہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں 70سے زیادہ مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں(2)۔ (3)
(10918)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو گھوڑے سے گر نے (4) کے سبب خراشں آئی تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی(5)۔ (6)
(10919)…حضرت سیِّدُناابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعُمَررَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: کیاہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سوسکتاہے ؟پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ہاں، وہ نماز کا سا وضو کر لے ۔ (7)
قبلہ رو پیشاب کرنے کی ممانعت:
(10920)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن حارث زُبَیْدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مُعلّمِ کائنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا: ” لَا يَبُوْلَنَّ اَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ یعنی تم میں سے کوئی قبلہ رو ہو کر پیشاب نہ کرے ۔ “ اور انہوں نے ہی سب سے پہلے لوگوں کو یہ حدیث بیان کی ہے ۔ (8)
(10921)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے تمام نبیوں کے سروَر، محبوبِ ربِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کواحرام کے لیے احرام باندھنے سے پہلے اوراحرام کھولنے کے لئے طوافِ زیارت سے پہلے خوشبو لگائی(9)۔ (10)
سمندر کے جھاگ برابر گناہوں کی بخشش:
(10922)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی رحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ہر نماز کے بعد33 مرتبہ اَللہُ اَکْبَر، 33مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ، 33مرتبہ سُبْحٰنَ اللہاورایک مرتبہ ” لَا اِلٰهَ اِلَّااللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌیعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اوراسی کی حمد ہے اوروہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “ کہاتو اس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ برابر ہوں۔ (11)
(10923)…حضرت سیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دوعالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: گیہوں سے شراب بنتی ہے ، جو سے شراب بنتی ہے ، کھجور سے شراب بنتی ہے ، کشمش سے شراب بنتی ہے ، شہد سے شراب بنتی ہے اور میں ہر نشہ آور سے منع کرتا ہوں(12)۔ (13)
________________________________
1 - بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکة، ۲ / ۳۸۵، حدیث: ۳۲۲۳
2 - توبہ و استغفار روزے نماز کی طرح عبادت بھی ہے اسی لیے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس پر عامل تھے یا یہ عمل ہم گنہگاروں کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم معصوم ہیں گناہ آپ کے قریب بھی نہیں آتا۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں اور وہ حضرات عبادت کرکے توبہ کرتے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳ / ۳۵۳)
3 - بخاری، کتاب الدعوات، باب استغفار النبی صلی الله علیه وسلم فی الیوم واللیلة، ۴ / ۱۹۰، حدیث: ۶۳۰۷
4 - شیخ(عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی)نے فرمایا کہ یہاں حضور کا گھوڑے سے گر جانا اور کروٹ چھیل جانا بحکْمِ بشریت ہے شیخ کا مطلب یہ کہ معراج میں برق رفتار براق پر سوار ہونا اور آسمانوں کی سیر کرنا بہ تقاضائے مَلَکِیَّت تھا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۲۰۸)
5 - جو رکوع و سجود سے عاجز ہے یعنی وہ کہ کھڑے یا بیٹھے رکوع و سجود کی جگہ اشارہ کرتا ہو، اس کے پیچھے اس کی نماز نہ ہوگی جو رکوع وسجود پر قادر ہے اور اگر بیٹھ کر رکوع و سجود کر سکتا ہو تو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی ہوجائے گی۔
(بہارِ شریعت، حصہ سوم، ۱ / ۵۷۱)
6 - بخاری، کتاب الاذان، باب ایجاب التکبیر وافتتاح الصلاة، ۱ / ۲۶۱، حدیث: ۷۳۳
7 - مسند امام احمد، مسند عمر بن الخطاب، ۱ / ۱۰۰، حدیث: ۳۰۶
8 - ابن ماجہ، کتاب الطھارة وسننھا، باب النهی عن استقبال القبلة بالغائط والبول، ۱ / ۲۰۱، حدیث: ۳۱۷
9 - مفسرشہیر، حکیْمُ الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد4، صفحہ102پراس کے تحت فرماتے ہیں: بقرعیدکے دن حاجی جمرہ عُقبہ کی رمی کرکے کچھ حلال ہوجاتاہے ، پھر طوافِ زیارت کرکے پورا حلال ہوجاتا ہے کہ اسے اپنی عورت سے صحبت بھی جائز ہوجاتی ہے ، (اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)فرماتی ہیں کہ میں ناقص حل پر ہی خوشبو حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو لگادیتی تھی، اس کے بعد آپ(طوافِ) زیارت کرتے تھے ۔
رفیْقُ الْحَرَمَیْن، صفحہ199پربہارشریعت کے حوالے سے ہے کہ(حلق یاتقصیرکے بعد)اب عورت سے صحبت کرنے ، بشہوت اُسے ہاتھ لگانے ، بوسہ لینے ، شرم گاہ دیکھنے کے سوا جو کچھ اِحْرام نے حرام کیا تھا سب حلال ہوگیا۔ (بہارشریعت، حصہ۶، ۱ / ۱۱۴۴)
10 - مسلم، کتاب الحج، باب الطیب للمحرم عند الاحرام، ص۶۰۸، حدیث: ۱۱۸۹
11 - سنن کبری للنسائی، کتاب عمل الیوم واللیلة، باب التسبيح والتكبير الخ، ۶ / ۴۲، حدیث: ۹۹۷۳
12 - ان تمام شرابوں کو خمر فرمانا مجازًا ہے یعنی یہ شرابیں گویا خمر ہی ہیں کہ عقل بگاڑنے بے ہوش و نشہ کردینے میں خمر کا کام کرتی ہے اور ان کے نشہ پر بھی خمر کے نشہ کے احکام جاری ہیں ورنہ خمر صرف شراب انگوری کو کہا جاتا ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۳۳۲)
13 - مسند امام احمد، حدیث النعمان بن بشیر، ۶ / ۳۸۵، حدیث: ۱۸۴۳۵