Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
317 - 361
آپ نے فرمایا:  امیرالمؤمنین!کیا میں ان شرائط پر گفتگو کر سکتا ہوں کہ مجھے جان کی امان ملے اور بے تکلُّف وبے خوف رہوں نیز امیرالمؤمنین میری ہر بات مانیں؟ خلیفہ نے کہا: آپ کی باتیں پوری ہوں گی۔ آپ نے کہا:  امیرالمؤمنین!قرآنِ مجید منگوالیجئے ۔ خلیفہ نے مجھے حکم دیا میں نے پیش کر دیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  امیرالمؤمنین اسے لیں اور اس کے صفحات  پلٹ کر سورۂ رحمٰن نکالیے ہارون رشید نے قرآنِ مجید لیا اور صفحات پلٹ کر سورۂ رحمٰن نکال لی پھر آپ نے کہا:  امیرالمؤمنین اسے پڑھیں تو ہارون رشید اسے پڑھتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے : 
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) (پ۲۷، رحمٰن: ۴۶)                ترجمۂ کنز الایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔
	تو حضرت سیِّدُنالیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا: امیرالمؤمنین! یہیں رُک جائیں۔ وہ رُک گیا، آپ نے کہا:  امیرالمؤمنین کہیں:  خدا کی قسم۔ یہ بات مجھے اور خلیفہ دونوں کو بہت سخت لگی تو خلیفہ ہارون رشید نے ان سے  کہا:  یہ کیا ہے ؟ فرمایا: اے امیرالمؤمنین!میری بات ماننا تو طے ہو چکا تھا۔ یہ سن کر امیرالمؤمنین نے اپنا سر جھکا لیا(اور زبیدہ خاتون مجلس کے قریب حجرے میں پردہ کے پیچھے بیٹھی گفتگو سن رہی تھیں) پھر ہارون رشید نے سر اُٹھا کر آپ کی طرف دیکھااورکہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا: وہ کہ جس رحمٰن ورحیم کے سواکوئی معبود نہیں۔ یہاں تک کہ قسم کے آخری الفاظ تک پہنچتے ہوئے فرمایا: امیرالمؤمنین!کیاآپاللہعَزَّ  وَجَلَّکے حضورکھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں؟کہا: میںاللہعَزَّ وَجَلَّکے حضورکھڑاہونے سے ڈرتاہوں۔ فرمایا: امیرالمؤمنین!پھرتوآپ کے لئے ایک نہیں بلکہ دو جنتیں ہیں جیسا کہ اللہ عَزَّ     وَجَلَّ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایاہے ۔ اُسی وقت میں نے پردے کے پیچھے سے تالی اور فرحت و سرور کی آواز سنی  اور ہارون رشید نے کہا:  خدا کی قسم! بہت خوب، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کو برکت عطا فرمائے ۔ پھر خلیفہ نے حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لئے انعامات اور خلعتوں کا حکم دیااور پھر کہا:  شیخ! آپ جو چاہیں لے لیجئے اور جو چاہیں مانگ لیجئے آپ کی مانگ پوری کی جائے گی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  امیرالمؤمنین! کیا یہ خادم بھی دیا جائے گا جو آپ کے سرہانے کھڑا ہے ؟ اس نے کہا:  یہ خادم بھی۔ آپ نے فرمایا:  امیرالمؤمنین! آپ کی اور آپ کی چچازاد زبیدہ خاتون کی مصر میں موجود جاگیروں پر مجھے مقرر کر کے اسے میرے سپرد کر دیا جائے تا کہ میں اس کے معاملات کی دیکھ بھال کر سکوں؟ خلیفہ نے کہا:  بلکہ ہم وہ آپ ہی کو دے دیتے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  میں اس میں سے کچھ نہیں لینا چاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ امیرالمؤمنین کی جائیداد میرے پاس بطور امانت ہوتاکہ مجھ پرکوئی ظلم نہ کرے اور مجھے اس کی وجہ سے مُعَززگرداناجائے ۔ خلیفہ نے کہا: یہ آپ کاہواپھرخلیفہ نے آپ کے لیے دستاویزلکھنے اوران باتوں کو رجسٹر میں درج کرنے کاحکم دیااور امیرالمؤمنین کے سامنے تمام انعامات، خلعتیں اور خادمین کو پیش کیا گیا اور زبیدہ خاتون نے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس سے دگنا دیا جتنا خلیفہ نے دیا تھا پھر تمام مال آپ کے حوالے کر دیا گیا اور آپ نے مصر لوٹ جانے کی اجازت مانگی تو  آپ کو اعزاز و اکرام کے ساتھ روانہ کیاگیا۔ 
سیِّدُنا لَیْث بن سَعْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مَرویات  
	حضرت سیِّدُنالیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کئی بڑے بڑے تابعین کرام سے روایتیں لی ہیں جن میں حضرت سیِّدُنا عطا بن ابو رباح، حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عُبَـیْدُاللہ بن ابو مُلَیْکَہ اورحضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے غلام حضرت سیِّدُنا نافع رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی بھی شامل ہیں ۔ 
	منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 50سے زائد تابعین اور150تبع تابعین و دیگر نفوسِ قدسیہ سے ملاقات کی ہے ۔ نیز آپ سے بڑے بڑے بزرگوں نے روایات لی ہیں جن میں حضرت سیِّدُنا ہُشَیْم بن بشیر، حضرت سیِّدُنا علی بن غُراب، حضرت سیِّدُنا حَیَّان بن علی عَنَزی، حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مبارک اور مصریوں میں سے حضرت سیِّدُنا اِبْنِلَہِیْعَہ، حضرت سیِّدُنا ہشام بن سعد اور حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن وہب رَحِمَہُمُ اللہُ شامل ہیں۔ 
(10913)…حضرت سیِّدُناجابر بن عبْدُاللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرورِ عالَم، نُوْرِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کشمش اور کھجور ملا کر اور خشک و ترکھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔ (1)
خاتونِ جنت کا مقام ومرتبہ: 
(10914)…حضرت سیِّدُنا مِسْوَر بن مَخْرَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ نبیِ مختار، باذنِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منبر پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا:  بنو ہشام بن مغیرہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابو طالب سے کرنے کی مجھ سے اجازت مانگتے ہیں تو کوئی اجازت نہیں ہے ، کوئی اجازت نہیں ہے ، کوئی اجازت نہیں ہے کیونکہ میری بیٹی فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو چیز اسے بُری لگے وہ مجھے بُری لگتی ہے اور جو چیز اسے ایذا دے وہ  مجھے ایذا دیتی ہے ۔ (2)
(10915)…حضرت سیِّدُنا جابر بن عبْدُاللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابو بُلْتَعَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک غلام بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور ان کی شکایت کرتے ہوئے کہنے لگا:  یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  تم جھوٹے ہو، وہ جہنم میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ غزوۂ بدر اورحُدَیْبِیَہ میں حاضر تھے ۔ (3)
فجروعصر میں فرشتوں کی حاضری: 


________________________________
1 -   مسلم، کتاب الاشربة، باب كراهة انتباذ التمر والزبيب مخلوطين، ص۱۰۹۸، حدیث: ۱۹۸۶
2 -   ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل فاطمة رضی اللّٰہ تعالی عنھا، ۵ / ۴۶۴، حدیث: ۳۸۹۳
3 -   مسلم، کتاب فضائل  الصحابة، باب من فضائل اهل بدر رضی الله عنهم ، ص۱۳۵۶، حدیث: ۲۴۹۵