جو دے دیا اسے واپس نہ لیا:
(10907)…(الف) اسد بن موسٰی کا بیان ہے کہ عبْدُاللہ بن علی بنو امیہ کے لوگوں کو تلاش کرکے قتل کر دیا کرتا تھا، میں خسیس وگھٹیا حالت بنا کر شہر میں داخل ہوا اور حضرت سیِّدُنا لیث بن سعدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیاجب ان کی مجلس سے فارغ ہو کر واپس نکلتے ہوئے دہلیز تک پہنچا تو ان کے خادم نے پیچھے سے کہا: یہیں بیٹھ جاؤ میں آتا ہوں۔ چنانچہ میں بیٹھ گیا جب وہ آیا تو میں اکیلا ہی بیٹھا تھا، اس نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں100دینار تھے ، اس نے کہا: یہ آپ کے لئے میرے مالک کی طرف سے ہیں، انہیں اپنی ضرورت میں خرچ کیجئے اور اپنی حالت درست کر لیجئے ۔ میرے پاس ایک بٹوا تھا جس میں ہزار دینار تھے میں نے بٹوا نکال کر کہا: اس کے ہوتے ہوئے مجھے آپ کے مال کی حاجت نہیں، بس حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے میرے لئے اجازت لے لو، لہٰذا اس نے میرے لئے اجازت لی تو میں اندر گیا اور اپنے خاندان کے بارے میں بتایا اور ان کا مال واپس کرنے کا عذر بیان کیا اورگزشتہ احوال انہیں بتائے تو انہوں نے فرمایا: یہ خیرخواہی کے طور پر ہے صدقہ نہیں ہے ۔ میں نے کہا: مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں غنی ہوں اورپھربھی کسی دوسرے سے مال قبول کروں۔ انہوں نے فرمایا: اپنے ساتھ حدیث پڑھنے والے جن ساتھیوں کو آپ مستحق جانیں یہ انہیں دے دینا وہ مجھ سے کہتے ہی رہے حتّٰی کہ میں نے وہ لے کر لوگوں میں تقسیم کر دیئے ۔
(10907)…(ب)حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جب میں ہارون رشید کے پاس آیا تو اس نے مجھ سے کہا: اے لیث!آپ کے شہر کی بہتری کیا ہے ؟میں نے کہا: امیرالمؤمنین! دریائے نیل کا بہنا اور حاکِمِ شہر کا درست ہونا، گندگی چشمے کی تہہ سے آتی ہے جب وہ صاف ہو جائے تو اس سے بہنے والی نہریں بھی صاف ہو جاتی ہیں۔ خلیفہ نے کہا: اے ابو حارث! آپ نے سچ فرمایا۔
کبھی زکوٰۃ فرض نہ ہوئی:
(10908)…حضرت سیِّدُنا ابن رُمَیْح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی سالانہ آمدنی 80 ہزار دینارتھی لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے کبھی ان پر زکوۃ کا ایک درہم بھی فرض نہ ہوا(یعنی ایسا سخاوت کے سبب ہوتا)۔
(10909)…حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہر سال50 ہزار دینار کا غلہ حاصل کرتے تھے مگر جب سال گزرتا تو آپ پر قرض ہوتا۔
باپ بیٹا دونوں سخی:
(10910)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن عبد اللہ بن بُکَیْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تین اشخاص کو تین ہزار دینار دیئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابنِ لَہِیْعَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا گھر جل گیا تو انہیں ہزار دینار بھیجے ، حضرت سیِّدُنا مالک بن انسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حج کیا اور آپ کی طرف ایک تھال میں کھجوریں بھیجیں تو آپ نے اس تھال کو ہزار دینا ر سے بھر کر واپس بھیجا اور حضرت سیِّدُنا قاضی منصو بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کو ہزار دینار دیئے اور فرمایا: اس کے بارے میں میرے بیٹے کو نہ بتانا کہیں اس کی نظروں میں آپ کی قدر کم نہ ہوجائے ۔ یہ بات آپ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا شعیب بن لیث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کوپتا چلی تو انہوں نے حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کو ایک کم ایک ہزار دیناردیئے اور فرمایا: میں نے ایک دینار اس لیے کم کیاتاکہ میں عطیہ دینے میں اپنے والد بزرگوار کے برابر نہ ہو جاؤں۔
(10911)…حضرت سیِّدُنا حضرت سیِّدُناقُتَیْبَہبن سعیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہر سال20ہزار دینار کا غلہ حاصل کرتے تھے اس کے باوجود ان پر کبھی زکوٰۃ فرض نہ ہوئی اور آپ نے حضرت سیِّدُنا ابنِ لَہِیْعَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ہزار دینار دیئے ، حضرت سیِّدُنا مالک بن انسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ہزار دینار دیئے اور حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کو ہزار دینار اور ساتھ میں تین ہزار دینار کی ایک لونڈی بھی دی۔
فہم وفراست سے مسئلَۂ طلاق کا حل:
(10912)…خلیفہ ہارون رشید کے خادم لؤلؤ کا بیان ہے کہ ہارون رشید اور اس کی چچازاد زبیدہ کے درمیان کسی بات پر تکرار ہوگئی، ہارون رشید نے بے توجہی میں یہ کہہ دیا: ” اگر میں جنتی نہ ہوں تو تجھے طلاق ہے ۔ “ پھر اسے ندامت ہوئی اور اس قَسم کی وجہ سے دونوں ہی غمزدہ ہو گئے اورآنے والی مصیبت کا سوچ کردونوں ہی پریشان ہو گئے ، ہارون رشید نے فقہائے کرام کو جمع کیا اور ان سے اس قسم کے بارے میں پوچھا لیکن اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ ملی پھر اس نے تمام شہروں کے گورنروں کو یہ حکم لکھ بھیجا کہ وہ اپنے اپنے شہروں کے فقہائے کرام کو ہارون رشید کے پاس بھیجیں، جب فقہاءجمع ہو گئے تو خلیفہ نے ان کے لئے مجلس منعقد کی، وہ لوگ اس کے پاس آگئے ، میں خلیفہ کے سامنے ہی کھڑا رہا کہ اگر کوئی معاملہ درپیش ہو تو وہ مجھے حکم دے دیں، چنانچہ خلیفہ نے فقہاءسے اپنی قسم کے بارے میں پوچھاکہ کیا اس سے خلاصی کی کوئی صورت ہے ، میں نے خلیفہ کی بات کی ترجمانی کر کے فقہاء کے سامنے بیان کیا، فقہائے کرام اسے مختلف جوابات دیتے اس وقت ان فقہاءکے درمیان مصرسے بُلائے جانے والوں میں حضرت سیِّدُنالیث بن سعدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی تھے جو مجلس کے آخر میں خاموش بیٹھے تھے ، خلیفہ فرداً فرداً ہر فقیہ کو توجہ دے رہا تھا کہنے لگا: وہ شیخ رہ گئے جو مجلس کے آخر میں بیٹھے ہیں انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ میں نے ان سے کہا: امیرالمؤمنین آپ سے کہہ رہے ہیں کہ آپ کلام کیوں نہیں کر رہے جیسے آپ کے ساتھی کلام کر رہے ہیں؟ فرمایا: امیرالمؤمنین فقہائے کرام کی باتیں سن چکے ہیں اور ان میں کئی باتیں قابل قبول ہیں۔ ہارون رشید نے کہا: ان سے کہو کہ امیرالمؤمنین کہہ رہے ہیں: اگر ہماری یہی خواہش ہوتی تو اپنے فقہاءسے ہی سن لیتے اور تمہیں تمہارے شہروں سے نہ بلواتے اور نہ ہی آپ کو اس مجلس میں لایا جاتا۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر امیرالمؤمنین اس معاملے میں میری بات سننا چاہیں تو اپنی مجلس کو خالی کر دیں۔ لہٰذا خلیفہ کی مجلس میں جو فقہاء اور دیگر لوگ تھے وہ چلے گئے ۔ پھر خلیفہ نے کہا: آپ گفتگو کیجئے ۔ حضرت سیِّدُنا لیث بن سعدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: کیا امیرالمؤمنین مجھے اپنے نزدیک کر سکتے ہیں؟ ہارون رشید نے کہا: اس خادم کے سوا اور کوئی نہیں ہے اور اس کا ہونا آپ کو کوئی نقصان نہیں دے گا۔