وہ اٹھ کر گئی ہی تھی کہ ابو قسیمہ آئے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کان میں کچھ کہا، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ سے کیا کہا پھر آپ نے ان کی طرف سراٹھا کرکہا: جاؤاوراسے مشکیزہ بھر شہد دو، اس نے اپنی حیثیت کے مطابق سوال کیا ہے اور ہم اسے اپنی حیثیت کے مطابق دیں گے ۔ مشکیزہ فَرَق(ایک پیمانہ)جتنا ہوتاہے اور فَرَق120رطل(تقریباً47کلو239گرام) کا ہوتا ہے ۔
(1-10900)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن حماد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت سیِّدُنا لیث بن سعدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آ کر کہا: میرے بھائی کے لئے شہد کی تجویز دی گئی ہے لہٰذا آپ مجھے ایک پلیٹ شہد دے دیجئے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اے لڑکے ! اس عورت کی پلیٹ شہد سے بھر دو اور ایک مشک شہد اوربھی دے دو۔ لڑکے نے کہا: اس عورت نے تو ایک پلیٹ شہد مانگا ہے ؟ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے ہم اپنی حیثیت کے مطابق دیں گے اور یہی میری شان کے لائق ہے کیونکہ میں اصبہانی ہوں۔
وعظ کرنے والے پر نوازشات:
(10902)…حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کا بیان ہے کہ جب شہر میں کوئی وعظ کرتا تو حضرت سیِّدُنالیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کی تفتیش کیا کرتے تھے ، ایک دن میں نے جامع مسجد میں وعظ کیا تو مسجد کے دروازے سے دو مرد اندر آئے اور شریکِ درس لوگوں کے پاس کھڑے ہو کر پوچھا: وعظ کس نے کیا؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کر دیا۔ انہوں نے کہا: حضرت سیِّدُنا ابو حارث لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ کو بلایا ہے ۔ میں نے کھڑے ہو کر کہا: ہائے خرابی! شہر میں مجھے ایسا معاملہ درپیش ہوگیا۔ پھر میں حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا اور سلام کیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا مسجد میں آپ نے وعظ کیا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ۔ آپ نے مجھے سے فرمایا: بیٹھو اور جو وعظ آپ نے کیا تھا وہ میرے سامنے دہراؤ۔ میں نے آپ کے سامنے وہی وعظ شروع کر دیا، آپ پر رقت طاری ہوگئی اورآپ رونے لگے جبکہ میری پریشانی ختم ہو گئی، پھر میں جنت و دوزخ کے بارے میں وعظ کرنے لگا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اتنا روئے کہ مجھے آپ پر رحم آگیا پھر آپ نے مجھے اپنے ہاتھ کے اشارے سے رُک جانے کو کہا اور پوچھا: تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا: منصور۔ پوچھا: کس کے بیٹے ہو؟ میں نے کہا: عمار کا بیٹا ہوں۔ پوچھا: کیا تم ابو سَرِی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے مجھے موت نہ دی حتّٰی کہ میں نے تمہیں دیکھ لیا۔ پھر آواز لگائی: اے لونڈی!۔ وہ آپ کے سامنے آکھڑی ہوئی تو اس سے فرمایا: اس اس طرح کی جو تھیلی رکھی ہے وہ میرے پاس لے آؤ، وہ تھیلی لے آئی، اس میں ایک ہزاردینارتھے ، آپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا: ابو سری! لیجئے یہ آپ کے لئے ہے ، اس وعظ کی حفاظت کرنا کہیں اس کی وجہ سے حکمرانوں کے دروازوں پر کھڑے نہ ہوجانا، تمام جہانوں کے رب کی حمد کرنے کے بعد اب مخلوق میں سے کسی کی بھی مدح سرائی ہر گز نہ کرنااور آپ کو ہر سال اتنامال پیش کیا جائے گا۔ میں نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے !اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے انعام و اکرام سے نوازا۔ انہوں نے فرمایا: میں نے جو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں کرنا۔ یہ سن کر میں نے وہ مال لیا اور وہاں سے جانے لگا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس آنے میں زیادہ عرصہ نہ لگانا۔ جب دوسرا جمعہ آیا تو میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس گیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: کچھ بیان کیجئے ۔ میں نے وہیں وعظ شروع کر دیا، جسے سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خوب روئے ، جب میں نے کھڑا ہونا چاہا تو آپ نے فرمایا: دیکھو تکیے کے اندر کیا ہے ؟ جب دیکھا تو اس میں500دینار تھے ، میں نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ، میں پچھلی مرتبہ میں ہی آپ کی خیرخواہی کو جان چکا ہوں۔ فرمایا: میں آپ کو جو دوں اس میں سے کچھ بھی مجھے واپس مت کرنا، یہ بتاؤ اب کب ملنے آؤ گے ؟ میں نے کہا: آنے والے جمعے کو۔ فرمایا: تم نے تو گویا میرے جسم کا کوئی ٹکڑا چور چور کر دیاہے ۔ جب اگلا جمعہ آیا تو میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو الوداع کہنے آیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: وہ سنائیے جس کے سبب میں تمہیں یاد رکھوں۔ میں نے وعظ کیا تو آپ زاروقطار رونے لگے پھر فرمایا: منصور! دیکھو تکیے میں کیا ہے ؟ میں نے دیکھا تو وہاں 300دینار تھے ، آپ نے فرمایا: ان سے حج کر لینا۔ پھر اپنی لونڈی کو آواز لگائی کہ منصور کے احرام کے لیے کپڑے لے آؤ۔ وہ ایک تہبند لائی جس میں40کپڑے تھے ، میں نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے میرے لئے دو ہی کپڑے کافی ہیں تو انہوں نے کہا: آپ عزت دارآدمی ہیں، جو لوگ آپ کے ساتھ ہوں انہیں دے دیجئے گا ۔ پھرجو لونڈی کپڑے اُٹھائے ہوئے تھی اس کے متعلق فرمایا : یہ لونڈی بھی آپ کی ہوئی۔
(10903)…حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا ان کے پاس ایک خادم کھڑا تھا آپ نے اسے اشارہ کیا تو وہ چلا گیا پھر آپ نے اپنا ہاتھ مصلے پر مارا اور اس کے نیچے سے ایک تھیلی نکالی جس میں ایک ہزار دینار تھے وہ تھیلی میری طرف بڑھا دی اور فرمایا: اے ابو سری! اس کے بارے میں میرے بیٹے کو نہ بتانا کہیں اس کی نظروں میں آپ کی قدر کم نہ ہوجائے ۔
کھاناکبھی اکیلے نہ کھایا:
(10904)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن صالحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ذکر کرتے ہیں کہ میں20 سال تک حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں رہا، آپ صبح و شام کا کوئی بھی کھانا اکیلے نہ کھاتے بلکہ لوگوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھاتے تھے اور بیماری کی حالت کے علاوہ گوشت نہیں کھاتے تھے ۔
(10905)…حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو ان کے کسی دوست نے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ملکِ فارِس (ایران)کے شہر اَصبہان کے رہنے والے تھے ۔
(10906)…حضرت سیِّدُنا ابن زُغبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا: ہم اصبہان والے ہیں لہٰذا تم اصبہان والوں کے ساتھ اچھا برتاؤرکھنا۔