Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
314 - 361
(10894)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ میرے سرتاج، صاحبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ” اللہعَزَّ  وَجَلَّنے سب سے پہلے عقل کوپیدا فرمایا۔ (1) اس سے فرمایا: آگے آتووہ آگے آگئی۔ فرمایا: پیچھے جاتووہ پیچھے چلی گئی۔ پھراللہعَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: میں نے تجھے سے زیادہ اچھی کوئی شے نہیں بنائی، میں تیرے ہی سبب پکڑوں گا، تیرے ہی سبب عطا کروں گا۔  “ (2)پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جس کے لئے اس کے دل  کی طرف سے نصیحت کرنے والاہوتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے اس کے لئے ایک نگہبان ہوتا ہے (3)اور جو خود کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت کے لئے جھکائے تو وہ ان سے  زیادہ عزت و شرف والا ہوتا ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی سے عزت پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (4)پھر فرمایا:  ” میری اُمَّت کے بدترین لوگ وہ ہیں جو نعمتوں میں رہتے ہیں اور قسم قسم کے کھانے کھاتے ، طرح طرح کے  کپڑے پہنتے ، فضول گوئی کرتے اور بانچھیں کھول کھول کر باتیں کرتے ہیں(5) اورمیری اُمّت کے بہترین افراد وہ ہیں جن سے بُرائی سرزد ہو جائے تو استغفار کرتے ہیں، جب نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اورجب سفر کرتے ہیں تو نمازمیں قصر کرتے  اور روزہ چھوڑ دیتے ہیں۔ (6)
٭…٭…٭…٭
سوال: عرش کاطواف کرنے والے فرشتوں کوکیاکہتے ہیں؟جواب: جوملائکہ عرش کاطواف کرنے والے ہیں انہیں کَرُّوبی(کر، رُو، بی)کہتے ہیں اوریہ ملائکہ میں صاحِبِ سِیادَت ہیں۔
 (خزائن العرفان، پ۲۴، المؤمن، تحت الآیہ: ۷)
حضرت سیِّدُنالَیْث بن سَعْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	ان عابد و زاہدبُزرگوں میں سے ایک بزرگ پوشیدہ سخاوت کرنے والے ، پائے کے عالم اور زبردست سخی  حضرتسیِّدُناابوحارث لیث بن سعدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی ہیں۔ آپ عرصہ دراز تک احکام سکھاتے اور مال لٹاتے رہے ۔ 
	منقول ہے کہ سخاوت اوروفاکانام تصوُّف ہے ۔ 
(10895)…حضرت سیِّدُنا ابوحفص عمرو بن ابوسلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد نے ایک مسئلے میں گفتگو کی تو ایک شخص نے کہا:  اے ابو حارث! آپ کی کتاب میں اس کے برعکس ہے ۔ آپ نے فرمایا:  میری کتاب میں یا ہماری کتابوں میں؟اور  جوبات  بھی ہماری نظر سے گزرتی ہے ہم اپنی سمجھ بوجھ اور گفتگو کے ذریعے اس کی اصلاح کرلیتے ہیں۔ 
(10896)…حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ احادیث وروایات کی پیروی کرنے والے ہیں۔ 
سوال سے  بڑھ کر سخاوت: 
(10897)…حضرت سیِّدُنا ابو صالح عبداللہبن صالحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا بیان ہے کہ ہم حضرت سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دروازے پر تھے ، آپ نے ہمیں اندر داخل ہونے سے منع کیا تو ہم کہنے لگے :  یہ ہمارے دوست جیسے نہیں ہیں۔ حضرت سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہماری گفتگو سنی تو ہمیں اپنے پاس اندر بلا لیا اورپوچھا:  تمہارے دوست کون ہیں؟ ہم نے کہا:  لیث بن سعد۔ آپ نے فرمایا:  تم مجھے اس ہستی سے تشبیہ دے رہے ہو جن کی طرف ہم نے خط لکھاکہ ” ہمیں اپنے بچوں کے کپڑے رنگنے کے لئے تھوڑا سا زرد رنگ چاہئے  “ تو انہوں نے اتنا رنگ بھیجا کہ اس سے ہم  نے اپنے  بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے کپڑے اور اپنے پڑوسیوں کے کپڑے بھی رنگ لیے  اور اتنا باقی بچا  کہ اسے ہم نے ایک ہزاردینار میں فروخت کیا۔ 
(10898)…حضرت سیِّدُناقُتَیْبَہبن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہمراہ اسکندریہ سے اس طرح لوٹے  کہ ان کے ساتھ تین کشتیاں تھیں، ایک میں آپ  کا باورچی خانہ تھا، دوسری میں آپ  کے اہل و عیال تھے اور تیسری کشتی میں آپ کے مہمان تھے ۔ 
(10899)…حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک عورت پیالہ لے کرآئی اورعرض کرنے لگی:  ابو حارث! میرے شوہر بیمار ہیں اوران کے لئے شہد بتایا گیا ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  ابو قسیمہ کے پاس جا کر کہو وہ تمہیں ایک مشکیزہ شہد دے دیں گے پس 


________________________________
1 -   حضرت سیِّدُنا علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: یہ اولیّت اضافی ہے یعنی عرش، پانی ہوا اور لوحِ محفوظ کی پیدائش کے بعد جو چیز سب سے پہلے پیدا ہوئی وہ قلم(یا عقل) ہے جبکہ وہ روایت کہ سب سے پہلے نورِمحمدی پیدا ہوا، وہاں اولیّت حقیقیہ مراد ہے ۔ (مرقاة المفاتيح، ۱ / ۲۸۹، ۲۹۰، تحت الحدیث: ۹۴) ” سیرۃ حلبیہ “ میں ہے : ایک روایت میں ہے کہ  ” اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا “ جبکہ دوسری روایت میں ہے کہ ” سب سے پہلے عقل کو پیدا فرمایا “ حضرت سیِّدُنا شیخ علی خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ان دونوں سے مراد ایک ہی بات ہے کیونکہ حُضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حقیقت کو کبھی عقل اول سے تعبیر کیا جاتا ہے اور کبھی نور سے ۔ (سیرة الحلبية، باب بنیان قریش الکعبة شرفها الله ، ۱ / ۲۱۴)
2 -   مسند الفردوس، ۱ / ۲۹، حدیث: ۴
3 -   مسند الفردوس، ۱ / ۲۹، حدیث: ۴
4 -   جامع صغیر، ص۵۱۰، حدیث: ۸۳۷۴
5 -   الکامل لابن عدی، ۷ / ۴، رقم:  ۱۴۶۶،  عبد الحميد بن جعفر بن الحكم الانصاری، دون قولہ:  ”  الثرثارون “ 
6 -   معجم اوسط، ۵ / ۵۳، حدیث: ۶۵۵۸