(10884)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبُری تقدیر، دشمنوں کے طعن وتشنیع، بد بختی کے پہنچنے اور سخت مصیبت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے تھے ۔
(10885)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم ایسے زمانے میں ہو کہ تم میں سے جس نے اس چیز کا دسواں حصہ بھی چھوڑ دیا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ ہلاک ہوجائے گاپھر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جو اس چیز میں سے دسویں حصے پر عمل کر ے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہو گاتو وہ نجات پاجائے گا۔ (1)
(10886)…حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ ” جس نے جنابت کی حالت میں صبح کی اس کاروزہ نہیں “ یہ میں نہیں کہتابلکہ ربِّ کعبہ کی قسم!یہ رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمان ہے (2)۔ (3)
قبروں کو سجدہ گاہ نہ بناؤ:
(10887)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میری قبر کو بُت نہ بنانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ (4)
(10888)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سے پوچھا : حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے دو مدّتوں میں سے کون سی مدّت کو پورا کیا؟ عرض کی: جو ان میں کامل و اکمل تھی(5)۔ (6)
کم گو کی صحبت اِختیار کرو:
(10889)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مُعلّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب تم دیکھو کہ کسی بندے کو دنیا سے بے رغبتی اور کم گوئی کی نعمت دی گئی ہے تو اس کے نزدیک ہو جاؤ کیونکہ اسے حکمت دی جاتی ہے ۔ (7)
سب سے بڑی بیماری:
(10890)…حضرت سیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مکی مدنی سلطان، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: اے بنو سلمہ!تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے کہا: جد بن قیس اور ہم اسے بخیل سمجھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: بخل سے بڑی اور کون سی بیماری ہوگی، بلکہ تمہارے سردار عزت وشرف اور سخاوت والے عَمْرو بن جَمُوْح ہیں۔ (8)
(10891)…حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ مُعلّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وضو کے دوران اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ (9)
(10892)…حضرت سیِّدُنا ابو موسٰی اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ دو جہاں، مالک کون و مکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (10)
کافر مسلم کاوارث نہیں:
(10893)…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ محبوبِ پروردگار، دو عالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ یعنی مسلمان کافر کا وارث نہیں اور کافر مسلمان کا وارث نہیں۔ (11)
سب سے پہلے کسے پیدا کیا؟
________________________________
1 - الکامل لابن عدی، ۸ / ۲۵۳، رقم: ۱۹۵۹، نعيم بن حماد المروزی خزاعی
2 - حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ كی یہ بات اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ اور اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم احتلام کے بغیر حالتِ جنابت میں صبح کرتے تو روزے رکھتے ۔ جب حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اُمُّ المؤمنین کی یہ بات بتائی گئی تو انہوں نے اپنی بات سے رجوع کیا اور فرمایا: میں نے یہ بات براہِ راست حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نہیں سنی تھی بلکہ حضرت فضل بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بتائی تھی۔ (ماخوذ از مسلم، ص ۵۵۹، حدیث: ۱۱۰۹)
3 - مسلم، کتاب الصیام، باب صحة الصوم الخ، ص ۵۵۹، حدیث: ۱۱۰۹
4 - مسند الفردوس، ۲ / ۴۱۴، حدیث: ۷۵۳۱
5 - (مذکورہ بالا روایت میں دو مدّتوں سے مراد آٹھ اور دس سال ہیں یعنی)شعیب عَلَیْہِ السَّلَام نے جو موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے شرط لگائی تھی کہ تم آٹھ یا دس سال تک میرا کام کرو یہ شرط نکاح سے پہلی تھی۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۳۱)
6 - مسند حمیدی، احادیث ابن عباس، ۱ / ۴۶۲، حدیث: ۵۴۵
7 - ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الزھد فی الدنیا، ۴ / ۴۲۲، حدیث: ۴۱۰۱، عن ابی خلاد
8 - شعب الایمان، باب فی الجود و السخاء، ۷ / ۴۳۱، حدیث: ۱۰۸۵۹
9 - معجم اوسط، ۲ / ۳۱، حدیث: ۲۳۹۵
10 - مسلم، کتاب الامارة، باب فضیلة الامام العادل...الخ، ۱۰۱۶، حدیث: ۱۸۲۹
11 - مسلم، کتاب الفرائض، باب الحقوا الفرائض الخ ، ص۸۷۱، حدیث: ۱۶۱۴، عن اسامة بن زید