کے دن ہر تعلُّق اورنسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے تعلق اور نسب کے ۔ “ (1)
صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام:
(10875)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبَیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا: امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام عبداللہ بن عثمان تھا پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں ” عَتِیْقًا مِّنَ النَّار(یعنی آتِشِ جہنم سے آزاد) “ کالقب عطا فرمایا۔ (2)
(10876)…حضرت سیِّدُنا شریک بن نَمْلہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مہمان بنا تو انہوں نے اونٹ کی ٹھنڈی سری کے ٹکڑوں سے میری ضیافت کی اور ہمیں زیتون کھلا کر فرمایا: یہی وہ بابرکت زیتون ہے جس کا ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کیا ہے ۔
(10877)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرورِ کونین، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: گروی رکھنامرہون چیزکواس کے گروی رکھنے والے مالک سے نہیں روکتااُس کے لئے اس مرہون کانفع ہے اوراس ہی پرمرہون کاتاوان(3)۔ (4)
حق آیا اور باطل مٹ گیا:
(10878)…حضرت سیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَکۂ مکرمہ میں داخل ہوئے تو بَیْتُاللہ کے ارد گرد 360 بت تھے ، آپ اپنی چھڑی ان بتوں کو مارتے اور فرماتے : جَاءَ الْحَقُّ وَ زَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا، جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِءُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ یعنی حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز تھی، حق آگیا اور باطل اب نہ نئے سرے سے کھڑا ہو گا اورنہ لوٹ کر آئے گا۔ (5)
شانِ صدیق اکبر:
(10879)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيْلًا لَاتَّخَذْتُ اَبَابَكْرٍ خَلِيْلًا یعنی اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو دوست بناتا(6)۔ (7)
کمزور کی حق تلفی کا وبال:
(10880)…حضرت سیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رحمَتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تومہاجرین کو یہاں گھر دیئے اور ابن مسعود کو بھی ایک حصہ دیا توآپ کے صحابہ نے عرض کی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!انہیں ہم سے الگ رکھیے ۔ آپ نے ارشادفرمایا: تو پھر مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بھیجا کیوں ہے ؟بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس اُمَّت کو پاک نہیں فرماتا جس میں کمزور کو حق نہ دیا جائے ۔ (8)
(10881)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا میمونہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا بیان ہے کہ تمام نبیوں کے سروَر، محبوبِ ربِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے اس حال میں نکاح فرمایا کہ آپ حالتِ احرام میں نہیں تھے ۔
(10882)…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے مُعَلِّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، حضرت سیِّدُنا ابو بکر، حضرت سیِّدُنا عمراور حضرت سیِّدُنا عثمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے پیچھے نماز پڑھی، سب قرأت کی ابتدا ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ “ سے کیا کرتے تھے ۔
قبیلہ اَسلم و بنوغِفار کی فضیلت:
(10883)…حضرت سیِّدُناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ حضور نبیّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قبیلہ اسلم کو سلامت رکھا اورقبیلہ غفار کی مغفرت فرمائی۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے ۔ (9)
________________________________
1 - معجم اوسط، ۴ / ۱۷۰، حدیث: ۵۶۰۶
2 - معجم کبیر، ۱ / ۵۳، حدیث: ۷
3 - یعنی گروی چیزکے منافع مالک کے ہوں گے اوراس کے تمام مصارف مالک ہی کے ہوں گے وہ رہن قرض خواہ کے پاس بطورِامانت مقبوض(قبضہ میں) رہے گا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۴ / ۲۸۷)
4 - مسند امام شافعی، ومن کتاب الرھن، ص۱۴۸
5 - مسلم، کتاب الجھاد والسیر، باب ازالة الاصنام من حول الكعبة، ص۹۸۴، حدیث: ۱۷۸۱
6 - خلیل یا تو بنا ہے خُلَّت خ کے پیش سے بمعنیٰ دلی دوست جس کی محبت دل کی گہرائی میں اُتر جاوے ، حضور کا ایسا محبوب صرف اللہ ہی ہے ، یا بنا ہے خَلَّت خ کے فتحہ سے بمعنیٰ حاجت یعنی وہ دوست جس پر توکل کیا جاوے اور ضرورت کے وقت اس سے مشکل کشائی حاجت روائی کرائی جاوے ، حضور انور کا ایسا کارساز حاجت روا محبوب سواء خدا کے کوئی نہیں ورنہ اصل محبت حضور کو جنا ب صدیق سے بہت ہی ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۸ / ۳۴۶)
7 - مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل ابی بکر الصدیق، ، ص۱۲۹۹، حدیث: ۲۳۸۳
8 - معجم اوسط، ۳ / ۴۰۳، حدیث: ۴۹۴۹
9 - مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب دعاء النبی لغفار واسلم، ص۱۳۶۴، حدیث: ۲۵۱۶، عن ابی ھریرة