Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
311 - 361
اعرابی نے عرض کی:  یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپکیافرمارہے ہیں؟ارشادفرمایا:  ” یہباتتمہارے اورتمہارے ساتھیوںکے لئے نہیں ہے (1)۔  “ (2)
(10869)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ان سے حضور نبی رحمت، شفیْعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کویہ ارشادفرماتے نہ سنا ہو کہ  ” اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایک قوم کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل فرمادے گا۔  “ (3)
دعاسے پہلے عطا: 
(10870)…حضرت سیِّدُنا حُذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حبیب، حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ” جو میری یاد کی وجہ سے مجھ سے نہ مانگ سکے میں اسے مانگنے سے پہلے  ہی عطا کردیتا ہوں۔  “ (4)
	اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمان:  
وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا (پ۲۰، القصص: ۴۶)	ترجمۂ کنز الایمان: اور نہ تم طور کے کنارے تھے جب ہم نے ندا فرمائی۔
	کی تفسیر میں فرمایا: تمہیں یہ ندا دی گئی تھی کہ ” اے اُمَّتِ محمدیہ!ابھی تم نے دعا کی بھی نہ تھی کہ ہم نے قبول کر لی اور تمہارے مانگنے سے پہلے ہی ہم نے تمہیں عطاکردیا۔  “ (5)
داخلِ جنت کرنے والاعمل: 
(10871)…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی:  مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جس کے سبب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے جنت میں داخل فرمادے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے فرمایا:  کیاتمہیں کسی نے ایسا کوئی عمل سکھایا ہے ؟ اس نے عرض کی:  نہیں۔ ارشاد فرمایا:  رکوع و سجود کی کثرت سے میری مدد کرو۔ (6)
(10872)…حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ لوگ حضور نبی اکرم، شَفیعِ مُعظّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے رہے یہاں تک کہ یہ آیات نازل ہو ئیں:  
فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ(۴۳) اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ(۴۴) (پ۳۰، النٰزعٰت: ۴۳، ۴۴)	ترجمۂ کنز الایمان: تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے ۔
	حضرت سیِّدُنا حافِظ ابو نُعَیْم اَصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا:  میرے علم میں نہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علاوہ کسی نے حضرت سیِّدُنا امام زہری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اسے روایت کیا ہو۔ 
عاشِقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایک دن کے ا عمال:  
(10873)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ راحَتُ العاشقین، خاتَمُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک دن اپنے صحابہ سے ارشاد فرمایا:  آج تم میں سے کس نے روزے کی حالت میں صبح کی؟ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: میں نے ۔ پھر فرمایا:  تم میں سے آج کس نے صدقہ کیا؟حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: میں نے ۔ پھر فرمایا:  تم میں سے آج مریض کی عیادت کس نے کی؟ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: میں نے ۔  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  میں امید کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہونے والوں میں سے نہیں ہو گے ۔ (7)
(10874)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ” قیامت 


________________________________
1 -   علامہ ابن رجب حنبلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: یہاں وترسے آپعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَام کی مرادرات کی نمازہے ۔ (فتح الباری لابن رجب، ۹ / ۱۱۶، تحت الحدیث: ۹۹۱، مکتبة العربا ء الاثريه ۱۴۱۷)۔ علامہ بدرالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں: اس حدیث کا ایک جواب یہ بھی دیا گیاہے کہ یہ معاملہ وتر واجب ہونے سے پہلے کا ہے ۔ (شرح ابو داود للعینی، ۵ / ۳۲۴، تحت الحدیث:  ۱۳۸۷ح)۔ 
	علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:  ” اے قرآن والو! “  سے مراد ” اے قرآن پر ایمان رکھنے والو “ ہے کیونکہ قرآن والا ہونا عام ہے یہ قرآن پر ایمان رکھنے والے ہر شخص  کو شامل ہے چاہے وہ تلاوت کرے یا نہ کرے ، اگرچہ ان میں سے کامل ترین وہ  ہے جس نے قرآن پڑھایاحفظ کیا اور اسے سیکھ کر اس پرعمل کیا یعنی قیام کی حالت میں اس کی تلاوت کی اور اس کے حدود و احکام کی پاسداری کی۔ حضرت سیِّدُناتور بشتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  کیونکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ رضائے الٰہی کے طلبگار رہتے ہیں اور اس کی محبت کو ترجیح دیتے ہیں۔ امام طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: شاید اہل قرآن کی تخصیض قرآن والے مقام میں اس لئے ہے کہ نزولِ قرآن کا سبب توحید کوپختہ کرنا ہی ہے ۔ (مرقاة المفاتيح ، کتاب الصلاة، باب الوتر، ۳ / ۳۳۹، تحت الحدیث: ۱۲۶۶)
2 -   ابن ماجہ، کتاب اقامة الصلاة، باب ماجاء فی الوتر، ۲ / ۴۶، حدیث: ۱۱۷۰
3 -   ابن حبان، باب صفة النارواهلها، ۹ / ۲۸۳، حدیث: ۷۴۴۰، بتغیر قلیل
4 -   مسند الفردوس، ۲ / ۱۳۸، حدیث: ۴۴۷۸
5 -   مستدرک حاکم، کتاب التفسیر، باب دعاء ابن عمرفی رکوعہ، ۳ / ۱۷۷، حدیث: ۳۵۸۸، عن ابی ھریرة
6 -   مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الصلاة، باب الرکوع والسجود افضل ام القیام، ۲  /  ۳۶۰، حدیث: ۸ بتغير عن ابى مصعب الاسلمى
7 -   مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل ابی بکر الصدیق، ص۱۳۰۱، حدیث: ۲۳۸۷، بدون بعض الفاظ