مال میں ناحق تصَرُّف کرنے والے بہت سے لوگوں کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات والے دن جہنم کی آگ ہو گی۔
راوی کابیان ہے : حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکبھی کبھی ” يَوْمَ الْقِيَامَةِیعنی قیامت کے دن “ کے الفاظ بھی کہتے تھے ۔ (1)
صور پھونکنے والافرشتہ حکم کا منتظر ہے :
(10862)…حضرت سیِّدُناابوسعیدخدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والا فرشتہ منہ میں صور لئے پیشانی جھکائے کان لگائے انتظار میں ہے کہ کب صور پھونکنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ “ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: یہ پڑھو ” حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم کوکافی ہے اور کیا اچھا کارساز، ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا(2)۔ “ (3)
(10863)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” روزِ قیامتاللہتعالیٰ کے نزدیک سب سے بُرے نام والا وہ شخص ہو گا جس نے اپنا نام ” مَلِکُ الْاَمْلَاک(یعنی شہنشاہ) “ رکھاہو گا۔ ‘‘ (4)
سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عاجزی وانکساری:
(10864)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غلاموں کی دعوت قبول کیا کرتے ، سواری پر اپنے پیچھے دوسروں کو سوار کر لیتے اور آپ کا کھانا زمین پررکھا جاتا۔
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یا کسی دوسرے راوی نے یہ بھی بیان کیا: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھانا تناوُل فرماکر انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے ۔ (5)
جنت کا مژدہ:
(10865)…حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنامعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے وقت حاضر رہنے والے ایک شخص نے مجھے خبر دی کہ حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میرے سامنے سے خیمے کا پردہ ہٹا دو تا کہ میں تمہیں وہ حدیث سنا سکوں جو میں نے حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی تھی اور وہ میں نے تمہیں اس اندیشے سے نہیں سنائی تھیکہ کہیں تم عمل سے غافل نہ ہو جاؤ، میں نے حضور رحمتِ عالَم، نُوْرِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا: جس نے اخلاص اور دلی یقین کے ساتھ ” لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ “ کہا وہ جنت میں جائے گا اور اسے جہنم کی آگ نہ چھوئے گی۔ (6)
شرابی کو کوڑے لگائے :
(10866)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی آپ نے ارشاد فرمایا: اسے کوڑے لگاؤ، اگردوبارہ پیئے تو اسے کوڑے لگانا، اگر پھر پیئے تو اسے پھر کوڑے لگانا، پھر اگر یہ چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کر دینا۔ جب(چوتھی مرتبہ )اسے بارگاہِ رسالت میں لایاگیاتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے کوڑے لگوائے ۔ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: پس قتل کا حکم اُٹھ گیا اور رخصت ہو گئی۔ (7)
مسجدکی تزیین و آرائش:
(10867)…حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ شہنشاہِ کون و مکاں، سرورِ ذیشاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” مجھے مسجدیں آراستہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ “ (8) حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ’’تم بھی مسجدوں کی تزیین وآرائش کرو گے جیسے یہود و نصاریٰ کرتے ہیں۔ (9)‘‘(10)
(10868)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن، خَاتَمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” اے قرآن والو!وتر پڑھا کرو۔ “ ایک
________________________________
1 - مسند حمیدی، احادیث خولة بنت قیس، ۱ / ۳۴۷، حدیث: ۳۵۶
2 - مفسر شہیرحکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد7، صفحہ361 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یہ كلمات بڑے مبارك ہيں جب حضرت خَلِیْلُاللہ(عَلَیْہِ السَّلَام) نمرود کی آگ میں جا رہے تھے تو آپ کی زبان شریف پر یہ ہی کلمات تھے اور جب صحابَۂ کرام کو خبر پہنچی کہ کفار ہمارے مقابلے کے لئے بڑی تعداد میں جمع ہوئے ہیں تو انہوں نے بھی یہی کلمات کہے یہ کلمات مصیبتوں تکلیفوں میں بہت ہی کام آتے ہیں (مرقات) ہر مصیبت میں یہ کلمات پڑھنے چاہئیں۔
3 - ترمذی ، کتاب صفة القیامة، باب ما جاء فی شان الصور، ۴ / ۱۹۵، حدیث: ۲۴۳۹
4 - ابو داود، کتاب الادب، باب فی تغيير الاسم القبيح، ۴ / ۳۷۸، حدیث: ۴۹۶۱
5 - تاریخ ابن عساکر، باب ذكر تواضعه لربه، ۴ / ۷۹
6 - مسند حمیدی، حدیث معاذ بن جبل، ۱ / ۳۶۲، حدیث: ۳۷۳
7 - ابو داود، کتاب الحدود، باب اذا تتابع فی شرب الخمر، ۴ / ۲۱۹، حدیث: ۴۴۸۵، بتغیر
8 - مُفَسِّرِشہیر، حکیْمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد1، صفحہ443پرفرماتے ہیں: اس سے مرادناجائز آراستگی ہے ، جیسے فوٹوؤں اورتصویروں سے سجانایافخریہ آرائش مراد ہے جو اللہتعالیٰ کے لیے نہ ہو۔ بہر حال جائز زینت جو اخلاص کے ساتھ ہوباعِثِ ثواب ہے ۔
9 - ابو داود، کتاب الصلاة، باب فی بناء المسجد، ۱ / ۱۹۴، حدیث: ۴۴۸
10 - یعنی جیسے عیسائی، یہودی اپنی عبادت گاہوں کوفوٹوؤں اورقد آدم آئینوں سے سجاتے ہیں، قیامت کے قریب مسلمان بھی مسجدوں کو ان سے آراستہ کریں گے ، ورنہ مسجدکی زینت سنَّتِ صحابہ ہے ۔ چنانچہ عمر فاروق نے مسجدنبوی شریف کو مزین کیا، پھر عثمان غنی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے اس کی دیواریں چونے گچ سے خوب نقْشیں بنائیں، چھت میں ساگوان لکڑی لگائی، حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے بیْتُ المقدس میں اتنی روشنی کی تھی کہ اس میں عورتیں تین میل تک چرخہ کات لیتی تھیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ۱ / ۴۴۳)