پر تعجب کرنے لگے تو سرورِ کونین، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” جنت میں سعد کا رومال اس سے اچھا ہے (یا فرمایا: )اس سے زیادہ حسین ہے ۔ “ (1)
(10857)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ مُعلّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں: (۱)…اس کے گھروالے (۲)…اس کا مال اور (۳)…اس کاعمل۔ پھر دو چیزیں تو لوٹ آتی ہیں اور ایک چیز اس کے ساتھ رہ جاتی ہے گھر والے اور مال تو لوٹ جاتے ہیں مگر اس کا عمل ساتھ رہ جاتا ہے ۔ (2)
(10858)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضوررحمتِ عالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لایا کرتے تھے ، ہمارے ہاں ابوعُمَیْرنامی بچہ تھا اس کے پاس ایک پرندہ تھا جسے نغیر کہا جاتا تھا، جب وہ پرندہ مر گیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہنے لگے : يَا اَبَاعُمَيْرٍ مَافَعَلَ النُّغَيْر؟ یعنی اے ابو عُمَیْر چڑیا کے بچے کا کیا ہوا؟(3)
ادنیٰ جنتی کا اعلیٰ مقام:
(10859)…حضرت سیِّدُنا اسحاق بن احمد بن نافع اور حضرت سیِّدُنا محمد بن یحییٰ ابو عمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: مجھے اس نے روایت بیان کی جس کی مثل تم نے نہیں دیکھا ہو گا۔ ہم نے عرض کی ابو محمد آپ کو کس نے روایت بیان کی؟ فرمایا: نیکوکاروں یعنی حضرت عبد الملک بن سعید بن ابجراور حضرت سیِّدُنا مُطَرِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَانے حضرت سیِّدُنا امام شعبیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے بیان کیا کہ حضرت سیِّدُنا مُغِیرہ بن شُعْبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں کو حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ حدیث بیان کی: حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: ” جنتیوں میں ادنیٰ درجے والا کون ہو گا؟ “ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ” وہ شخص جو جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد آئے گا۔ “ اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہوجا۔ وہ عرض کرے گا: کیسے داخل ہو جاؤں؟ جنتی لوگ تو اپنے اپنے درجوں میں جاکر اپنے حصے پا چکے ہیں۔ “ کہاجائے گا: ” کیا تو اس پر راضی ہے کہ تیرا حصہ کسی دنیاوی بادشاہ کی سلطنت کی مثل ہو؟عرض کرے گا: ” ہاں میرے رب!میں راضی ہوں۔ “ پھر اس سے کہا جائے گا: ” تیرے لئے اتنی سلطنت اور اس کی مثل اور اس کی مثل اور اس کی مثل اور اس کی مثل۔ “ وہ کہے گا: ” اے پروردگار! میں راضی ہوں۔ “ پھر کہا جائے گا: ” تیرے لئے یہ بھی ہے اور اس کی مثل10گنا اور بھی۔ “ کہے گا: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں راضی ہوں۔ پھر کہا جائے گا: ” اس کے علاوہ تیرے لئے وہ بھی ہے جو تیرے نفس کی خواہش ہے اور جس سے تیری آنکھیں لذت پائیں۔ “ حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! سب سے بلند درجے والا جنتی کون ہو گا؟ ارشاد فرمایا: تمہاری یہی خواہش ہے ، تو اب میں تمہیں ان کے بارے میں بتاتا ہوں، بے شک میں نے اپنے دستِ قدرت سے ان کی شان بڑھا کر اس پر مہر ثبت فرمائی ہے ، اسے کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا۔ راوی فرماتے ہیں: اس کی تصدیق قرآنِ مجید کی اس آیتِ مبارکہ میں ہے :
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ- (پ۲۱، السجدة: ۱۷) ترجمۂ کنز الایمان: تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے ۔ (4)
بھلائی بھلائی کو لاتی ہے :
(10860)…حضرت سیِّدُناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے برسرِ منبر ارشاد فرمایا: مجھے اپنے بعد تم پر سب سے زیادہ خوف اس کا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے لیے زمین سے نکالے گایعنی پیداواراوردنیاکی چمک دمک۔ ایک آدمی نے عرض کی: یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیااچھائی بُرائی کے ساتھ آئے گی؟آپ خاموش رہے حتّٰی کہ ہمیں آپ پرنُزولِ وحی کے آثاردکھائی دیئے ، آپ کا سانس پھولنے لگا اور پسینے میں شرابور ہو گئے ۔ اس کے بعد فرمایا: سائل کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی: میں یہاں ہوں، میں تو صرف بھلائی چاہتا تھا۔ تو آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ” اِنَّ الْخَيْرَ لَا يَاْتِيْ اِلَّا بِالْخَيْرِ یعنی بھلائی بھلائی کو ہی لاتی ہے ۔ (پھر ارشاد فرمایا: )لیکن دنیاسرسبزو شاداب اورلذیذہے اورموسِمِ بہارجواُگاتاہے وہ یاتو جانوروں کو پیٹ پھلاکر مار دیتا ہے یا پھرمرنے کے قریب کر دیتا ہے سوائے اس جانور کے جو سبزہ کھا ئے حتّٰی کہ اس کی دونوں کوکھیں بھر جائیں پھر وہ دھوپ میں چلا جائے اور پیشاب وپاخانہ کرکے لوٹ آئے اور پھر چرنے لگے لہٰذا جوشخص مال کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے اسے اس مال میں برکت دی جاتی ہے اور جو ناحق مال حاصل کرتا ہے اسے اس مال میں برکت نہیں دی جاتی، اس کی مثال اس شخص کی ہے جو کھا نے کے بعد بھی شکم سیرنہیں ہوتا۔ “ (5)
حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مجھے یہ حدیث سنانے کے لئے کہا کرتے تھے ۔
برکت والا مال:
(10861)…حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حضرت سیِّدَتُنا خَوْلہ بنْتِ قَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: دنیا لذیذ اور سر سبز و شاداب ہے جوشخص مال کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے اسے اس مال میں برکت دی جاتی ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے
________________________________
1 - مسند امام احمد، مسند انس بن مالک، ۴ / ۲۲۳، حدیث: ۱۲۰۹۴
2 - مسلم، كتاب الزهد والرقائق، ص۱۵۸۳، حدیث: ۲۹۶۰، بتقدم وتاخر
3 - مسلم، کتاب الآداب، باب استحباب تحنیک المولود، ص۱۱۸۵، حدیث: ۲۱۵۰
4 - مسلم، کتاب الایمان، باب ادنی اھل الجنة منزلة، ص۱۱۸، حدیث: ۱۸۹
5 - مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری، ۴ / ۱۶، حدیث: ۱۱۰۳۵