صحابیٔ رسول کی صحبت اور چند احادیث:
(10851)…حضرت سیِّدُنا محمد بن عاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو197 ہجری میں حضرت سیِّدُنا عاصم بن بَہْدَلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت سیِّدُنا زِر بن حُبَیْش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں حضرت سیِّدُنا صفوان بن عَسَّال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا: علم کی تلاش میں آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا: فرشتے طالب علم کی جستجو سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے پَر بچھاتے ہیں۔ میں نے کہا: پیشاب وپاخانے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے دل میں شُبہ ہے ، کیا آپ نے اس بارے میں مُعلّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کچھ سنا ہے ؟حضرت سیِّدُنا صفوان بن عسالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ہاں، حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں حکم دیاکرتے تھے کہ ” جب ہم حالتِ سفر میں ہوں تو جنابت کے علاوہ تین دن تین راتیں پیشاب پاخانے اور نیند کی وجہ سے اپنے موزے نہ اُتاریں۔ “ حضرت سیِّدُنا زِر بن حُبَیْشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیاآپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کامحبت کے بارے میں کوئی فرمان سناہے ؟توحضرت سیِّدُناصفوان بن عسالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ہاں، ہم ایک سفرمیں پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے کہ ایک اعرابی نے بلندآوازمیں پکارا: یامحمد(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)!آپ نے اسی طرح باآوازِ بلندجواب دیا: میں یہاں ہوں۔ اس نے کہا: اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن وہ ان سے اب تک ملا نہیں؟ارشادفرمایا: ” اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ یعنی بروزِ قیامت آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ سے محبت کرتا ہے ۔ “
پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمیں ایک اور حدیث سنانے لگے کہ ” مغرب کی طرف ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے جس کی چوڑائی40سال کی مَسَافت ہے وہ بند نہ ہو گا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے ۔ “ (1)
سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جنتی محل:
(10852)…حضرت سیِّدُناجابربن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ دوجہاں کے مالک و مختارباذنِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا، میں نے اس میں ایک محل یا (فرمایا: ) گھر دیکھا، اس میں مجھے آوازیں سنائی دیں تو میں نے کہا: یہ کس کا ہے ۔ کہا گیا: ایک قریشی شخص کا۔ تو میں یہ امید کرنے لگا کہ وہ میں ہی ہوں۔ کہا گیا: یہ عمر بن خطاب کاہے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا: اے ابو حفص! اگر تمہاری غیرت کا خیال نہ ہوتا تو میں اس میں داخل ہو جاتا۔ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے اورعرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!بھلاآپ پرکیونکرغیرت ہوسکتی ہے !!!۔ (2)
شوقِ جنت میں جان قربان:
(10853)…حضرت سیِّدُناجابر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ اُحد کے دن ایک شخص مکی مدنی سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمَتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں لڑتا ہوا قتل کر دیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ ارشاد فرمایا: ’’جنت میں۔ ‘‘
یہ سن کر اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی کھجوریں پھینک دیں اور کفار سے قتال کرنے لگا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ۔ (3)
اللہ و رسول سے محبت:
(10854)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر قیامت کے بارے میں سوال کیا تو آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے فرمایا: تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟اس نے کسی بڑے عمل کا ذکر نہ کیا بس یہ کہا کہ میںاللہاوراس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَتم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو۔ (4)
جان ودل تم پر فدا:
(10855)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ترکش کے تمام تیر نکال کر حضور نبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے رکھ دئیے اور اپنے گھٹنوں کے بل جھک گئے اور یہ کہنے لگے : میرا چہرہ آپ کے چہرے کے لئے ڈھال ہو جائے اور میری جان آپ کی جان کے لیے قربان ہو جائے توسرورِ انبیا، محبوب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: لشکر میں ابو طلحہ کی آواز ایک جماعت سے بہتر ہے ۔ (5)
سیِّدُناسعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جنتی رومال:
(10856)…حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: دومہ کے حاکم اُکَیْدَر نے سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تحفۃًایک جُبّہ بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی
________________________________
1 - ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبة والاستغفار الخ ، ۵ / ۳۱۵، حدیث: ۳۵۴۶
2 - مسند حمیدی، حدیث جابر بن عبد اللّٰه الانصاری، ۲ / ۳۲۶، حدیث: ۱۲۷۲
3 - مسلم، کتاب الامارة، باب ثبوت الجنة للشھید، ص۱۰۵۲، حدیث: ۱۸۹۹
4 - بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر بن الخطاب، ۲ / ۵۲۷، حدیث: ۳۶۸۸
5 - مسند امام احمد، مسند انس بن مالک، ۴ / ۵۱۹، حدیث: ۱۳۷۴۷