ہر شے میں عبرت:
(10842)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: فکر نور ہے جسے تو اپنے دل میں داخل کرتا ہے ۔ اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمیشہ یہ شعر بطور ِمثال کہا کرتے تھے :
اِذَا الْمَرْءُ كَانَتْ لَهُ فِكْرَةٌ فَفِيْ كُلِّ شَيْءٍ لَهُ عِبْرَةٌ
ترجمہ: جب بندہ غور و فکر والا ہو جائے تو اس کے لئے ہر چیز میں عبرت ہوتی ہے ۔
مزید فرمایا: غور و فکر رحمت کی چابی ہے کیا نہیں دیکھتے کہ بندہ غور وفکر کرتا ہے تو توبہ کر لیتا ہے ؟
آدمی سرپرست کب بنتا ہے ؟
(10843)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: آدمی گھروالوں کا سرپرست اس وقت ہوتا ہے جب اسے یہ پروا نہ رہے کہ اس نے اپنی بھوک کی شدت کس چیز سے دور کی اور کون سا لباس پہن کر پُرانا کیا۔
(10844)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: کہا جاتا تھاکہ حق کے راستوں پر چلو اور اس راہ پر چلنے والوں کی کمی سے نہ گھبراؤ۔
دنیا کی حیثیت :
(10845)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر سخت پیاس کے وقت تو دنیا کو ایک گھونٹ کے بدلے بیچ سکتا ہے تو پھردنیا چیز ہی کیا ہے ؟ اور فرمایا: جنتی لوگ جنت میں صبر کے سبب ہی داخل ہوں گے ۔ مزید فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابو حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: دنیا لوگوں کے سامنے اتراتی ہوئی آئی تو وہ اس پر جھپٹ پڑے ۔
(10846)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: آسودہ حال شخص کی کوئی نعمت ذِکْرُاللہ جیسی نہیں۔ حضرت سیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: ” عبادت گزاروں کے منہ پر تیرا ذکر کتنا میٹھا ہے ۔ “ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی کی تعریف کی تو سننے والے نے کہا: خدا کی قسم! میرے علم میں نہیں کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے اور لوگوں سے حیا کرنے والا ہے ۔
نیز فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّحِیْم نے فرمایا: زندہ لوگوں میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو غنی ہے ۔ عرض کی گئی: کیا مالی طور پر غنی ہونا مراد ہے ؟ فرمایا: نہیں، بلکہ وہ شخص جس کی لوگوں کو حاجت ہو تو نفع دے اور حاجت نہ ہو تب بھی نفع دے ۔ پوچھا گیا: کون سا انسان بُرا ہے ؟ فرمایا: جسے یہ بھی پروا نہ ہو کہ لوگ اسے برا سمجھتے ہیں۔
سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جمہور تابعین کرام سے روایتیں لیں اورمشہوراور منصب امامت پر فائز 86تابعین عظام سے ملاقات کا شرف حاصل کیا جن میں سے چند یہ ہیں: حضرت سیِّدُنا عَمْرو بن دینار، حضرت سیِّدُنا امام زہری، حضرت سیِّدُنا محمد بن مُنکَدِر، حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن دینار، حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم، حضرت سیِّدُنا ابو حازم اور یحییٰ بن سعید انصاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کوفیوں میں سے حضرت سیِّدُناابواسحاق، حضرت سیِّدُناعبدالملک بن عُمَیْر، حضرت سیِّدُنا امام شیبانی، حضرت سیِّدُنا امام اعمش، حضرت سیِّدُنا منصور، حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن ابو خالد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی سے جبکہ بصریوں میں سے حضرت سیِّدُنا ابوب، حضرت سیِّدُنا سلیمان تیمی، حضرت سیِّدُنا داود بن ابو ہند، حضرت سیِّدُنا علی بن زید بن جدعان اور حضرت سیِّدُنا حمید طویل رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیسے شرف ملاقات حاصل کیا۔
اورائمہ حدیث میں سے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری، حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج، حضرت سیِّدُنا امام اعمش اور حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیآپ سے حدیث بیان کرتے ہیں۔
(10847)…حضرت سیِّدُنا حُمَیْدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 86 تابعین کرام سے ملاقات کی اور آپ فرمایا کرتے تھے : ” میں نے حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی جیسا کوئی نہ دیکھا۔ “
(10848)…حضرت سیِّدُنا علاء بن حَضْرمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ حضور تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” لَا يَمْكُثِ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ بِمَكَّةَ فَوْقَ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍیعنی (مکہ کے باہر سے آیا ہوا) کوئی مہاجراپنا حج کرنے کے بعد مکہ معظمہ میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہرے ۔ “ (1)
(10849)…حضرت سیِّدُناعُبَـیْدُاللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرت سیِّدُناابوبکراورحضرت سیِّدُناعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاجنازے کے آگے چلا کرتے تھے (2)۔
(10850)…حضرت سیِّدُناجُبَیر بن مُطْعِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین، خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (3)
________________________________
1 - تاریخ بغداد، ۶ / ۲۶۶، رقم: ۳۲۹۹، اسماعيل بن ابراهيم بن معمر
2 - جنازے کے ساتھ پیدل چلناافضل ہے اورسواری پرہوتوآگے چلنامکروہ اورآگے ہوتوجنازے سے دورہو۔ (بہارشریعت، حصہ۴، ۱ / ۸۲۳)جنازے کے ساتھ سواری پرجانابھی جائزہے اورپیدل بھی، سوارجنازے سے پیچھے ہی رہے ، پیدل آگے پیچھے ہرطرف چل سکتاہے مگرپیدل جانااورپیچھے رہنابہترہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۴۶۵)
3 - مسلم، کتاب البر والصلة، باب صلة الرحم وتحريم قطيعتها، ص۱۳۸۴، حدیث: ۲۵۵۶