Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
306 - 361
قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَۚ- (پ۹، الانفال: ۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا۔
	اور ارشاد فرمایا:  
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳) (پ۹، الانفال: ۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ انھیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔
	یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو ایک مانتے ہیں اور فرمایا:  
اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰) (پ۲۹، نوح: ۱۰)	ترجمۂ کنز الایمان:  اپنے رب سے معافی مانگوبے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے ۔ 
	وہ فرماتا ہے :  ” اسے ایک مانو۔  “  اورعلم عمل سے پہلے ہے ، دیکھو فرمانِ باری تعالیٰ ہے : 
اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِؕ-كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًاؕ-وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌۙ-وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۲۰) سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ (پ۲۷، الحدید: ۲۰، ۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان: جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنااس مینھ کی طرح جس کا اگایا سبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا)ہوگیا اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف۔ 
	اور ارشاد فرمایا: 
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌۙ      (پ۹، الانفال: ۲۸)                           ترجمۂ کنز الایمان: اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے ۔
	پھران  کے متعلق بعد میں فرمایا: 
 فَاحْذَرُوْهُمْۚ- (پ۲۸، التغابن: ۱۴)	ترجمۂ کنز الایمان: ان سے احتیاط رکھو۔ 
	اور ارشاد فرمایا: 
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ (پ۱۰، الانفال: ۴۱)
	ترجمۂ کنز الایمان: اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لوتو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ(کا ہے )۔
	اس کے بعد ہمیں  اس پر عمل کا حکم دیا۔ 
بڑی نعمت کون سی ہے ؟
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سوال ہوا کہ بڑی نعمت کون سی ہے وہ نعمت جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بندے کو عطا کی یا وہ جو اس سے دور رکھی؟ فرمایا:  وہ جو اس نے دور رکھی اور بندے کو اس میں مبتلا نہیں فرمایا کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا نعمت سے بے پروا کر نانعمت دے کر غنی کرنے سے افضل ہے ۔ یہ اس وقت ہے جب بندہ دونوں میں سے کسی کو ترجیح دے ورنہ اگر وہ صاحبِ بصیرت اور سرتسلیم خم کرنے والا ہو تو معاملہ برابر ہی ہے ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کی حمد کی جائے چاہے وہ دے یا نہ دے اور یہی رضا مندی ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فیصلے کو ہی محبوب رکھے ۔ 
دنیاسے بے رغبتی یا محبت؟
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سوال ہوا کہ دنیا سے نفرت اور دنیا سے محبت کی نشانی کیا ہے ؟آپ نے فرمایا:  دنیا سے محبت کی نشانی یہ ہے کہ بندہ اس میں زندہ رہنے اور اپنے پاس بے انتہا مال کی موجودگی کو محبوب رکھتاہو، وہ بس اسی کی فکر میں لگا  ہو دنیا کے خاتمے کا کوئی خیال نہ ہو اور دنیا سے بے رغبتی ونفرت کی علامت موت سے محبت ہے کیا تم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا؟ 
قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۹۴) (پ۱، البقرة: ۹۴)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤاگرپچھلاگھراللہکے نزدیک خالص تمہارے لئے ہو نہ اَوروں کے لئے تو بھلا موت کی آرزو تو کرو اگر سچے ہو۔
	پھر فرمایا:  
وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍۚۛ- (پ۱، البقرة: ۹۶)	ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک تم ضرورانھیں پاؤگے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہَوَس رکھتے ہیں۔
	پس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بتا دیا کہ یہی دنیا کی محبت ہے ۔