جبکہ تومجھ سے بے پروا وغنی ہے اسی لئے میں تجھ سے اپنی مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔
حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: یہ کلمات سن کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ مجھے نہیں یاد کہ پہلے کبھی مجھے اتنی خوشی ہوئی ہو۔
(10835)…حضرت سیِّدُنازیدسُلَمِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب صحابَۂ کرام میں کچھ غفلت یا سستی محسوس کرتے تو انہیں بلند آواز سے مخاطب کر کے فرماتے : ” تمہیں موت ضرور آئے گی جو خوش بختی لائے گی یا بد بختی۔ (1) “
پکی اینٹوں کا گھر:
(10836)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کسی نے بتایا کہ ایک شخص نے پکّی اینٹوں کا گھر بنایا ہے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں یہ سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ اس اُمَّت میں کوئی فرعون جیساہوگا۔ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اس سے آپ کی مراد (قرآنِ مجید میں مذکور) فرعون کا یہ قول ہے :
اِبْنِ لِیْ صَرْحًا (پ۲۴، المؤمن: ۳۶) ترجمۂ کنز الایمان: میرے لئے اونچا محل بنا۔
اوریہ قول ہے :
فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ (پ۲۰، القصص: ۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: تواے ہامان میرے لیے گارا پکا۔
(10837)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ دجّال پکّی اینٹوں کی عمارتوں کے بارے میں پوچھتا ہے کہ’’ کیا ان کا ظہور ہو گیا؟‘‘
اضافی تعمیر پر سرزنش:
(10838)…حضرت سیِّدُنا راشد بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خبر ملی کہ حِمْص میں حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے (اپنے گھر میں) ایک سائبان بنایا ہے ۔ امیرالمؤمنین نے انہیں خط لکھا: ” اما بعد! اے عُوَیْمر!کیا تمہیں دنیاوی آرائش اور جدّت سے بچنے کے لیے رومیوں کی بنائی ہوئی تعمیر کافی نہ تھی؟حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دنیا کو ویران کرنے کا حکم دیا ہے ، جب میرا یہ خط تمہارے پاس پہنچے توحِمْص چھوڑ کر دِمَشْق چلے جاؤ۔ ‘‘حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خط کے ذریعے انہیں سرزنش کی تھی۔
(10839)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ایک دانا کا قول ہے کہ دن تین ہیں: (۱)…ایک گزشتہ کل جو کہ ادب سکھانے والا حکیم تھا وہ تمہارے لیے نصیحت اور عبرت چھوڑ گیا (۲)…دوسرا آج کا دن یہ مہمان ہے جو طویل عرصہ تم سے روپوش رہا اور عنقریب تمہارے پاس سے رخصت ہو جائے گا اور (۳)…تیسرا آنے والاکل جس کے بارے میں معلوم ہی نہیں کہ کون اسے پائے گا۔
تین نصیحتیں، تین فائدے :
(10840)…(الف)حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ایک شیخ نے حدیث بیان کی کہ حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کوتین نصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا: (۱)…موت کوکثرت سے یادکرواللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں اس کے سواہرغم سے بے پرواکردے گا(۲)…دعاکو لازم پکڑلو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہاری دعا کب قبول ہوجائے اور (۳)…شکر کو لازم پکڑ لو کیونکہ شکر نعمت میں اضافہ کرتا ہے ۔ (2)
(10840)…(ب)حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: بندوں کو صبر سے افضل کوئی چیز نہیں دی گئی، اسی کے سبب لوگ جنت میں داخل ہوں گے ۔
علم کی فضیلت:
(10841)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے علم کی فضیلت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا جس میں علم ہی سے ابتدا فرمائی ہے ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ (پ۲۶، محمد: ۱۹) ترجمۂ کنز الایمان: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔
پھر اس نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عمل کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (پ۲۶، محمد: ۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اے محبوب اپنے خاصوں اور عام مسلمان مَردوں (اور عورتوں)کے گناہوں کی معافی مانگو۔
اوروہ ” لَا اِلَهَ اِلَّا اللهُ “ کی گواہی دینا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بغیر مغفرت نہیں فرمائے گا اور جو اس کا اقرار کرے بخشا جائے گا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
________________________________
1 - شعب الایمان، باب فی الزھد وقصر الامل، ۷ / ۳۵۶، حدیث: ۱۰۵۶۸
2 - موسوعة للامام ابن ابی الدنیا، کتاب الشکر للّٰه، ۱ / ۵۲۰، حدیث: ۱۶۵