دین کی بلندی تک پہنچنے کی شرط:
(10827)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم! تم اس دِین کی بلندی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک سب سے بڑھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے والے نہ ہو جاؤ اور جس نے قرآنِ پاک سے محبت کی اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی ، جو تم سے کہا جائے اسے خوب سمجھ لیا کرو۔
(10828)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: انسان گندا ڈھیلااور بدبودار کیڑاہے پھر یہ کس بات پر اِتراتا ہے !۔
مسلمانوں کی بھلائی پرخوشی:
(10829)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: کوفہ کارہنے والاایک شخص بہت بداخلاق تھا جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے بُرے اخلاق سے نجات دی تو اس کے پڑوسی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے لونڈی آزاد کر دی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمزید فرماتے ہیں: مَکۂ مکرمہ میں ایک مرتبہ اتنی بارش ہوئی کہ مکانات مُنْہَدِم ہونے لگے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں اس سے نجات عطا فرمائی تو حضرت عبد العزیز بن ابو رَوَّاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاشکر ادا کرتے ہوئے اپنی لونڈی آزاد کر دی۔
(10830)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جسے قرآن عطاکیاگیاپھراس نے قرآن سے چھوٹی نعمت کی طرف آنکھیں پھیلائیں تو اس نے قرآن کی مخالفت کی، کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا:
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۱۳۱) (پ۱۶، طٰہٰ: ۱۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اسکی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی کہ ہم انھیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے ۔
یعنی قرآنِ پاک۔
سیِّدُنا خضرعَلَیْہِ السَّلَام تھے یا کوئی ابدال:
(10831)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں بَیْتُاللہ کا طواف کر رہا تھا کہ میں نے اچھی ہیئت والا ایک شخص دیکھا جو لوگوں میں نمایاں تھا، ہم میں سے ایک شخص نے دوسرے سے کہا: ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص اہْلِ علم میں سے ہے ۔ لہٰذا ہم اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے حتّٰی کہ اس نے طواف مکمل کیا اور مقام ابراہیم پر جا کر دو رکعت نماز ادا کی، سلام پھیرنے کے بعد اس نے قبلے کی طرف منہ کر کے کچھ دعائیں کیں پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا: جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ ہم نے کہا: کیافرمایا ہے ؟ اس نے کہا: تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّنے فرمایا ہے کہ ” میں بادشاہ ہوں اورتمہیں اس طرف بُلاتاہوں کہ تم بھی بادشاہ بن جاؤ۔ “ اس کے بعد اس نے قبلے کی طرف منہ کر کے کچھ دعائیں کیں پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر کہا: جانتے ہو تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّ نے کیا فرمایا ہے ؟ ہم نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے ، ہمارے ربّ عَزَّ وَجَلَّنے کیا فرمایا ہے ؟اس نے کہا: تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا ہے کہ ” میں زندہ ہوں جسے موت نہیں اور تمہیں ایسی زندگی کی طرف بُلاتا ہوں کہ تمہیں کبھی موت نہ آئے ۔ “ اس کے بعد اس نے قبلے کی طرف منہ کر کے کچھ دعائیں کیں پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر کہا: جانتے ہو تمہارے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے کیا فرمایا ہے ؟ ہم نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ! ہمیں بیان کیجئے ہمارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟کہا: تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا ہے کہ ” میں وہ ہوں جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تووہ ہو جاتی ہے اور تمہیں اس حال کی طرف بُلاتا ہوں کہ جب تم کسی چیز کا ارادہ کرو تو وہ تمہارے لئے ہو جائے ۔ “ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: پھر وہ چلا گیااس کے بعد ہم نے اسے نہ دیکھا، پھر میری ملاقات حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے ہوئی تو انہیں یہ سارا ماجراکہہ سنایا، انہوں نے فرمایا: ایسا لگتا ہے کہ وہ حضرت سیِّدُناخضرعَلَیْہِ السَّلَام تھے یا ابدالوں میں سے کوئی بزرگ۔
(10832)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے : مجھے ایسا شخص پسند ہے جس کی زندگی امیروں کی طرح اور موت فقیروں کی طرح ہو مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّکانافرمان مردہ ہے :
(10833)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اللہتعالٰی نے حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی: سب سے پہلے مرنے والا ابلیس ہے کیونکہ سب سے پہلے اِسی نے میری نافرمانی کی اور جو میری نافرمانی کرے میں اسے مردوں میں ہی شمار کرتا ہوں۔
ایک اعرابی کی پیاری دعا:
(10834)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں طواف کر رہا تھا اور میرے برابر میں ایک اعرابی بھی طواف کر رہا تھا جو خاموش تھا، جب اس نے اپنا طواف مکمل کیا تو مقام ابراہیم پر آکر دو رکعت نماز ادا کی پھر بَیْتُاللہ شریف کے سامنے کھڑے ہوکربارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے لگا: اے میرے خدا! مجھ سے بڑھ کر غلطی و کوتاہی کرنے والا کون ہو سکتا ہے حالانکہ تو نے مجھے کمزور پیدا کیا ہے اور تجھ سے زیادہ عفو درگزر کرنے والا کون ہو سکتا ہے حالانکہ تو میرے بارے میں ازل سے جانتا ہے اور تیری تقدیر مجھ پرغالب ہے ؟ میں نے تیرے حکم سے تیری اطاعت کی اورتوہی میراآخری سہاراہے ، میری نافرمانی تیرے علم میں ہے اور تیرے پاس حجت ہے ، تو مجھ پر حجت رکھتا ہے جبکہ میرے پاس کوئی حجت نہیں، میں تیرا محتاج ہوں