(10821)…حضرت سیِّدُنا ابوتوبہ ربیع بن نافع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اس درودِ پاک: ” اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَٰ اِبْرَاهِيمَ وَاٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْد “ کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اُمَّتِ محمد کو عزت و شرف بخشتے ہوئے ان پر درود بھیجا جیسے اس نے حضرات انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام پر درود بھیجا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ (پ۲۲، الاحزاب: ۴۳) ترجمۂ کنز الایمان: وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے ۔
اور حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ارشاد فرمایا:
اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْؕ- (پ۱۱، التوبة: ۱۰۳) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک تمہاری دعاان کے دلوں کاچین ہے ۔
اور u سکینہ سے ہے پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اُمَّتِ محمدیہ پر درود نازل فرمایا جیسے حضرت سیِّدُنا ابراہیم، حضرت سیِّدُنا اسماعیل، حضرت سیِّدُنا اسحاق، حضرت سیِّدُنا یعقوب اوران کی اولادعَلَیْہِمُ السَّلَام پر نازل کیا اور یہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام میں سے مخصوص ہیں جبکہ اس اُمَّت پر درود کو عام فرمایا اور انہیں اس رحمت میں شامل فرمایاجس میں انہیں ان کے نبی(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے شامل رکھااورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجس رحمت میں بھی داخل ہوئے آپ کی اُمَّت بھی اس میں داخل ہوئی۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ۲۲، الاحزاب: ۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پراے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
اور ارشادِباری تعالیٰ ہے :
هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ(پ۲۲، الاحزاب: ۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان: وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے ۔
اور یہ فرمان ذکر کیا:
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ(۱) لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ(۲) وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا(۳) هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْؕ-وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ(۴) لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ (پ۲۶، الفتح: ۱تا ۵)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرما دی تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے اور اللہ تمہاری زبردست مدد فرمائے وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اُتارا تاکہ اُنھیں یقین پر یقین بڑھے اور اللہ ہی کی مِلک ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ علم و حکمت والا ہے تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں۔
ایک دانا کی نصیحت:
(10822)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: کچھ لوگ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ ایک عقلمند شخص ان کے پاس آیا اور سلام کرنے کے بعدکہا: ایسے لوگوں کی طرح گفتگوکیا کرو جو جانتے ہیں کہ یقیناًاللہ عَزَّ وَجَلَّان کا کلام سنتا ہے اور فرشتے لکھتے ہیں۔
(10823)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: عبادت زہد کے بغیر درست نہیں اور زہد فقہ کے بغیر درست نہیں اور فقہ صبر کے بغیر درست نہیں۔
(10824)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: علمائے کرام نے فرمایا کہ جس نے خود کو پہچان لیا اسے تعریف دھوکا نہیں دیتی۔
آنسو نہ بہانا غم کو بڑھاتا ہے :
(10825)… حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکا بیان ہے کہ میں نے ایک مجلس میں وعظ کیا جس میں حضرت سفیان بنعُیَیْنَہ، حضرت فُضَیْل بن عِیاض اور حضرت عبداللہ بن مبارک رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی موجود تھے ۔ حضرت سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آنکھیں آنسوؤں سے تَر ہوئیں پھر خشک ہو گئیں حضرت عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے آنسو بہتے رہے جبکہ حضرت فُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے ، جب حضرت فُضَیْل بنعِیاضاورحضرتعبداللہبن مبارکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا چلے گئے تو میں نے حضرت سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: ابو محمد! آپ اس طرح کیوں نہ روئے جس طرح آپ کے دوست رو رہے تھے ؟آپ نے فرمایا: آنسو نہ بہانا غم کو بڑھاتا ہے کیونکہ جب آنسو نکل جاتے ہیں تو دل کو چین آجاتا ہے ۔
(10826)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے کہا: مجھے بلند مرتبے کی چاہت نے ہلاک کر دیا۔ دوسرے شخص نے اس سے کہا: اگر تو خوفِ خدا رکھتا تو تجھے بلند مرتبہ مل جاتا۔