Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
302 - 361
پھر ایک روٹی رہ گئی تو اس کے بھی سات ٹکڑے کر دیئے پھر اجناد کے امرا کو بلوا کر ان کے مابین قرعہ اندازی کرکے تقسیم کر دیا۔ 
	حضرت سیِّدُناسالم بن ابوجَعدرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکے والدفرماتے ہیں: میں نے دیکھاکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بیْتُ المال میں ایک بکری نے مینگنیاں کیں توآپ نے اسے بھی تقسیم فرما دیا۔ 
	اور حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہحضرت سیِّدُناامام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاسے اوروہ ایک شخص سے روایت  کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جب بیتُ المال کا مال تقسیم فرمالیتے تو اس میں پانی چھڑکتے اور پھر وہیں دو رکعت نماز ادا کرتے ۔ 
سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی افضل عبادت: 
(10816)…حضرت سیِّدُنا عون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا: حضرت سیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی افضل عبادت کون سی تھی؟ فرمایا:  غور وفکر کرنا اورنصیحت حاصل کرنا۔ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مِسْعَر بن کِدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں علم دیا گیا ہے ۔ 
(10817)… حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی  عَنْہ نے فرمایا: بندے کواس باتسے بچناچاہیے کہلاعلمیمیںکہیںمسلمانوںکے دلوںمیںاسکے لیے نفرتنہ آجائے ۔ 
گورنری سے معزولی کی خواہش: 
(10818)…حضرت سیِّدُنا سالِم بن ابو جَعْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا نعمان بن مُقَرِّن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کَسْکَرکا گورنر بنایا تو حضرت سیِّدُنا نعمان بن مُقَرِّن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کو خط لکھا: امیرالمؤمنین! مجھے کسکر کی گورنری سے معزول کر کے مسلمانوں کے کسی لشکر میں بھیج دیجئے کیونکہ کسکروالوں کی مثال بنی اسرائیل کی فاحشہ عورت کی سی ہے جو دن میں دو مرتبہ خوشبو لگاتی اور بناؤ سنگھار کیا کرتی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا نعمان بن مُقَرِّنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کے بعد ان کا ذکر کرتے تو فرماتے :  ہائے !میرا دل نعمان پر غمزدہ ہے ۔ 
(10819)…حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ہم نے (دنیا سے بے رغبتی میں)حضرت سیِّدُناعیسٰی بن مریمعَلَیْہِمَا السَّلَامکے ساتھ مشابہت رکھنے والا حضرت سیِّدُنا ابوذَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں پایا۔ 
افضل ترین بات: 
(10820)…حضرت سیِّدُناابو تَوْبہ رَبیع بن نافعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمان: 
تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶) (پ۲۱، السجدة: ۱۶)
ترجمۂ کنزالایمان: ان کی کروٹیں جداہوتی ہیں خواب گاہوں سے اوراپنے رب کوپکارتے ہیں ڈرتے اوراُمیدکرتے اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں۔
	کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا:  یہاں  ”  یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ  “ سے مراد فرض نماز ہے اور  ” وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ   “ سے مراد قرآن مجید ہے ، کیا تم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا؟ 
وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ(۸۷) (پ۱۴، الحجر: ۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان:  اور بے شک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن۔
	اورایک مقام پر ارشاد فرمایا: 
وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۱۳۱)(پ۱۶، طٰہٰ: ۱۳۱)	ترجمۂ کنز الایمان: اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے ۔
	نیز پیارے آقا، مدینے والے مُصْطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ” مَا مِنْ صَدَقَةٍ اَفْضَلُ مِنْ قَوْلٍ یعنی اچھی بات سے افضل کوئی صدقہ نہیں۔  “ اور قرآن سے افضل کوئی بات نہیں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ ” لَا اِلٰهَ اِلَّا الله “ سے افضل کوئی بات نہیں؟ اور شرک سے بڑی اور بری بات کوئی اور نہیں؟اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:  
كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُ جُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْؕ (پ۱۵، الکھف: ۵)	ترجمۂ کنز الایمان: کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے ۔ 
	اور ارشاد فرمایا:  
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ(۹۰) (پ۱۶، مریم: ۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان: قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ (مسمار ہو)کر۔
	حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہ نے فرمایا:  سچے کی زبان پر جاری ہونے والی سب سے افضل بات   ”  لَا اِلٰهَ اِلَّا الله “ ہے ۔