Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
301 - 361
عرض کی:  یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا یہ لوگ سنتے ہیں؟ فرمایا:  ہاں، جیسے تم سنتے ہو۔ (1)
(10805)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عُروَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:  آپ شہر میں کیوں نہیں آتے ؟ توانہوں نے فرمایا:  شہر میں نعمت پر حسد کرنے والے یا سزا پر خوش ہونے والے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ 
(10806)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوْحُاللہ عَلَیْہِ السَّلَام عورتوں کی خواہش نہ رکھتے تھے کیونکہ آپ کی تخلیق نُطفے سے نہ ہو ئی تھی۔ 
بولنے والا عالِم افضل ہے : 
(10807)…حضرت سیِّدُناعبدالرحمٰن بن عُمَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوکسی نے خبردی کہ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پرہیزگاری کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: پرہیز گاری ایسا علم حاصل کرنے کا نام ہے جس سے پرہیزگاری کی حقیقت معلوم ہو جبکہ لوگوں کے نزدیک طویل خاموشی اور کم گوئی کا نام پرہیزگاری ہے حالانکہ ایسا نہیں، میرے نزدیک بولنے والا عالِم خاموش رہنے والے جاہل سے افضل اور پرہیزگار ہے ۔ 
عیاش لوگوں کا  شربت: 
(10808)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود بن سابور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْرفرماتے ہیں:  ایک شخص نے مکی مدنی سلطان، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خواب میں دیکھا اور بادام  کا ستو پینے کے متعلق پوچھا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  یہ عیاش لوگوں یعنی اِبْنِ فَروہ اور اس کے ساتھیوں کا  شربت ہے ۔ 
(10809)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہاللہعَزَّ  وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے ایک شخص کی تعریف کی گئی توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا:  وہ موت کو  کیسے یاد کرتا تھا؟ لوگوں نے کہا:  وہ موت کو یاد نہیں کرتا تھا۔ ارشاد فرمایا:  پھر تووہ ایسا نہیں ہے  جیسا تم اس کے بارے میں کہہ رہے تھے ۔ (2)
نگاہِ نبوت کا اِعجاز: 
(10810)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن باباہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ” گویامیں تمہیں جہنم کے پاس ٹیلے پر گھٹنوں کے بل گرے دیکھ رہا ہوں۔  “ (3)
	حضرت سیِّدُنا ابو معمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا مسعر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب بھی مجھ سے ملتے یہ حدیث سنانے کا کہتے ۔ 
سب سے افضل تین چیزیں: 
(10811)…حضرت سیِّدُناابنابو نَجِیحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داود عَلَیْہِمَا السَّلَام نے فرمایا:  ہمیں وہ نعمتیں ملیں جو لوگوں کو دی گئیں اور وہ  بھی جو انہیں نہیں دی گئیں اور ہمیں وہ علم عطا ہوا جو لوگوں کو دیا گیا اور  وہ بھی جو انہیں نہیں دیا گیا، ہم نے تین چیزوں سے افضل کچھ نہ پایا: (۱)…غصے اور رضا دونوں حالتوں میں حکمت والی بات کہنا(۲)…غربت اور مالداری دونوں حالتوں میں میانہ روی اختیار کرنااور (۳)…تنہائی میں اورلوگوں کے سامنے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنا۔ 
بُرا انسان کون ؟
(10812)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم سے پوچھاگیا: کون سا انسان بُرا ہے ؟ فرمایا: جویہ بھی پروا نہ کرے کہ لوگ اسے برا سمجھیں گے ۔ 
(10813)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  اگر تمہارے دل پاک ہوتے تو قرآنِ مجید سے کبھی سیر نہ ہوتے اور مجھے کوئی بھی دن یا رات قرآنِ مجید کی تلاوت کیے بغیر گزارنا پسند نہیں۔ 
(10814)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: علم سیکھو اور سیکھ کر اس پر مہر لگادو اور اس میں ہنسی کو شامل نہ کروورنہ لوگوں کے دل اسے ناپسند کریں گے ۔ 
	(اس روایت کے راوی )حضرت سیِّدُناابو مَعْمَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے عرض کی: آپ کے حوالے سے یہ روایت مجھے حضرت جریر بن عبد الحمید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان کی ہے ، آپ نے یہ روایت کس سے سنی ہے ؟انہوں نے فرمایا: مجھے یہ روایت حضرت سیِّدُنا  حسن بن حی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بیان کی ہے ۔ 
 بیت المال  کی سات حصوں میں تقسیم: 
(10815)…حضرت سیِّدُناکُلَیْب بن شہاب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے بیْتُ المال کا مال سات حصوں میں تقسیم  کیا 


________________________________
1 -   معجم کبیر، ۷ / ۱۶۵، حدیث: ۶۷۱۵، عن عبد الله بن سیدان، بتغیر
2 -   الزھد للامام احمد، ص۴۵، حدیث: ۹۰
3 -   الزھد لابن المبارک ویلیہ کتاب الرقائق، صفة النار، ص۱۰۵، حدیث: ۳۶۰