Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
300 - 361
آپ نے فرمایا:  خبردار! کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں کافر فرمایا ہے بلکہ آپ نے انہیں محض گندہ اور اپنے نفس کو ملامت کرنے والا فرمایا ہے لہٰذا اگر وہ حق کی معرفت حاصل کریں تو یہ اُن پر ان کے بُرے اعمال مزین ہونے سے بہتر ہو گا لیکن وہ ایسے لوگ ہوں گے جو بُرائی  کو جان لینے کے باوجود اس سے دور نہیں بھاگیں گے اسی لئے ان کا  معاملہ ان جہنمیوں جیسا نہ ہوگا جوکہیں گے :  
یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۱۴) (پ۱۷، الانبیآء: ۱۴)	ترجمۂ کنز الایمان:  ہائے خرابی ہماری بے شک ہم ظالم تھے ۔
	کیونکہ انہوں نے عذاب دیکھ کر ظلم کا اقرار کیا(جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : )
فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْۚ-فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ(۱۱) (پ۲۹، الملک: ۱۱)	ترجمۂ کنزالایمان: ا ب اپنے گناہ کااِقرارکیاتوپھٹکارہودوزخیوں کو۔
	پتاچلاکہ  اُن جہنمیوں کا ظلم شرک ہے ۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مزیدفرمایا: جس نے اللہ عَزَّ   وَجَلَّکی نافرمانی کی وہ گندہ ہے کیونکہ معصیت گندگی ہے ۔ 
	اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ایک فرمان کے بارے میں پوچھا گیا کہ ” الْفَقِيْهُ كُلُّ الْفَقِيْهِ مَنْ لَمْ يُقَنِّـطِ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُمْ فِيْ مَعَاصِي اللهِ یعنی کامل فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو رحمتِ الٰہی سے مایوس نہ کرے اور نہ ہی انہیں  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کی رُخصت دے ۔  “ تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: انہوں نے سچ کہا کیونکہ رخصت کا تعلق مستقبل سے اور مایوسی کا تعلق ماضی سے ہی ہوتا ہے ۔ 
	اور یہ بھی فرمایا کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  دو چیزیں نجات دینے والی اور دو چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں۔ نجات دینے والی چیزیں نیت اور پرہیزگاری ہیں۔ نیت سے مراد تمہارا ارادہ مستقبل میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی فرمانبرداری والے کاموں کا ہوجبکہ پرہیزگاری سے مراد تمہارا خود کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء سے بچانا ہے جبکہ  ہلاکت میں ڈالنے والی چیزیں خودپسندی اور مایوسی ہیں۔ 
	حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ کسی کوشریک کرنا، اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی رحمت سے مایوس وناامیدہونااوراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی خفیہ تدبیرسے بے خوف ہوناہے پھر  آپ نے یہ آیاتِ مبارکہ تلاوت کیں: 
(1)…
فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۹۹) (پ۹، الاعراف: ۹۹)	ترجمۂ کنز الایمان: تو اللہ کی خَفِی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے ۔
(2)…
اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ (پ۶، المآئدة: ۷۲)	ترجمۂ کنز الایمان: بے شک جواللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی۔ 
(3)…
لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ(۸۷) (پ۱۳، یوسف: ۸۷)	ترجمۂ کنز الایمان: اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔ 
(4)…
 وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ(۵۶) (پ۱۴، الحجر: ۵۶)	ترجمۂ کنز الایمان: اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے ۔ 
ورع  اور اُس کی اقسام: 
	یوں ہی حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیاکہ  ” پرہیزگاری سے زیادہ مشکل کوئی چیز نہیں۔  “ اس قول کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا: اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جاہل کے لئے اپنے نفع اور نقصان اور پھر ان کی طرف بڑھنے یا بچنے کا علم حاصل کرنا سب سے زیادہ مشکل ہے ۔ 
اور ورع کی دو قسمیں ہیں:  (۱)…خاموش رہنے والے کی ورع جسے سب لوگ جانتے ہیں جب اس سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہیں جانتا تو کہتا  ہے :  ” میں نہیں جانتا “ وہ صرف اسی کے بارے میں بات کرتا ہے جس کا علم ہو ۔ اور (۲)… بولنے والے کی  ورع یعنی اس کی ورع بولنے ہی سے ہوگی کیونکہ وہ علم رکھتا ہے لہٰذا وہ بُرائی کو ناپسند جاننے ، بھلائی کاحکم دینے ، اچھے کو اچھا اور بُرے کو بُرا کہنے سے نہیں رُک سکے گا اور اسی ورع کا وعدہاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اہْلِ کتاب سے لیا تھاکہ ” وہ ضرور احکامِ الٰہی کو لوگوں سے بیان کریں اور اسے نہ چھپائیں۔  “ ورع کی یہی قسم زیادہ مشکل اور افضل ہے ، عام لوگ صرف خاموش رہنے والے کو ہی متقی سمجھتے ہیں جبکہ بولنا اور بولنے کی جرأت کرنا چاہے عالِم کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو لوگ اسے ورع کی کمی سمجھتے ہیں۔ 
کافر مردے بھی سنتے ہیں: 
(10804)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عُبَیْدبن عُمَیْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  بدر کے دن مسلمانوں کو اپنے رشتہ داروں کی لاشیں کھلے میدان میں پڑے رہنے سے حیا آئی تو انہیں اکھٹا کیا اور کنویں میں ڈال دیا پھر حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں تشریف لائے اور ان مقتولوں کے پاس کھڑے ہو کر ان سب کے یا ان میں سے بعض لوگوں کے نام پکارتے ہوئے فرمایا: اے فلاں، اے فلاں!کیا تھوڑی ہی دیر میں تم نے وہ نہ پا لیا جس کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے تم سے وعدہ کیا تھا؟ لوگوں نے