ناقص ایمان والا ہو گا اور جس نے جان بوجھ کر انہیں ترک کیاتو وہ کافر ہو جائے گا۔ (1)یہ سنت ہے جو بھی مسلمان تم سے سوال کرے اسے میری طرف سے یہ بات پہنچا دینا۔
دوستوں کے لیے نعمَتِ دیدار:
(10795)…حضرت سیِّدُناحُمَیدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا گیا کہ (فرقَۂ جہمیہ کا سردار)بِشْر مَرِّیسی کہتا ہے کہ بروزِ قیامتاللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں ہو گا۔ آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کیڑے کو ہلاک کرے کیا اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا:
كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ(۱۵) (پ۳۰، المطففین: ۱۵) ترجمۂ کنز الایمان: ہاں ہاں بے شک وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں ۔
اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے دوستوں اور دشمنوں دونوں سے حجاب فرمالے تودوستوں کو دشمنوں پر کون سی فضیلت حاصل ہو گی؟
گمراہوں سے بچنے کی تلقین:
(10796)…ابو بکر عبد الرحمٰن بن عفان کا بیان ہے کہ جس سال لوگوں نے منٰی میں بِشْر مَرِّیسی کی صحبت اختیار کی توحضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہغصہ کرتے ہوئے اپنی مجلس سے اٹھے اورحضرت سیِّدُنا اسحاق بن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکاہاتھ پکڑکران لوگوں کے پاس انہیں بُرابھلاکہتے ہوئے آئے اورفرمایا: بزرگانِ دین قَدرِیوں اور مُعْتَزلِیوں کے بارے میں کلام کر چکے ہیں اور ہمیں ایسوں سے بچنے کا حکم ہے ہماری رائے وہی ہے جو ہمارے ان علمائے کرام حضرت سیِّدُنا عَمْرو بن دینار، حضرت سیِّدُنا محمد بن مُنکَدِر، حضرت سیِّدُنا ایوب بن موسٰی حضرت سیِّدُنا امام اعمش، حضرت سیِّدُنا منصور اور مِسْعَر رَحِمَہُمُ اللہُ کی رائے ہے کہ یہ لوگ قرآنِ مجید کو فقط کلامِ الٰہی ہی جانتے مانتے تھے جس نے اس کے بَرخلاف کہااُس پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی لعنت۔ یہ بات دومرتبہ دہرائی پھرفرمایا: قدریوں اور معتزلیوں کی بات نصاریٰ کے کلام سے بہت مشابہت رکھتی ہے لہٰذا تم ان گمراہوں کے ساتھ مت بیٹھو۔
زُہد کیا ہے ؟
(10797)…حضرت سیِّدُنامُسَیَّب بن وَاضِحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے پوچھا: زُہد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنا زہد ہے اور جن چیزوں کو اس نے حلال کیا ہے وہ تمہارے لیے جائز رکھی ہیں، بے شک انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے نکاح، سواری اور کھانے کو اختیار کیا لیکن جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں کسی چیز سے روکا تو وہ اس سے رُک گئے اور اسی وجہ سے وہ بہت بڑے زاہد تھے ۔
لذت وسرورکس کام میں ہے ؟
(10798)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا محمد بن منکدر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے پوچھا: اب کوئی ایسی چیز بچی ہے جس سے آپ کو لذت وسرور ملے ؟ فرمایا: ہاں مسلمان بھائیوں سے ملاقات کرنا اور ان کے دلوں میں خوشی داخل کرنا۔
(10799)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: حضرت سیِّدُنامحمدبن منکدِررَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ سے کسینے پوچھا: کوئیایساکامباقیبچاہے جسمیںلذتوسرورہو؟فرمایا: مسلمانبھائیوںکے ساتھحُسنِسلوک کرنا۔
خیر خواہی کا جذبہ:
(10800)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مُساوِروَرَّاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق نے فرمایا: میں نے جب بھی کسی سے کہا کہ ” میں تم سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر محبت کرتا ہوں “ تو پھر میں نے اسے دنیا کی کسی چیز سے منع نہیں کیا۔
(10801)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا محمد بن منکدر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک شخص کے لئے رحمت کی دعا کی، کسی نے عرض کی: آپ فلاں کے لئے رحمت کی دعا کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس بات پر حیا آتی ہے کہ اسے میری طرف سے یہ بات پہنچے کہ میں اس کی رحمت کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے لئے عاجز سمجھتا ہوں۔
اصلاح کرنے والے کا شکریہ:
(10802)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیِّدُناحَکَم بَصْریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعبدالرحمٰن بن ابولیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جوشخص میری نمازکی اصلاح کرے تو میں اس پر اس کا شکر گزار ہوں گا۔
احادیث وروایات کی تشریحات:
(10803)…حضرت سیِّدُناابو تَوْبہ رَبیع بن نافعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اس حدیث مبارک کے بارے میں پوچھاگیا: ” يُوْشِكُ اَنْ يَاْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ اَفْضَلُ عِبَادَتِهِمُ التَّلَاوُمُ وَيُقَالُ لَهُمُ النَّتْنَى یعنی لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ان کے نزدیک سب سے افضل عبادت ملامت کرنا ہو گا اور انہیں گندہ کہا جائے گا۔ “ تو
________________________________
1 - یہ امام سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور بعض دیگر بزرگوں کا موقف ہے جبکہ ہمارے نزدیک قطعی فرائض میں سے کسی فرض کا انکار کرنے کے سبب کافر ہو گااورترک کے سبب اگرچہ جان بوجھ کرترک کرے فاسق وگناہ گارہوگاجیسا کہ سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: نماز روزہ و حج زکوٰۃ ادانہ کرنے سے آدمی کافر نہیں ہوتا جتنے دنوں ادا نہ کرے گا اس کی قضا اس پر فرض رہے گی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، ۸ / ۱۶۳)