Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
298 - 361
حکم دیا کہ  ” جنت میں جا اور پتوں کا گُچھا لے اسے لے کر میرے بندے محمد بن حِمْیَرکے پاس پہنچ۔  “ مجھے نیکی کہا جاتا ہے اور میں چوتھے آسمان میں رہتا ہوں۔ اے ابن حمیر حُسنِ سلوک کو لازم پکڑ لو کیونکہ یہ بُری موت سے بچاتا ہے اور جس کے ساتھ حُسنِ سلوک کیا جائے اگرچہ وہ اسے ضائع کر سکتا ہے لیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں یہ ضائع نہیں ہوتا۔ 
خیر خواہی کی فضیلت: 
(10790)…حضرت سیِّدُناابو عبداللہ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطرمخلوق کی خیرخواہی کو خود پر لازم کر لوکیونکہاللہ  عَزَّ    وَجَلَّ سے ملاقات کے وقت تمہارے پاس اس سے افضل عمل ہر گز نہ ہو گا۔ اگر آسمان سے کوئی فرشتہ آکر مجھے یہ خبر دے کہ تمام لوگ جنت میں جائیں گے اور جہنم میں صرف میں جاؤں گا تو میں اس پر بھی راضی ہو جاؤں گا۔ 
مسائل بتانے میں احتیاط: 
(10791)…حضرت سیِّدُنا مروان بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کوئی مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا:  میں نہیں جانتا۔ اس نے کہا:  ابو محمد! ایسا ہو چکا ہے ۔ آپ نے فرمایا: اگر  ہونے والی بات ہو جائے اور مجھے معلوم نہ ہو تو کس پر عمل کیا جائے گا؟ 
(10792)…حضرت سیِّدُنامروان بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے پاس بیٹھے ایک ضعیفُ العمر شخص سے فرمایا:  اے شیخ! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ اپنے شہروں میں فتویٰ دیتے رہتے ہیں۔ اس نے کہا:  جی ہاں ابو محمد!آپ نے ٹھیک کہا۔ فرمایا: خدا کی قسم! تم بہت نادان ہو۔ 
(10793)…حضرت سیِّدُنااحمد بن ابوداؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ساتھ نمازِجنازہ پڑھی پھرایک شخص نے آپ سے کوئی مسئلہ پوچھاتوآپ نے فرمایا:  ” مجھے نہیں معلوم۔  “  اور ایک مرتبہ ہم مسجِدُالحرام میں حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا:  ابو محمد! ہم جہاد کے لئے روم جائیں تو کیا چکی ساتھ لے جا سکتے ہیں؟آپ نے فرمایا:  یہ سوال شامی علمائے کرام سے کرو کیونکہ وہ اس بارے میں ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ 
ترتیبِ احکام اور مسلمانوں کا عمل: 
(10794)…حضرت سیِّدُناعَمْروبن عثمان رَقِّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کی:  ابو محمد! ایمان کے گھٹنے بڑھنے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: جتنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ چاہے ایمان بڑھتاہے اور گھٹتااتنا ہے کہ اس میں سے تمہارے پاس کچھ نہ رہے (1)یہ فرماتے ہوئے آپ نے تین انگلیاں بند کر کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے حلقہ بنا لیا ۔ اس شخص نے عرض کی:  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایمان زبان سے اقرار کرنے کا نام ہے ؟فرمایا:  ان کا قول ایمان کے حدود واحکام نازل ہونے سے پہلے تھا، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھیجا کہ لوگ ” لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ “  کا اقرار کریں جب انہوں نے اس کا اقرار کر لیا تو انہوں نے اپنے  خون اور مال کو محفوظ کر لیا سوائے اسلامی حق کے اوران کاحساباللہ عَزَّ   وَجَلَّکے ذمے ہے پھرجباللہ عَزَّ    وَجَلَّنے ان کے دلوں میں ایمان کوپختہ پایاتواپنے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکم فرمایا کہ وہ ان لوگوں کو نماز قائم کرنے کا حکم دیں پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے انہیں حکم دیاتوانہوں نے اس پرعمل کیا ، اگروہ ایسانہ کرتے توان کاپہلے والااقرارنفع نہ دیتا۔ جب اللہ عَزَّ       وَجَلَّ نے انہیں اس پر دل سے ثابت قدم پایا تو مکی مدنی سلطان، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کا حکم دیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم دیا تو انہوں نے عمل کیا، اگر وہ نہ کرتے تو ان کا پہلے والا اقرار اور نماز نفع نہ دیتے ۔ جب اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے انہیں اس پر دل سے عمل پیرا پایا تو اپنے نبیعَلَیْہِ السَّلَام  کو حکم فرمایا کہ وہ انہیں مَکۂ مکرمہ واپس جا کر اپنے آباء واجداد اور بیٹوں  سے اس وقت تک جہاد کرنے کا حکم دیں کہ وہ بھی ان کی طرح اقرار کریں اور ان جیسی گواہی دیں یہاں تک کہ کوئی شخص ایک سر لے کر آتا اورعرض کرتا کہ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ گمراہ سردار کاسر ہے ۔ پس  آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے حکم دیا تو انہوں نے عمل کیا، اگر وہ نہ کرتے تو ان کا پہلے والا اقرار، نماز اور ہجرت نفع نہ دیتے ۔ جب اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے انہیں اس پر دل سے عامل پایا تو حکم دیا کہ وہ بطور عبادتبیتُ اللہ کا طواف کریں اور عاجزی کے طور پراپنے سر منڈوائیں۔ چنانچہ انہوں نے  عمل کیا ، اگر وہ عمل نہ کرتے تو ان کا پہلے والا اقرار، نماز ، ہجرت اور مَکۂ مکرمہ لوٹناانہیں نفع نہ دیتا۔ جب اللہ عَزَّ    وَجَلَّ نے انہیں ان کاموں پر دل سے ثابت قدم پایا تو رسول اکرم، شَفیعِ مُعظّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکم فرمایا کہ وہ انہیں زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیں چاہے وہ کم بنتی ہو یا زیادہ ۔ پس آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لوگوں کو حکم دیاتو انہوں نے عمل کیا ، اگر وہ نہ کرتے تو ان کا پہلے والا اقرارِ ایمان، نماز ، ہجرت ، مَکۂ مکرمہ لوٹنا، بیتُ اللہ کا طواف اورسر منڈوانا، نفع نہ دیتا۔ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے انہیں پے در پے نازل ہونے ولے فرائض پر عمل کرتے اوران کا ادب کرتے پایا تو نبی مکرم، نُوْرِ مُجَسّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ارشاد فرمایا:  ان سے فرما دیجئے کہ 
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- (پ۶، المآئدة: ۳)
ترجمۂ کنز الایمان:  آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیااور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
	اس کے بعد حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جس نے ان میں سے کسی چیز کو سستی یا لاپروائی کی وجہ سے ترک کیا ہم اسے سزا دیں گے اور وہ ہمارے نزدیک 


________________________________
1 -   اس کے متعلق حاشیہ روایت نمبر: 9456 کے تحت گزر چکا ہے ۔