Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
297 - 361
تیرے جد امجد (حضرت سیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَام) کے ساتھ کیا کیا تھا؟اسی دوران ایک شخص پہاڑ سے نیچے آیا، اس سے زیادہ خوبصورت کوئی شے نہیں تھی، اس کی خوشبو سے اچھی کوئی خوشبو نہیں تھی اور اس سے صاف ستھرا لباس بھی کبھی کسی کا نہیں دیکھا گیا۔ اس نے آکر اس آدمی سے پوچھا:  تم ایسے خوفزدہ کیوں ہو؟ اس آدمی نے سانپ والی ساری بات اسے بتائی تو اس نے اسے کچھ دیا اور کہا: کھا جاؤ۔ اس آدمی نے جیسے ہی وہ چیز کھائی اس کے ہونٹ تھرتھرانے لگ گئے ۔ اس خوبصورت آدمی نے ایک اور چیز دیتے ہوئے کہا:  یہ بھی کھا جاؤ۔ اس آدمی نے وہ چیز کھائی تو اس کے ساتھ ایک ٹکڑا نکلاپھر اس نے خوبصورت آدمی سے پوچھا:  اللہ عَزَّ   وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے تم کون ہو؟ اس نے کہا:  میں بھلائی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ 
حکایت: حُسنِ سلوک ضائع نہیں ہوتا
(10789)…حضرت سیِّدُنایحیی بن عبد الحمید حِمَّانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مجلس میں بیٹھا تھا اس وقت کم وبیش ایک ہزار افراد آپ کی مجلس میں موجود تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے دائیں جانب مجلس کے آخر میں ایک شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:  کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں کو سانپ والا قصہ بتاؤ۔ اس شخص نے کہا:  مجھے سہارا دو۔ چنانچہ ہم نے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا تو اس کی پلکیں بھیگ گئیں، پھر اس نے کہا:  خبردار! غور سے سنو اور یاد کرلو میرے دادا نے میرے والد کو اور والد صاحب نے مجھے یہ بتایا کہ محمد بن حِمْیَر نامی ایک آدمی تھا جو کہ بہت نیک تھا، دن میں روزہ رکھتا اور رات کو عبادت کرتا تھااور شکار کرکے گزر بسر کرتا تھا۔ ایک دن وہ شکار کے لیے نکلا تو اچانک اس کے سامنے سانپ آگیا اور کہنے لگا:  اے محمد بن حمیر مجھے بچاؤ اللہ عَزَّ   وَجَلَّتمہیں بچائے ۔ محمد بن حمیر نے پوچھا:  کس سے بچاؤں؟ سانپ نے کہا:  میرے دشمن سے جو مجھے تلاش کر رہا ہے ۔ اس نے پوچھا:  تیرا دشمن کہاں ہے ؟ سانپ بولا:  میرے پیچھے ہے ۔ اس نے پوچھا:  تو کس اُمَّت سے ہے ؟ سانپ بولا:  اُمّتِ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہوں ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد بن حمیر نے بتایا کہ میں نے کہا:  میں اپنی چادر کھولتا ہوں تو اس میں آجا۔ 
 سانپ بولا:  میرا دشمن مجھے دیکھ لے گا۔ میں نے اپنے کپڑے اوپر اٹھائے اور کہا:  میرے کپڑوں میں آجا۔ اس نے کہا:  میرا دشمن مجھے دیکھ لے گا۔ میں نے پوچھا:  پھر میں تیرے ساتھ کیا کرسکتا ہوں؟ سانپ بولا:  اگر تم بھلائی کرنا چاہتے ہو تو میرے لیے اپنا منہ کھول دو تاکہ میں اس میں داخل ہو جاؤں۔ میں نے کہا:  مجھے ڈر لگ رہا ہے تم مجھے قتل کر دو گے ۔ سانپ بولا:  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم! میں تمہیں قتل نہیں کروں گا، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ، اس کے فرشتے ، اس کے انبیا، عرش اٹھانے والے فرشتے اورآسمان پر رہنے والے میری اس بات پرگواہ ہیں کہ میں تجھے قتل نہیں کروں گا۔ میں نے اس کی قسم پر مطمئن ہو کر اپنا منہ کھول دیا تو وہ میرے منہ میں داخل ہو گیا۔ پھر میں آگے بڑھا تو مجھے ایک آدمی ملا اس کے پاس تیز تلوار تھی اس نے مجھ سے کہا:  اے محمد!  میں نے کہا:  تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا:  کیا تم میرے دشمن سے ملے ہو؟ میں نے کہا:  تمہارادشمن کون ہے ؟ اس نے کہا:  ایک سانپ ہے ۔ میں نے کہا:  خدا کی قسم! نہیں۔ پھر میں نے اس انکار پر اپنے رب کی بارگاہ میں100سے زیادہ مرتبہ استغفار کیا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ سانپ کہاں ہے ؟ اس کو جواب دے کرمیں آگے بڑھا تو سانپ نے میرے منہ سے اپنا سر باہر نکال کر کہا:  ذرا دیکھنا کیا  دشمن چلا گیا؟ میں نے مُڑ کر دیکھا تو کوئی آدمی نہیں تھا، میں نے کہا:  مجھے کوئی آدمی نظر نہیں آرہا اگر تم نکلنا چاہو تو نکل جاؤ۔ اس نے کہا:  کچھ دیر انتظار کرو۔ میں نے صحرا میں نگاہیں دوڑائیں تو مجھے کوئی سایہ، کوئی واضح چیز اور انسان دکھائی نہ دیا، میں نے کہا:  اگر تم نکلنا چاہو تو نکل جاؤکیونکہ مجھے کوئی انسان دکھائی نہیں دے رہا۔ اس نے کہا:  اے محمد! ابھی نکلتا ہوں تم دو میں سے ایک بات کو اختیار کر لو۔ میں نے کہا:  وہ کیا؟ اس نے کہا:  میں تمہارا جگرچاک کرکے تمہارے پیٹ میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں یاتمہیں پھاڑکربغیرروح کاجسم کرچھوڑدوں؟ میں نے کہا:  واہ سُبْحٰنَ اللہ!وہ وعدہ کہاں گیا جو تم نے مجھ سے کیا تھا؟ وہ عہد کہاں گیا جو تمہارا مجھ سے ہوا تھا؟ کہاں گئی وہ قسم جو تم نے میرے لئے کھائی تھی؟ تم نے کتنی جلدی اسے بُھلا دیا۔ اس نے کہا:  اے محمد! تم نے اس دشمنی کو کیوں بھلا دیا جو میرے اور تمہارے باپ حضرت آدم(عَلَیْہِ السَّلَام)کے مابین تھی جب میں نے انہیں راہ بُھلا کر جنت سے علیحدہ کروایاتھا، پھر میں کیسے اچھا کام کر سکتا ہوں۔ میں نے کہا:  کیاضروری ہے کہ تم مجھے قتل ہی کرو؟اس نے کہا:  خدا کی قسم! تمہیں قتل کرنا ضروری ہے ۔ میں نے کہا:  تُو مجھے کچھ مہلت دے تاکہ میں اُس پہاڑ کے نیچے اپنے لئے کسی جگہ قبر کھود لوں۔ اس نے کہا:  اپنا کام کرلو۔ پھر میں اپنی زندگی سے مایوس ہو کر پہاڑ کی طرف چل پڑا، اسی دوران میں نے آسمان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اور کہا: 
	يَالَطِيْفُ اُلْطُفْ بِلُطْفِكَ الْخَفِيِّ يَالَطِيْفُ بِالْقُدْرَةِ الَّتِي اسْتَوَيْتَ بِهَاعَلٰی عَرْشِكَ فَلَمْ يَعْلَمِ الْعَرْشُ اَيْنَ مُسْتَقَرُّكَ مِنْهُ اِلَّا كَفَيْتَنِيْهَایعنی اے لطیف!مجھ پر اپنا پوشیدہ لطف وکرم فرما، اے لطیف! میں تیری قدرت کے طفیل تجھ سے سوال کرتا ہوں جس کے ساتھ تو عرش پر (اپنی شان کے مطابق) استو فرمائے ہوئے ہے اور عرش بھی نہیں  جانتا کہ تیرا ٹھکاناکہاں ہے ؟ پس اس سانپ سے میری حفاظت فرما۔ پھر میں چلنے لگا تو مجھے ایک نیک شخص ملا جس کا چہرہ روشن ، جسم میل کچیل سے پاک اور خوشبوسے مہک رہا تھا، اس نے مجھے سلام کیا، میں نے  سلام کا جواب دیا تواس نے کہا: مجھے آپ کا رنگ بدلا ہوا کیوں دکھائی دے رہا ہے ؟ میں نے کہا:  اے میرے بھائی ایک دشمن کی وجہ سے جس نے مجھ پر ظلم کیا۔ اس نے پوچھا:  تمہارا دشمن کہاں ہے ؟ میں نے کہا:  میرے پیٹ میں۔ اس نے کہا:  اپنامنہ کھولو، میں نے اپنا منہ کھولا تو اس نے میرے منہ میں زیتون کے پتّے جیسی کوئی سبز چیز رکھ دی اور کہا:  اسے چبا کر 
نگل لو۔ میں نے اسے چبا کر نگل لیا، تھوڑی ہی دیر میں میرے پیٹ میں مروڑ اٹھا اورمیرے نیچے کے راستے سے سانپ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرنے لگا، پھر میں اس شخص سے لپٹ گیا اور کہا:  اے میرے بھائی!میں اللہ  عَزَّ    وَجَلَّ کی حمدکرتا ہوں جس نے مجھ پر تمہارے ذریعے احسان فرمایا۔ یہ سن کر وہ مسکرایا اور کہا:  کیا تم مجھے نہیں پہچانتے ؟ میں نے کہا:  بخدا! نہیں پہچانتا۔ اس نے کہا:  اے محمد بن حمیر! جب تمہارے اور اس سانپ کے مابین معاملہ ہوا اورپھرتم نے وہ دعا کی تو ساتوں آسمانوں کے فرشتے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں باآوازِ بلند دعائیں کرنے لگے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:  میری عزت و جلال، میرے جودوکرم اور میری بلندشان  کی قسم! میں نے وہ سارا معاملہ دیکھا ہے جو سانپ نے میرے بندے کے ساتھ کیا۔ پھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے