سیِّدُنافاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا توکل ویقین کامل:
(10785)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن اَرْقَمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا: میں ہرمہینے بیْتُ المال کو تقسیم کیا کروں گا، نہیں بلکہ ہر ہفتے بانٹ دیا کروں گا۔ حضرت سیِّدُناطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: امیرالمؤمنین! اگر آپ بیْتُ المال سے کچھ بچا کر رکھیں تو ہو سکتا بعد میں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جہاں اس کی ضرورت ہوکیا معلوم مسلمانوں پر کوئی آفت آجائے تو کچھ توپیچھے ہونا چاہیے ۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: یہ بات شیطان نے تمہاری زبان پر ڈالی ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اس کی حجت تلقین فرمائی ہے اور مجھے اس کے فتنے سے محفوظ رکھا ہے ، ایسی باتیں میرے بعد والوں کے لیے یقیناً فتنہ ہوں گی، کیا میں آنے والے سال کے خوف سے موجودہ سال اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کروں؟بلکہ میں ان کے لیے وہی تیاری کروں گا جیسیرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے لیے فرمائی ، اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ (پ۲۸، الطلاق: ۲ ، ۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو اللہسے ڈرے اللہاس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔
اخلاقی خوبیاں لانے والے :
(10786)…فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠(۱۰) (پ۱۷، الانبیآء: ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اُتاری جس میں تمہاری ناموری ہے تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اس آیتِ مبارکہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اخلاقی خوبیوں کے ساتھ قرآنِ پاک حضور خاتَم الانبیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اتارا، پس وہ انہیں خوبیوں سے بلند ہوتے ہیں اور انہیں کے سبب ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں۔ وہ خوبیاں یہ ہیں: پڑوسی سے اچھابرتاؤ، وعدہ پوراکرنا، سچ بولنااورامانت اداکرنا، تمہارے پاساللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہاری اخلاقی خوبیوں کے ساتھ آئے ہیں جن کے ذریعے تم بلند اور عظیم ہوتے ہو تو دیکھو کیا وہ کوئی ایسی بُری خصلت لائے ہیں جسے تم بُرے اخلاق سے شمار کرتے اور عیب دار سمجھتے ہو؟کیا انہوں نے بُرے کو بُرا اوراچھے کواچھانہ کہا؟حضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے فرمایا: تمہارادین قرآنی اَخلاق تم پرلازم کئے ہوئے ہے ۔
ذکرِ مصطفے کی بلندی:
حضرت سیِّدُناامام مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِداس آیتِ مبارکہ:
وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴) (پ۳۰، الم نشرح: ۴) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ جب بھی میرا ذکر کیا جائے گا میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی کیا جائے گا، پھر آپ نے یہ پڑھا: اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
(10787)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمکہ شریف تشریف لائے تو وہاں آلِ منکَدَر کا ایک شخص فتوٰی دیا کرتا تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی وہاں فتوٰی دینا شروع کر دیا۔ ادھر ان منکدری نے کہا: معلوم کیا جائے کہ یہ کون ہے جو ہمارے شہر میں آکر فتوٰی دینے لگا ہے ۔ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے انہیں لکھا: مجھے حضرت سیِّدُناعمرو بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنے حضرت سیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہُمَاکے حوالے سے بیان کیا کہ توریت شریف میں لکھا ہے : ” میرے جیسے کام کرنے والا میرا دشمن ہے ۔ “ اس کے بعد منکدری آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو کچھ کہنے سے بازآگئے ۔
حکایت: پیٹ میں چھپنے والا سانپ
(10788)…مکہ مکرمہ میں حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس کافی لوگ جمع تھے تو آپ نے ایک شخص سے کہا: لوگوں کو سانپ والا قصہ سناؤ۔ اس شخص نے بیان کیاکہ ایک آدمی شکار کرنے نکلا تو اس کی سواری کے اگلے پاؤں کی انگلیوں سے ایک سانپ نکل کر سامنے آگیا اور اپنی دم پر کھڑے ہو کر کہنے لگا: مجھے بچاؤ اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں بچائے گا۔ اس آدمی نے پوچھا: تو کون ہے ؟ سانپ نے کہا: میں ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ “ کی گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔ آدمی نے پوچھا: میں تجھے کس سے بچاؤں؟ سانپ بولا: اس سے جو تمہاری پیٹھ پیچھے ہے اگر وہ مجھ تک پہنچ گیا تو میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ آدمی نے پوچھا: میں تجھے کہاں چھپاؤں؟ سانپ بولا: اپنے پیٹ میں۔ چنانچہ آدمی نے اپنا منہ کھولا تو سانپ اس کے پیٹ میں چلا گیا۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس کی گردن میں لوہا تھا، اس نے آتے ہی کہا: اے اللہکے بندے !تیری سواری کے پیروں سے کوئی سانپ نکلا ہے ؟ اس نے کہا: میں نے تو کچھ نہیں دیکھا۔ آنے والے نے کہا: یہ تم کتنی عجیب بات کہہ رہے ہو۔ اس آدمی نے پھر کہا: میں نے تو کچھ نہیں دیکھا۔ چنانچہ وہ آنے والا واپس چلا گیا تو سانپ باہر آگیا اور اس آدمی سے پوچھا: تم نے اس آدمی کا جثہ اور کالا پن دیکھا ہے ؟ آدمی بولا: نہیں۔ سانپ بولا: اب میری دو باتوں میں سے ایک تجھے ماننی پڑے گی یا تو میں تیرے دل میں چھید کر کے تجھے قتل کر دوں یا پھر تیرے کلیجے کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں۔ اس آدمی نے کہا: یہ تو مجھے کیسا بدلا دے رہا ہے ؟سانپ بولا: جسے تو جانتا نہیں اس کے ساتھ بھلائی کیوں کی؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں نے