Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
295 - 361
کس عورت سے نکاح کیا جائے ؟
(10780)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن یحییٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہا:  اے ابو محمد!میں آپ سے اپنی بیوی کی شکایت کرنے آیا ہوں، میں اس کے نزدیک سب سے بڑھ کر ذلیل وحقیر ہوں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تھوڑی دیر کے لیے سر جھکا لیا پھر سر اٹھاکر فرمایا: تم نے اپنی عزت میں اضافے کے لئے اس میں رغبت کی ہو گی ؟ اس نے کہا:  ابو محمد! بات تو یہی ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  جو عزت تلاش کرنے گیا وہ ذلت میں مبتلا ہوا، جو مال کی طرف بڑھاوہ محتاج ہوا اور جودِین کی طرف بڑھااللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اسے دین کے ساتھ ساتھ مال اور عزت بھی عطا فرما دیا۔ پھر اسے اپنا واقعہ سناتے ہوئے فرمایا:  ہم چار بھائی تھے ، محمد، عمران، ابراہیم اور میں، محمد سب سے بڑے ، عمران سب سے چھوٹے اور میں درمیانہ تھا، محمد نے شادی کرنے کا ارادہ کیا توعمدہ خاندان کی طرف راغب ہوا یوں اس نے خود سے اعلیٰ خاندان والیسے شادی کر لی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اسے ذلت میں مبتلا کر دیا، عمران مال کی طرف راغب ہوا تو خود سے زیادہ مالدار عورتسے شادی کر لی تو اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے فقرومحتاجی میں مبتلا کر دیا ، اس کے پاس جو کچھ تھا سسرال والوں نے لے لیا اور اسے کچھ بھی نہ دیا، میں ابھی باقی تھا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا مَعْمَر بن راشد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہمارے ہاں تشریف لائے تو میں نے ان سے مشورہ کیا اور اپنے بھائیوں کا قصہ بھی ان کے گوش گزار کر دیا۔ انہوں نے مجھ سے حضرت سیِّدُنایحییٰ بن جعدہ اور اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی حدیث بیان کی حضرت سیِّدُنایحییٰ بن جَعْدہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیثِ مبارک تو یہ ہے کہ حضور نبی اکرم، رسولِ محتشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ” عورت سے چار باتوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے ، اس کے دِین، اس کے حسب (خاندانی شرافت)، اس کے مال اور اس کے جمال کی وجہ سے پس تم پر لازم ہے کہ دین دار سے شادی کرومالدار ہو جاؤ گے ۔  “ (1) جبکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہَاسے مروی حدیث یہ ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ” عورتوں میں سب سے زیادہ برکت والی وہ ہوتی ہے جس کا حق مہر کم ہو۔  “ (2)چنانچہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّمکی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے لیے دین کو اور کم بوجھ والی کو اختیار کیا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دین کے ساتھ ساتھ مجھے عزت اور مال بھی عطا فرما دیا۔ 
(10781)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: قول وعمل ایمان ہے ۔ پوچھا گیا:  کیا ایمان گھٹتا بڑھتا بھی ہے ؟ فرمایا:  ہاں، پھر زمین سے ذرہ اٹھایا اور فرمایا:   اتنا گھٹتاہے کہ اس جتنا بھی نہیں رہتا پھر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی: 
فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا (پ۱۱، التوبة: ۱۲۴)                                                                        ترجمۂ کنز الایمان: ان کے ایمان کو اس نے ترقی دی۔
عاجزی وانکساری: 
(10782)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:  میں مسجد جایا کرتا تو لوگوں کو غور سے دیکھتا جہاں مجھے بوڑھے یا بڑی عمر کے لوگ نظر آتے میں وہاں جا کر بیٹھ جاتا جبکہ آج مجھے اِن بچوں نے گھیر رکھا ہے ۔ پھر یہ شعر پڑھا: 
خَلَتِ الدِّيَارُ فَسُدْتُ غَيْرَ مُسَوَّدِ		وَمِنَ الشَّقَاءِ تَفَرُّدِيْ بِالسُّؤْدَدِ
ترجمہ:  شہر خالی ہو گئے تو میں بغیر بنائے سردار بن گیا  اور صرف میرا سرداری کے لئے بچ جانا بدنصیبی کی بات ہے ۔
(10783)…حضرت سیِّدُناعباس تَرقُفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ ایک دن سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہمارے پاس آئے اور حدیث لینے والوں کو دیکھ کر فرمایا:  کیا آپ لوگوں میں کوئی مصرسے آیا ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا:  ہاں۔ آپ نے پوچھا: وہاں لَیْث بن سعد کا کیا حال ہے ؟بتایا گیا کہ ان کا وصال ہو چکا ہے ۔ پھر پوچھا:  کیا تم میں سے کوئی رملہ کا رہنے والا ہے ؟ انہوں نے کہا:  ہاں۔ آپ نے پوچھا:  وہاں ضَمْرہ بن ربیعہ رَملی کو کیا ہوا؟ بتایا گیا کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے ۔ پھر پوچھا:  کیا تم میں کوئی حِمْص کا رہنے والا ہے ؟ انہوں نے کہا:  جی ہاں۔ فرمایا:  بَقِیَّہ بن ولید کو کیا ہوا؟ جواب ملا کہ ان کا بھی انتقال ہو چکا ہے ۔ پھر پوچھا:  کوئی اہْلِ دمشق میں سے بھی ہے ؟ انہوں نے کہا:  جی ہاں۔ آپ نے پوچھا:  تو ولید بن مسلم کو کیا ہوا؟ انہوں نے کہا:  وہ بھی وصال فرما چکے ۔ پھر پوچھا:  کوئی قِیساریہ کا رہنے والا بھی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا:  جی ہاں۔ فرمایا:  محمد بن یوسف فِریابی کو کیا ہوا؟ انہوں نے کہا:  وہ بھی انتقال فرما چکے ہیں۔ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کافی دیر تک روتے رہے پھر یہ شعر کہا: 
خَلَتِ الدِّيَارُ فَسُدْتُ غَيْرَ مُسَوَّدِ		وَمِنَ الشَّقَاءِ تَفَرُّدِيْ بِالسُّؤْدَدِ
ترجمہ:  شہر خالی ہو گئے تو میں بغیر بنائے سردار بن گیا  اور صرف میرا سرداری کے لئے بچ جانا بدنصیبی کی بات ہے ۔
(10784)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے اس آیتِ مبارکہ کے بارے میں پوچھا گیا: 
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ  (پ۱۴، النحل: ۹۰)	ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہحکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی(کا)۔
	آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: عدل سے مراد انصاف اور احسان سے مراد فضل ہے ۔ پوچھا گیا: اللہ  عَزَّ    وَجَلَّ نے خود کو مؤمن کس وجہ سے فرمایا ہے ؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  عبادت کے سبب اس کے عذاب سے امن ہوگا۔ 



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الرضاع، باب استحباب نکاح ذات الدین، ص۷۷۲، حدیث: ۱۴۶۶، عن ابی ھریرة
2 -   سنن کبری للنسائی، كتاب عشرة النساء، باب بركة المرأة، ۵ / ۴۰۲، حدیث: ۹۲۷۴