فرمایا: جس کے شکر پرحلال اور جس کے صبر پر حرام غالب نہ آئے ۔
(10765)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: پچھلے سالوں میں گزرے ہوئے بُرے لوگ تمہارے آج کے بھلے لوگوں سے بہتر تھے ۔
(10766)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ خلیفہ ہارون رشید نے حضرت سیِّدُناابو اسحاق فَزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیسے کہا: اے شیخ!اہْلِ عرب میں آپ کا کافی مقام ومرتبہ ہے ۔ انہوں نے فرمایا: قیامت کے دن یہ مقام ومرتبہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سامنے مجھے کچھ کام نہ دے گا۔
شدید ترین حسرت والے :
(10767)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: منقول ہے کہ قیامت کے دن تین طرح کے لوگوں کو شدیدترین حسرت ہو گی: (۱)…وہ شخص جس کا غلام قیامت کے دن اس سے اچھے عمل لے کر آئے گا۔ (۲)…وہ شخص جو دنیا میں مالدار تھا مگر اس نے اپنے مال سے صدقہ نہیں کیا تو مرنے کے بعد جو اس کا وارث بنا اس نے اُس مال سے صدقہ کیا اور (۳)…وہ شخص جس نے اپنے علم سے نفع نہیں اٹھایا مگر دوسرے نے اس سے سیکھا اور نفع اٹھایا۔
(10768)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے طالبانِ حدیث کی کثرت دیکھی تو فرمایا: ایک تہائی بادشاہ کے پیچھے ہو لیں گے ، ایک تہائی فلاح نہیں پائیں گے اورایک تہائی مر جائیں گے ۔ (10769)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک شخص کو اپنے دوستوں کی مذمت کرتے سنا تو فرمایا: دوستوں کی آپس کی ایک صحبت کتے جیسی بھی ہوتی ہے اگرتم اس سے بچ سکتے ہو تو بچو۔
(10770)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: دوستوں سے بھلائی کرنا ان کی دشمنی سے بچنے کا قلعہ ہے ۔
(10771)…حضرت سیِّدُناسفیانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے فرمایا: آدمی تقوٰی کی حقیقت کواس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک اپنے اور حرام کے درمیان حلال کو آڑ نہ بنا لے اور جب تک گناہ اور گناہ سے مشابہ کام کو نہ چھوڑ دے ۔
(10772)…حضرت سیِّدُناسفیانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناابو حازمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: دعا قبول نہ ہونے کے مقابلے میں مجھے اس بات سے زیادہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں دعاہی سے منع نہ کر دیا جاؤں۔
گناہ غم میں مبتلا کرتا ہے :
(10773)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے فرمایا: بندہ گناہ کر لیتا ہے تو اس کی وجہ سے ہمیشہ غمگین رہتا ہے ۔
(10774)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناابو حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ایک شخص نیکی ہی کرتا رہے کبھی گناہ نہ کرے تو(نیکی پر اترانے کی وجہ سے )یہ نیکی گناہ سے زیادہ نقصان دہ ہو جاتی ہے اور کوئی شخص گناہ ہی کرتا رہے کبھی نیکی نہ کرے تو (گناہ پر خوف وندامت کی وجہ سے )یہ نیکی سے بھی زیادہ فائدہ مند ہو جاتا ہے ۔
(10775)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مالک بن مِغْوَل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا: اے سفیان! جس زمانے میں لوگ تیرے محتاج ہوں گے یقیناً وہ برا زمانہ ہو گا۔
(10776)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے 80 مرتبہ وقوفِ عرفہ کیا ہے (یعنی 80 حج کیے ہیں)۔
جان پہچان کم رکھو:
(10777)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ عابدوزاہد بزرگ حضرت سیِّدُنابشر بن منصور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا: اے سفیان! لوگوں سے جان پہچان کم رکھوتاکہ کل قیامت میں جب تمہیں تمہارے برے اعمال کے ساتھ بلایا جائے تو تمہاری رسوائی کم ہو۔
(10778)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا مُساوِر وَرَّاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقکو فرماتے سنا: کم لوگوں والی مجلسیں ہی پاک ہوتی ہیں۔
(10779)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنامِسْعَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ایک شخص نے سمندری سفر کیا تو اس کی کشتی ٹوٹ گئی تو وہ ایک جزیرے میں جاپہنچا اور وہاں تین دن تک ایسے گزرے کہ نہ اسے کوئی نظر آیا نہ اس نے کچھ کھایا پیا پھر یہ شعر کہنے لگا:
اِذَا شَابَ الْغُرَابُ اَتَيْتُ اَهْلِيْ وَصَارَ الْقَارُ كَاللَّبَنِ الْحَلِيْبِ
ترجمہ: جب کَوّا جوان ہو جائے گا اور تارکول تازہ دوھوئے ہوئے دودھ کی طرح ہو جائے گا تو میں اپنے گھر والوں کے پاس جاؤں گا۔
غیب سے کسی نے جواب دیتے ہوئے یہ شعر کہا:
عَسَى الْكَرْبُ الَّذِيْ اَمْسَيْتَ فِيْهِ يَكُوْنُ وَرَاءَهٗ فَرَجٌ قَرِيْبُ
ترجمہ: امید ہے جس تکلیف میں تو نے کل بسر کی ہے اس کے بعدعنقریب کوئی فراخی وکشادگی ہو۔
اتنے میں اس نے دیکھا تو ایک کشتی آرہی تھی، اس نے کشتی والوں کو اشارہ کیا تو انہوں نے اسے سوار کر لیا۔ چنانچہ اسے بہت بھلائی نصیب ہو گئی۔