Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
293 - 361
فَاحْذَرُوْهُمْۚ- (پ۲۸، التغابن: ۱۴)	ترجمۂ کنز الایمان: تو ان سے احتیاط رکھو۔
	یوں ہی ایک اور مقام پر علم کے بعد عمل کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: 
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ- (پ۱۰، الانفال: ۴۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو تو اس کا پانچواں حصہ خاصاللہ اور رسول اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے ۔
(10754)…حضرت سیِّدُناحامدبن یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوفرماتے سناکہ حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابنے فرمایا: عالِم کا ایک گناہ معاف ہونے سے پہلے جاہل کے 70گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔ 
10 ہزار آوازیں: 
(10755)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناایوبعَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:  اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! تو جانتا ہے کہ جب بھی مجھے دو کام درپیش ہوئے جن میں سے ایک میں تیری رضا اور دوسرے میں میری خواہش  تھی تو میں نے اپنی خواہش پر تیری رضا ہی کو ترجیح دی ہے ۔ اتنے میں بادلوں میں سے 10ہزار آوازیں آئیں:  اے ایوب!ایسا تمہارے ساتھ کس نے کیا؟ تو حضرت سیِّدُنا ایوب عَلَیْہِ السَّلَامنے اپنے سر پر مٹی ڈالی پھرعرض کی:  تو نے اے میرے ربّ! تو نے ۔ 
قناعت ورضاوالے : 
(10756)…حضرت سیِّدُناابنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ سلیمان بن عبدالملک نے حضرت سیِّدُناابو حازمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کہا: مجھے اپنی حاجت بتائیے ۔ انہوں نے فرمایا: چلوہٹو!میں اپنی حاجت  اس کی بارگاہ میں پیش کر چکا ہوں جس کے سوا کہیں اور حاجتیں جمع نہیں ہوتیں، تو اس نے جو کچھ مجھے عطا کیا میں نے اس پرقناعت کی اورجومجھے سے دوررکھامیں اس پر راضی رہا۔ مزید فرماتے ہیں:  حضرت سیِّدُنا ابو حازم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہحاکِمِ مدینہ کے پاس گئے تواس نے کہا:  کلام فرمائیے ۔ آپ نے فرمایا: اپنے دروازے پرآنے والے لوگوں  میں غورکرواگر تم نیک لوگوں کو قریب کروگے تو شریرلوگ دور ہو جائیں گے اور اگر شریروں کو قریب کرو گے تو نیک دور ہو جائیں گے ۔ 
(10757)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے عرض کی گئی: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابکے آنسو خشک ہونے کو نہیں آرہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے فرمایا: کہا جاتا ہے کہ جب دل خوش ہوتا ہے تو آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں۔ اتنا کہنے کے بعد آپ نے ایک تکلیف دہ سانس بھری۔ 
احکام کون نافذ کرسکتاہے ؟
(10758)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے حکم کو وہی قائم کرتا ہے جونہ نرمی کرے نہ بناوٹ ودکھلاوا کرے اور نہ خواہشاتکے پیچھے چلے ۔ 
(10759)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا:  ہائے اس بات پر غم کہ مجھے کوئی غم نہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ  میرے خیال میں وہ شخص آپ ہی ہیں۔ 
(10760)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناامام حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا:  تم ہمیشہ کے لیے پیدا کئے گئے ہو بس ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل کئے جاؤ گے ۔ 
دن تین ہی ہیں: 
(10761)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:  کہا جاتا تھا کہ دن تین ہی ہیں ایک گزشتہ کل حکمت والا دن تھاجو چلا گیا  اور اپنی حکمت تمہارے پاس چھوڑ گیا، دوسرا آج کا دن  جو رخصت ہونے والا دوست ہے جولمبا عرصہ چھپ کر تجھ سے محبت کرتا رہاحتّٰی کہ یہ خود تمہارے پاس آگیا ، تم اس کے پاس نہیں  گئے اور یہ بہت جلد تمہیں چھوڑ جائے گااور تیسرادن  آنے والا کل  ہے جس کے بارے میں تم نہیں جانتے کہ تم اسے پا سکو گے یا نہیں۔ مزید فرماتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  تم پر سچ بولنا لازم ہے اگر تم میں سے کوئی سچ کو اپنے لیے ہلاکت خیز گمان کرے تو بے شک وہی اس کے لیے سب سے بڑا نجات دہندہ ہے ۔ 
(10762)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جوبندہ 40دن تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لیے خالص عمل کرے تواللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کے دل کوحکمت سے بھردیتاہے اوراسے اس کی زبان پرجاری فرمادیتاہے اور اسے دنیا کے عیوب ان کی بیماریوں اور علاج کے ساتھ دکھا دیتا ہے ۔ نیز فرماتے ہیں : تمہارے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ برے بادشاہ ہیں۔ اور وہ علم ہے جس پر عمل نہ کیا جائے ۔ 
نعمت کیوں دی جاتی ہے ؟
(10763)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: شکرگزاروہ ہے جوجانتاہوکہاللہعَزَّ  وَجَلَّ نے خاص طور پر یہ نعمت مجھے اس لیے دی ہے کہ وہ دیکھے کہ میں کتنا شکر اور کتنا صبر کرتا ہوں۔ 
(10764)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناامام زہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے پوچھا گیا کہ دنیا سے بے رغبتی کا کیا مطلب ہے ؟تو انہوں نے