(10747)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: نیکوکار اس وقت پہچانے جاتے ہیں جب انہیں یہ پسند ہو کہ نہ پہچانے جائیں۔
(10748)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: یہ کہا جانا کہ ” تمہارے اندر برائی ہے ۔ “ اور وہ تم میں نہ ہو یہ کہے جانے سے بہتر ہے کہ ” تمہارے اندر بھلائی ہے ۔ “ اگرچہ وہ تم میں موجود ہو۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی:
اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْؕ-لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْؕ-بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْؕ- (پ۱۸، النور: ۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں ایک جماعت ہے اسے اپنے لیے بُرا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔
(10749)…حضرت سیِّدُنامحمدبن صباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوفرماتے سناکہ تمہیں اپنے پاس آتا دیکھ کر مجھے خود پر غصہ آتا ہے تودل میں کہتا ہوں: یہ لوگ میرے پاس اس لیے آئے ہیں کہ یہ مجھے نیک سمجھتے ہیں۔
(10750)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: عِنْدَ ذِکْرِالصَّالِحِیْنَ تَنَزَّلُ الرَّحْمَۃُ یعنی نیک لوگوں کے ذکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے ۔
نماز کی عزت وتوقیر:
(10751)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: مصیبتوں کو چھپانا سب سے بڑی نیکی ہے ۔ نیزفرمایا: برے غلام کی طرح نہ ہو کہ جب تک بلایا نہ جائے آتا ہی نہیں، اذان سے پہلے ہی نماز کے لیے آجایا کرو۔ آپ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ کسی نے فرمایا ہے : اقامت سے پہلے نماز کے لیے آجانا نماز کی عزت وتوقیر ہے ۔
(10752)…حضرت سیِّدُنااسحاق بن ابراہیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّحِیْمبیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوفرماتے سناکہ ہر بندے کے خلاف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس دلیل ہے یا تو بندے کے گناہ کرنے کی یا پھر کسی نعمت کا شکر ادا کرنے میں کوتاہی کرنے کی۔
علم عمل سے پہلے ہے :
(10753)…مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے علم کی فضیلت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے یہ فرمانِ باری تعالیٰ نہیں سنا:
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ (پ۲۶، محمد: ۱۹) ترجمۂ کنز الایمان: تو جان لوکہاللہکے سواکسی کی بندگی نہیں۔
دیکھو کہ پہلے علم سے ابتدا فرمائی پھر عمل کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ (پ۲۴، المؤمن: ۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو۔
اوروہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کی گواہی دینا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاسی کے سبب مغفرت فرمائے گا جس نے یہ کہا وہ بخش دیا گیا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَۚ (پ۹، الانفال: ۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: تم کافروں سے فرماؤ اگروہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرما دیا جائے گا۔
اور فرمایا:
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳) (پ۹، الانفال: ۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہانھیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔
یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکوایک مانتے ہیں۔ مزید ارشادفرمایا:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰)(پ۲۹، نوح: ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے ۔
اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں : یعنی اسے ایک مانواور علم عمل سے پہلے ہے ، کیا یہ فرمانِ عالی نہیں دیکھتے :
اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِؕ-كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًاؕ-وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌۙ-وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۲۰) سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِۙ- (پ۲۷، الحدید: ۲۰، ۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان: جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا اس مینھ کی طرح جس کا اگایا سبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھاکہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا)ہو گیااور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ۔
پھر یہ بھی ارشاد فرمایا:
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌۙ- (پ۹، الانفال: ۲۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے ۔
پھراس علم کے بعد عمل کا حکم فرمایا: