ہاں فضل والوں میں لکھ دیتا ہے پھر اگر وہ کوئی ایساگناہ کر بیٹھے جسے لوگ نہیں جانتے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے فضل والوں سے ہٹا کراہْلِ عدل میں شامل فرمادیتا ہے مگر اسے حد سے بڑھنے والوں میں نہیں لکھتا کیونکہ اس کا گناہ اس کی ذات تک محدود ہوتا ہے ، کوئی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے سامنے تجارت کرتا ہے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی دلی حالت سے باخبر ہوتا ہے کہ یہ دنیا سے کنارہ کش ہے اور کوئی لوگوں کے سامنے دنیا سے بے رغبتی کا اظہار کرتا ہے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے دل کو جانتا ہے کہ یہ دنیا کو پسند کرنے والا ہے ۔
بندے کے لیے کون سی حالت افضل ہے ؟
(10738)…حضرت سیِّدُناعُمَربن سَکَنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس تھا، اتنے میں بغداد کا رہنے والا ایک شخص کھڑا ہوا اور ان سے پوچھا: اے ابو محمد!مجھے حضرت مُطَرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے اس قول کے بارے میں کچھ بتائیے کہ’’میں مصیبت میں مبتلا کیا جاؤں اور اس پر صبر کروں مجھے اس سے زیادہ یہ پسند ہے کہ میں ٹھیک ٹھاک رہوں اور شکر کروں۔ ‘‘ کیا آپ کو یہ قول پسندہے یا پھر ان کے بھائی حضرت ابوعَلاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا یہ قول کہ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو جو بھی میرے لیے پسندکرے میں اس پرراضی ہوں۔ ‘‘ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھرفرمایا: مجھے حضرت مُطَرِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بات زیادہ پسندہے ۔ اس شخص نے کہا: وہ کیسے حالانکہ حضرت ابولعلاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتو رضائے الٰہی میں راضی تھے ؟حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: میں نے قرآنِ پاک پڑھاہے اس میں حضرت سیِّدُناسلیمانعَلَیْہِ السَّلَام کاذکرہے وہ صحت وسلامتی کے ساتھ تھے ، ان کے بارے میں ربّ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ(۳۰) (پ۲۳، صٓ: ۳۰) ترجمۂ کنز الایمان: کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا۔
اور حضرت سیِّدُناایوب عَلَیْہِ السَّلَامکا ذکر بھی ہے جو آزمائش میں مبتلا کئے گئے تو ان کے بارے میں بھی ربّ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ(۳۰) (پ۲۳، صٓ: ۴۴) ترجمۂ کنز الایمان: کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والاہے ۔
دونوں کی ایک ہی صفت بیان ہوئی ہے جبکہ ایک صحت وسلامتی کے ساتھ تھے اور ایک آزمائش میں مبتلا کئے گئے ، میں نے دیکھا کہ شکر صبر کے قائم مقام ہے اور جب دونوں آمنے سامنے ہو گئے تو مجھے صحت وسلامتی کے ساتھ شکر کرنا مصیبت پر صبر کرنے سے زیادہ پسند آیا۔
(10739)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ کہا جاتا تھا: فخر وتکبر کو چھوڑو اور لمبے عرصے تک قبر میں پڑے رہنے کو یاد کرو۔
نیکوں کے ساتھ رہنے کی دعا:
(10740)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: جب تک تم اپنے نیکوں کو پسند کرتے رہو گے بھلائی پر رہو گے اور جو تمہارے بارے میں سچی بات کہی جائے اسے پہچانو، ہلاکت ہے تمہارے لیے جب تمہارے درمیان عالِم کی حیثیت مرداربکری کی طرح ہو۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہیہ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں ہمارے نیکوں کے ساتھ رکھ اور ہمارے بروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہم سب کو نیک بنا دے اور ہمارا معاملہ بھی نیکوں کے ساتھ فرما اور جب تو نیکوں کو وفات دے دے تو ہمیں بھی ان کے بعد زندہ نہ رکھنا۔
اصل زندگی اور حقیقی بقا:
(10741)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: پہلا جا پہنچا اور دوسرا تھکا ہارا ہانکا جا رہا ہے ، بے پایاں انعامات اورچھن جانے کا سخت وزبردست وقت دونوں قریب آچکے ہیں لہٰذاجسے پیچھے چھوڑ جانا ہے اس کے بجائے جس کی طرف بڑھ رہے ہو اس کی اصلاح کرو، حق خالق عَزَّ وَجَلَّ کے لیے اور شکر اسی انعام کرنے والے کے لیے ہے ، اصل زندگی موت کے بعد اور حقیقی بقا قیامت کے بعد ہے ۔
(10742)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص عالِم تھا اور دوسرا عابد، عالم نے عابد سے کہا: آخر کیا بات ہے آپ میرے پاس نہیں آتے حالانکہ لوگ میرے پاس آتے ہیں اور وہ میرے علم کے محتاج ہیں؟عابد نے کہا: مجھے تھوڑی بہت نیکی کرنی آتی ہے اور میں اسی پر عمل پیرا ہوں جب وہ میرے پاس سے ختم ہو جائے گی تو آپ کے پاس حاضر ہو جاؤں گا۔
نوجہاد نفس کے ساتھ ہیں:
(10743)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: دل میں چھپی دشمنی حسد ہوتی ہے اور حسد سے برائی ہی نکلتی ہے اور جو بچ جائے وہ بھی دشمنی ہی ہوتی ہے ۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس میں کچھ نہ کچھ حسد نہ ہو۔ کہا جاتا تھا: جہاد10قسم کاہے ایک جہاد دشمن کے ساتھ اور باقی نو تیرے اپنے نفس کے ساتھ۔
(10744)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اصحابِ حکمت کے ساتھ بیٹھاکرو کیونکہ ان کی مجلس غنیمت، ان کی صحبت سلامتی اور ان کی دوستی عزت ہے ۔
(10745)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اس آیتِ مبارکہ کے بارے میں پوچھا گیا:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪ (پ۶، المآئدة: ۲) ترجمۂ کنز الایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔
تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: مطلب یہ ہے کہ تم نیکی وپرہیزگاری کرو، اسی کی دعوت دو، اسی پر مدد کرو اوراسی کی طرف رہنمائی کرو۔
(10746)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: متقین کو متقین اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ اس چیز سے بچتے ہیں جس سے بچا نہیں جاتا ۔