Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
290 - 361
علما علم کے زیادہ محتاج ہیں: 
(10731)…صاحبِ مغازی حضرت سیِّدُنااحمدبن محمدبن ایوبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ لوگ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس جمع ہوئے تو آپ نے پوچھا:  علم کی زیادہ حاجت کسے ہوتی ہے ؟ لوگ خاموش رہے ، پھرعرض کی:  ابو محمد! آپ ہی بتا دیجئے ۔ فرمایا:  علم کی سب سے زیادہ حاجت علما کو ہوتی ہے ، ان کا بے خبروناواقف ہونا سب سے زیادہ برا ہے کیونکہ لوگوں کی رسائی انہیں تک ہوتی ہے ۔ اور ان ہی سے سوال کیا جاتا ہے ۔ 
(10732)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  تم جانتے ہو علم کی مثال کیا ہے ؟ علم کی مثال دار الکفر اور دار الاسلام کی طرح ہے ، اگر مسلمان جہاد چھوڑ دیں تو کافر حملہ کر کے اسلام ختم کر دیں گے  اور اگر لوگ علم چھوڑ دیں تو جاہل ہو جائیں گے ۔ 
نصیحتوں بھرے مدنی پھول: 
(10733)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک عقلمند سے پوچھا گیا:  صبر کیا ہے ؟ جواب دیا: وہ جو مصیبت پہنچتے ہی پایاجائے اور حالت وہی رہے جیسی مصیبت نازل ہونے سے پہلے تھی۔ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  سب سے افضل علم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے احکام کا علم ہے ، بندہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّاور اس کے حکم کو جان لیتا ہے تو مراد تک پہنچ جاتا ہے ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاور اس کے حکم کو جاننے سے بڑھ کر بندوں کو کوئی نعمت نہیں ملی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّاور اس کے حکم سے لاعلمی سے بڑھ کر کوئی سزا نہیں ملی۔ مزید فرماتے ہیں:  جب تجھے خاموش رہنا پسند ہو تو گفتگو کراور جب تجھے گفتگو کرنا پسند ہو تو خاموش رہ۔ 
	مزید فرمایا: جھگڑا چھوڑ دوکہ اس میں بہتری بہت کم ہوتی ہے ۔ حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے فرمایا:  کہا جاتا ہے کہ’’تمہارے لیے نیک دشمن بُرے دوست سے بہتر ہے ۔ کیونکہ نیک دشمن کا ایمان اسے روکتا ہے کہ وہ تمہیں کوئی تکلیف یاناپسندیدہ بات پہنچائے جبکہ برادوست کچھ پروانہیں کرتاکہ تمہیں کیاہوتا ہے ۔ ‘‘
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ’’جس نے قرآنِ پاک پڑھا اس سے نبوت ورسالت کی تبلیغ کے علاوہ ہر وہ سوال کیا جائے گا جوحضرات انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سے ہو گا۔ ‘‘
سلام کرنے کا مطلب: 
(10734)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک دانا شخص سے پوچھا گیا:  آپ اور لوگوں سے بڑھ کر علم کے حریص کیوں ہیں؟انہوں نے کہا:  اس لیے تا کہ ہم علم کے ذریعے لوگوں کے ساتھ معاملہ کریں۔ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کا مطلب ہے ، تومجھ سے محفوظ رہ اورمیں تجھ سے محفوظ رہوں۔ سامنے والااسے جواب میں دعادیتے ہوئے کہتاہے :  وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ، جب دو شخص ایک دوسرے کو اس طرح سلام کریں تو ان کے لیے مناسب نہیں کہ جدا ہونے کے بعد پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی غیبت وغیرہ  کریں۔ 
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنامِسْعَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا:  کیا آپ کو پسند ہے کہ کوئی شخص آپ کے پاس آکر آپ کو آپ کے عیوب بتائے ؟ انہوں نے فرمایا: اگروہ نصیحت کرنے والا ہو گا تو مجھے پسند ہے اور اگر وہ مجھے تکلیف دینے اور ڈانٹنے کے ارادے سے ایسا کرے گا تو مجھے پسند نہیں۔ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  تم زندوں کی اسی چیز پر رشک کرو جس سے مردوں پر رشک کیا جاتا ہے اور مردے پر رشک صرف یہ  ہوتا کہ جب کہا جاتا ہے :  فلاں مر گیا اور پیچھے کچھ نہیں چھوڑا۔ 
(10735)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک عالِمِ دین جب نماز پڑھتے تو یہ دعا کرتے :  اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اس میں جو کوتاہی ہوئی ہے اسے معاف فرما۔ 
عقل مندکی نوصفات: 
(10736)… حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک عالِم صاحب نے فرمایا:  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بندگی کرنے میں عقل سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور کوئی بھی شخص اس وقت تک عقلمند نہیں ہو سکتا جب تک اس میں یہ10صفات نہ ہوں ، پھر انہوں نے نو صفات بیان کیں: (۱)…وہ تکبر میں مبتلا نہ ہو(۲)…اس سے بھلائی کی امید ہو (۳)…اسے عزت سے بڑھ کر ذلت محبوب ہو (۴)…محتاجی مالداری سے زیادہ پسند ہو (۵)…دوسرے کی تھوڑی نیکی کو بھی زیادہ سمجھے (۶)… اپنی زیادہ نیکی کو بھی تھوڑاخیال کرے (۷)…دنیا میں اس کا حصہ صرف غذا ہی ہو (۸)…پوری عمر طالِبِ عِلمِ دین رہے اور سب سے آخری صفت جس کے ذریعے وہ اپنی بزرگی کو بڑھائے گا اور اس کا نام بلند ہو گا یہ ہے کہ  (۹)…جب بھی کوئی اس سے ملے تو خود کو اس سے کمتر ہی تصور کرے ۔ 
	حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا:  نیک عمل وہ ہے جس پر تجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سوا کسی کی تعریف پسند نہ ہو۔ 
عدل والے اور فضل والے : 
(10737)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:  جب کوئی بندہ اپنے ظاہر کو اچھا کر کے پیش کرے اور اس کا باطن بھی ظاہر کی طرح اچھا ہو تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُسے اپنے ہاں  انصاف کرنے والوں میں لکھ دیتا ہے اور اگروہ اپنے اور ربّ تعالیٰ کے مابین کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کربیٹھے جسے لوگ نہیں جانتے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے اپنے ہاں حدسے بڑھنے والوں میں سے لکھ دیتا ہے کیونکہ اس کا ظاہر اس کے باطن  کے مخالف ہے ، یونہی جب کوئی بندہ ظاہر کو اچھا بناکرپیش کرے اور اس کا باطن اس کے ظاہر سے بھی اچھا ہو تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُسے اپنے