میں نے پوچھا: میرے لیے حضرت سیِّدُنانوح عَلَیْہِ السَّلَامنے کہاں دعا کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمان نہیں سنا:
رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ- (پ۲۹، نوح: ۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اوراسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو۔
میں نے کہا: حضرت سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامنے میرے لیے دعا کہاں کی ہے ؟ فرمایا: کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمان نہیں سنا:
رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠(۴۱) (پ۱۳، ابراھیم: ۴۱) ترجمۂ کنز الایمان: اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کوجس دن حساب قائم ہو گا۔
میں نے پوچھا: اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب حضرت سیِّدُنامحمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے لیے کہاں دعاکی ہے ؟آپ نے اپنے سرکوجھٹکا پھر فرمایا: کیا تم نے ربّ تعالیٰ کا یہ فرمانِ مبارک نہیں سنا:
وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ- (پ۲۶، محمد: ۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اے محبوب اپنے خاصوں اورعام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔
اورحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سب سے زیادہ فرمانبردار، رحم دل اوراُمَّت پر مہربان ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں کوئی حکم دے اور وہ نہ کریں۔
علماکی تین اقسام:
(10724)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک فقیہ نے فرمایا: کہا جاتا تھا کہ علماء تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّکوجاننے والا، دوسرا اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے حکم کو جاننے والا اور تیسرااللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کو جاننے والا، جو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم کو جاننے والا ہے وہ طریقہ توجانتا ہے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّسے نہیں ڈرتا، جوصرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکو جاننے والا ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا تو ہے مگرطریقہ نہیں جانتا اور تیسرا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے حکم دونوں کو جاننے والا ہے یہ طریقے کو بھی جانتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا بھی ہے اسے آسمانی بادشاہتوں میں عظیم کہاجاتاہے ۔
بدمذہب کے لیے رسوائی ہے :
(10725)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: زمین میں جوبھی بدمذہب ہو گا ذلت ورسوائی اسے گھیر لے گی اور یہ بات قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے ۔ لوگوں نے عرض کی: قرآنِ مجید میں کہاں ہے ؟ فرمایا: کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمان نہیں سنا:
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ (پ۹، الاعراف: ۱۵۲)
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انھیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچنا ہے دنیا کی زندگی میں۔
لوگوں نے کہا: ابو محمد! یہ تو بچھڑے والوں(بنی اسرائیل) کے ساتھ خاص ہے ۔ فرمایا: ہرگز نہیں، تم اس کے بعد والا آیت کا حصہ پڑھو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ(۱۵۲)(پ۹، الاعراف: ۱۵۲) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں بہتان ہایوں (بہتان باندھنے والوں )کو۔
لہٰذایہ ذلت قیامت تک ہر بہتان باندھنے والے اور ہر بدمذہب کے لئے ہے ۔
(10726)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں اسے فقیہ نہیں سمجھتا جولڑتا جھگڑتا یا بے جا مخالفت کرتا ہو، فقیہ تو حکمَتِ الٰہی پھیلاتا ہے اگر قبول کر لی جائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کرتا ہے اور اگر قبول نہ کی جائے تب بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمدکرتا ہے ۔
حدیث کی عظمت:
(10727)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: جس نے حدیث طلب کی یقیناً اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے بیعت کر لی۔
(10728)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اگر کوئی شخص قبلہ روہو کر حدیث یاد کرے تو مجھے امید ہے کہ کھڑے ہونے سے پہلے ہی اس کی مغفرت کر دی جائے گی۔
حکمت کیسے آتی ہے ؟
(10729)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُناابو خالد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوفرماتے سناکہ حکمت تین چیزوں سے آتی ہے : (۱)…خاموش رہنے (۲)…غور سے سننے اور (۳)…محفوظ رکھنے سے اور تین خصلتوں کی وجہ سے حکمت کا پھل ملتا ہے : (۱)… ہمیشہ کے گھر (جنت) کی طرف رجوع کرنے (۲)…دھوکے کے گھر(دنیا)سے دور ہونے اور (۳)…موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے سے ۔
(10730)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: بے شک یہ علم جب بھی ایک برتن سے نکلتا ہے تو دوسرے میں چلا جاتا ہے ۔