(10716)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ایک شخص یہی دعاکرتارہتاتھا: اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْاَلُكَ حُسْنَ الظَّنِّ وَشُكْرَ الْعَافِيَةِیعنی اے اللہعَزَّ وَجَلَّمیں تجھ سے اچھے گمان اورعافیت کے شکرکاسوال کرتاہوں۔
بدترین جگہ:
(10717)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ وہ جگہ بدترین ہے جہاں بندہ گناہ کرتا رہے اور توبہ کئے بغیر وہاں سے چلا جائے ۔
(10718)…(الف)حضرت سیِّدُناابوموسیٰ انصاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بیان کیا کہ علمائے کرام فرماتے ہیں: جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تقدیر پر راضی نہیں ہوتا وہ اپنے لیے کی گئی اپنی تدبیر پر بھی راضی نہیں رہتا۔
مخلوق سے خیرخواہی کا درس:
(10718)…(ب)حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہرازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا: اے ابو عبداللہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اُس کی مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کرنا تم پر لازم ہے کیونکہ اس سے افضل عمل کوئی نہیں جسے لے کر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملو۔ تم ان کی خواہش پر خوش کیوں نہیں ہوتے ، اگر آسمان سے کوئی پکارنے والا پکار کر کہے کہ تمام لوگ جنت میں جائیں گے اور میں (اِبْنِعُیَیْنَہ)اکیلادوزخ میں ڈالا جاؤں گا تو میں اس پر بھی راضی ہوں۔
(10719)…حضرت سیِّدُناابوعبداللہرازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا: ابوعبداللہ!نعمت پرشکرِخداوندی یہ ہے کہ تو اس کی حمد کرے اوراس نعمت سے نیکی پر مدد حاصل کرے توجس نے نعمت ِ الٰہی سے گناہ پر مدد لی اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادانہیں کیا۔
عزت مال سے بڑھ کر ہے :
(10720)…حضرت سیِّدُنااحمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کپڑابننے کے کارخانہ میں آئے اور فرمایا: جو تم سے کہا جارہا ہے غور سے سنو ، یہ بات تمہارے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہے ، اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے کے مال سے کچھ لے لے پھر اس کی موت کے بعد اس سے دامن چھڑانا چاہے تو اس کے وارثوں کو وہ چیز دے دے ہمارے خیال میں یہ اس کا کفارہ ہو جائے گا اور اگر تم میں سے کوئی کسی کی عزت خراب کر دے پھر اس کی موت کے بعد اس کا بدلہ دینا چاہے تو اس کے وارثوں اور تمام زمین والوں کے پاس جائے اور سب اسے معاف کر دیں تو پھر بھی معاف نہیں ہو گا، پس مومن کی عزت اس کے مال سے بڑھ کر ہے ۔ جو تم سے کہا جاتاہے اسے سمجھو۔
(10721)…حضرت سیِّدُناابوبکرمحمدبن یزیداسلمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے گردکافی لوگ بیٹھے تھے کہ اتنے میں حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب آپ کے سر پرآکر کھڑے ہو ئے اوریہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی:
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۵۸) (پ۱۱، یونس: ۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے ۔
حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان سے فرمایا: اے ابو علی! خدا کی قسم! بندہ اس وقت تک خوش نہ ہوگاجب تک قرآنِ پاک کی دوا لے کر دل کے مرض پر نہ رکھ لے ۔
(10722)…حضرت سیِّدُنااحمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ’’اَلْاَوَّابُ الْحَفِیْظ‘‘(یعنی رجوع لانے والانگہداشت والا۔ پ۲۶، ق: ۳۲)کامعنیٰ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ ہے جواپنی مجلس سے اس وقت تک نہیں اٹھتا جب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّسے توبہ و استغفار نہ کر لے ۔
مؤمنین کے لیے انبیاکی دعائیں:
(10723)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن عمر بن راشد تَیْمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیبیان کرتے ہیں کہ میرے پاس جو کچھ تھا میں نے حصولِ علم میں خرچ کر دیاجب یہ بات حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتک پہنچی تو وہ میرے پاس آئے اور فرمایا: جو کچھ تمہارے پاس سے جا چکا اس پر افسوس مت کرنا تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تمہیں پہلے رزق دیا گیاتھا تو اب بھی ملے گا۔ پھر فرمایا: تمہیں خوشخبری ہو تم تو بھلائی پر ہو، کیا تم جانتے ہو تمہارے لیے کس نے دعا کی ہے ؟ میں نے کہا: کس نے ؟ فرمایا: عرش اٹھانے والے فرشتوں نے ۔ میں نے تعجب سے کہا: عرش اٹھانے والے فرشتوں نے ۔ ۔ ۔ ؟انہوں نے فرمایا: ہاں اور حضرت سیِّدُنانوح عَلَیْہِ السَّلَام نے بھی تمہارے لیے دعا کی ہے ۔ میں حیرزت زدہ ہو کر کہنے لگا: حضرت سیِّدُنانوح عَلَیْہِ السَّلَامنے بھی میرے لیے دعا کی ہے ۔ ۔ ۔ ؟انہوں نے کہا: ہاں اور حضرت سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامنے بھی تمہارے لیے دعا کی ہے ۔ میں نے حیرت سے کہا: حضرت سیِّدُناابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامنے میرے لیے دعاکی ہے ۔ ۔ ۔ ؟انہوں نے کہا: ہاں اور حضرت سیِّدُنامحمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی تمہارے لیے دعا کی ہے ۔ میں نے حیرت میں ڈوب کر کہا: کیا حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی میرے لیے دعا کی ہے ۔ ۔ ۔ ؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا؟
اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۚ- (پ۲۴، المؤمن: ۷)
ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو عرش اٹھاتے ہیں اور جو اس کے گرد ہیں اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور اس پر ایمان لاتے اور مسلمانوں کی مغفرت مانگتے ہیں۔