ترجمہ: (۱)…جب تم ایسے شخص کو دیکھو جسے خواہشات اپنے پیچھے چلارہی ہوں تو یقیناً اس کے پاس رونے والیوں کو رونا چاہیے (۲)…اس نے لاعلمی میں اپنے اوپر دشمنوں کو ہنسایااور ملامت کرنے والوں کو اس کے بارے میں باتیں بنانے کا موقع مل گیا (۳)…سوال کے عادی نفس کو لوگوں میں سے کوئی بھی خواہش سے ہرگز نہیں روک سکتا سوائے بڑی اور کامل عقل والے کے ۔
(10707)…حضرت سیِّدُنا ابن ابوعَمْرورَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، وہاں وزیر فَضْل بن رَبیع اور اس کی عقل وہوشیاری کا تذکرہ ہوا تو حضرت سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ اشعار کہے :
كَمْ مِنْ قَوِيٍّ قَوِيٍّ فِيْ تَقَلُّبِهٖ مُهَذَّبِ الرَّاْيِ عَنْهُ الرِّزْقُ مُنْحَرِفُ
وَكَمْ ضَعِيْفٍ ضَعِيْفِ الْعَقْلِ مُخْتَلِـطٍ كَاَنَّهٗ مِنْ خَلِيْجِ الْبَحْرِ يَغْتَرِفُ
ترجمہ: (۱)…بدلتے حالات میں بہت سے مضبوط اور اچھی رائے رکھنے والوں سے رزق دور ہو جاتا ہے اور(۲)…بہت سے کمزور عقل اور کشمکش میں رہنے والے ایسے ہوتے ہیں گویا وہ دریا سے نکالی نہرسے چلو بھر رہے ہیں۔
(10708)…سُنَیدبن داودبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس حضرت سیِّدُناامام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے اصحاب میں سے ایک شخص آئے تو آپ نے منہ پھیر لیا وہ دوسری طرف سے گھوم کر آئے تو آپ نے پھرمنہ پھیر لیا اوریہ اشعار پڑھے :
وَمَا يَلْبَثُ الْاَقْوَامُ اَنْ يَّتَفَرَّقُوْا اِذَا لَمْ يُؤَلِّفْ رُوْحُ شَكْلٍ اِلٰی شَكْلِ
اَبِنْ لِّيْ وَكُنْ مِّثْلِيْ اَوِ ابْتَغِ صَاحِبًا كَمِثْلِكَ اِنِّيْ اَبْتَغِيْ صَاحِبًا مِثْلِي
ترجمہ: (۱)…جب لوگوں کی ارواح ایک دوسرے سے مانوس نہ ہوں تووہ لوگ جدا ہونے میں ذرا توقُّف نہیں کرتے ۔ (۲)…اپنامقصدبتاؤاور مجھ جیسے ہو جا ؤیاپھر اپنے جیسامصاحب تلاش کرو بے شک مجھے اپنے جیسے مصاحب کی تلاش ہے ۔
(10709)…حضرت سیِّدُناحَیّان بن نافعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بڑھاپے میں اکثر یہ شعر پڑھا کرتے :
يُعَمَّرُ وَاحِدٌ فَيَغُرُّ قَوْمًا وَيُنْسٰى مَنْ يَمُوْتُ مِنَ الصِّغَارِ
ترجمہ: ایک شخص لمبی عمر پاکر لوگوں کو دھوکے میں ڈالتا ہے اور کم عمری میں مرنے والابُھلا دیا جاتا ہے ۔
مصائب کی ایک حکمت:
(10710)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّتین چیزوں کے ذریعے انسان کی حیثیت کم نہ کرتا تو کوئی بھی چیز انسان کو قابو نہ کر سکتی وہ تین چیزیں لازمی طور پر انسان میں ہیں مگر پھربھی بہت اچھلتا ہے : محتاجی، بیماری اور موت۔
(10711)…حضرت سیِّدُناابومَعْمَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اگرعلم نے تجھے فائدہ نہ دیاتونقصان دے گا۔
(10712)…حضرت سیِّدُنا اسحاق بن ابو اسرائیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلنے حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کہا: ابو محمد! لوگ دین ودنیا دونوں میں قحط کا شکار ہیں ۔ آپ نے فرمایا: وہ ایسے قحط میں پڑے ہیں کہ نہ کوئی آسودہ ہے نہ کوئی جائے پناہ ہے ۔
تین آیاتِ طیبہ کی تفسیر:
(10713)…حضرت سیِّدُنابشر بن یحییٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس فرمان باری تعالیٰ:
اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا (پ۱۳، الرعد: ۱۷) ترجمۂ کنز الایمان: اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے ۔
کی تفسیر میں فرمایا: مراد یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آسمان سے قرآنِ پاک نازل فرمایا تو لوگوں نے اپنی عقلوں کے مطابق اسے اٹھا لیا۔
اور فرمانِ الٰہی:
كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ ﱟ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءًۚ (پ۱۳، الرعد: ۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اللہبتاتا ہے کہ حق اور باطل کی یہی مثال ہے تو جھاگ تو پُھک کر دور ہو جاتا ہے ۔
کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد بدعتیوں اور خواہش پرستوں کی باتیں ہیں۔ نیز اس فرمانِ باری تعالیٰ:
وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِؕ- (پ۱۳، الرعد: ۱۷) ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے ۔
کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے حلال اور حرام مراد ہے ۔
(10714)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایا کرتے تھے : عقلمنداگرتھوڑی نصیحت سے فائدہ نہ اٹھائے تو زیادہ نصیحت سے بُرائی میں ہی اضافہ کرے گا۔
محبتِ قرآن محبتِ الٰہی ہے :
(10715)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: تم اس دین کی بلندی تک اس وقت نہیں پہنچ سکتے جب تک سب سے بڑھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے والے نہ ہو جاؤ اور جو قرآنِ پاک سے محبت کرتا ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرتا ہے ۔ تم سے جو کہا جاتا ہے اسے خوب سمجھ لو۔