ٹھیک طور پر معلوم نہیں۔ سوال کرنے والا کہتا: پھر کس سے پوچھاجائے ؟آپ فرماتے : علمائے کرام سے پوچھو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے توفیق کا سوال کرو۔
(10698)…حضرت سیِّدُناعبدالرحمٰن بن سعدجُمَحِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ میرے سامنے حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو آبِِ زم زم پیش کیا گیا تو آپ نے پیا اور اپنی دائیں جانب بیٹھے شخص کو بھی پلا یا پھرفرمایا: آب زم زم خوشبو کی طرح ہے اسے منع نہیں کرنا چاہیے ۔
(10699)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: یہ قلم و دوات جس کے گھر داخل ہو جائیں اس کے بیوی بچے مشقت میں پڑ جاتے ہیں۔
قرض سے زیادہ سخت:
(10700)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: غیبت قرض سے زیادہ سخت ہے ، قرض تو لوٹا دیا جاتا ہے لیکن غیبت لوٹائی نہیں جا سکتی۔
(10701)…حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان:
وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ(۳۵) (پ۲۶، قٓ: ۳۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے ۔
کی تفسیر میں فرمایا: اہْلِ جنت کی نگاہیں ابھی ایک چیز میں ہی ہوں گی کہ ایک اور چیز ان کے سامنے آ جائے گی جسے ” مَزِیْد “ کہا جاتا ہے ، جب یہ کھلے گی تو اتنے میں ایک اور چیز آجائے گی جس میں وہ پہلے مشغول نہ تھے چنانچہ وہ ان کے قریب ہو گی تو وہ پکار کر کہیں گے : تو کون ہے ؟ وہ کہے گی: میں ان میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا ہے :
وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ(۳۵) (پ۲۶، قٓ: ۳۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے ۔
(10702)…حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: دوزخ کو بطورِرحمت پیدا کیا گیا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ نافرمانی سے باز رہیں۔
دیہاتی کی مناجات:
(10703)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے ایک دیہاتی کو دیکھا کہ وہ آیا اورطوافِ کعبہ کرنے لگا تو میں بھی اس نیت سے اس کے پیچھے ہو لیاکہ شاید یہ درست طریقے سے نہ کرے تو میں اسے سکھاؤں گا، میں نے دیکھا کہ وہ کعبہ شریف کے پردوں سے لپٹ گیا اور کہنے لگا: الٰہی! میں تیری طرف نکلا ہوں اور مجھے تو نے ہی نکالا ہے ، میں تیری طرف آیا اور مجھے تو ہی لایا ہے ، میں تیرے صحن میں جھکا ہوں اور مجھے تو نے ہی جھکایا ہے ، الٰہی!بہت سی آوازیں مختلف زبانوں میں چیخ چیخ کر تجھ سے اپنی حاجات کا سوال کر رہی ہیں اور میری حاجت یہ ہے کہ بڑی مصیبت کے وقت جب دنیا والے مجھے بھلا دیں تَوتُو مجھے یاد رکھنا۔
شاعر کی شرارت:
(10704)…حضرت سیِّدُنا حسن بن علی بن راشد واسطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہمیں حدیث بیان کیا کرتے تھے ایک دفعہ وہ اپنے گھر میں تھے اور ہم دروازے پر کھڑے تھے ، ہم نے اندر داخل ہونے کی اجازت مانگی تو ہمیں اجازت نہیں ملی اتنے میں محمد بن مَناذِرشاعرآیا اور ہمیں کہا: اندر کیوں نہیں گئے ؟ ہم نے کہا کہ ہم نے اجازت مانگی تھی مگر نہیں ملی۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایااور یہ اشعار پڑھے :
بِعَمْرٍو وَبِالزُّهْرِيِّ وَالسَّلَفِ الْاُوْلٰى بِهِمْ ثَبَتَتْ رِجْلَاكَ عِنْدَ الْمَقَادِمِ
جَعَلْتَ طُوَالَ الدَّهْرِ يَوْمًا لِّصَالِحٍ وَّيَوْمًا لِّخَاقَانٍ وَّيَوْمًا لِّحَاتَمِ
وَلِلْحَسَنِ التَّخْتَاخِ يَوْمًا وَّدُوْنَهُمْ خَصَصْتَ حُسَيْنًا دُوْنَ اَهْلِ الْمَوَاسِمِ
نَظَرْتُ فَطَالَ الْفِكْرُ فِيْكَ فَلَمْ اَجِدْ تُدِيْرُ رَحًى اِلَّا لِاَخْذِ الدَّرَاهِـمِ
ترجمہ: (۱)…عَمْرو، زہری اوراگلے بزرگوں کے پاس تمہارا قیام رہا (۲)…تمہاراکُل زمانہ یہی رہاکہ ایک دن صالح، ایک دن خاقان، ایک دن حاتم(۳)…اورایک دن حسن تختاخ کے پاس گزر جائے اوران کے علاوہ مشہور لوگوں کو چھوڑ کر تم نے حسین کی صحبت بھی اختیار کی(۴)…میں نے تمہارے بارے میں طویل غور وفکر کیا تو پتاچلا کہ تمہارا ادھر ادھر آنا جانا فقط دراہم کی خاطر تھا۔
حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانہاتھ میں لاٹھی لیے باہر نکلے اور فرمایا: پکڑو اسے ۔ مگر ابن مَناذِر وہاں سے کھسک گیا اور ہم نے اندر جا کر حضرت سے احادیث لکھیں۔
نصیحت آموزشاعری:
(10705)…یحییٰ بن عثمان کابیان ہے کہ ایک خُراسانی شخص حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مجلس میں حاضر ہوا اور آپ کی طرف دو درہم پھینکتے ہوئے کہا: مجھے ان کے بدلے حدیث سنائیے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے شاگرداسے مارنے کے ارادے سے اٹھے توآپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور خود سر جھکا کر رونا شروع کر دیا پھر یہ شعر کہا:
اِعْمَلْ بِقَوْلِيْ وَاِنْ قَصَّرْتُ فِيْ عَمَلِيْ يَنْفَعْكَ قَوْلِيْ وَلَا يَضْرُرْكَ تَقْصِيْرِيْ
ترجمہ: میری بات پر عمل کر اگرچہ میرے عمل میں کوتاہی ہے ، میری بات تجھے فائدہ دے گی اور میری کوتاہی تجھے کوئی نقصان نہیں دے گی۔
(10706)…حضرت سیِّدُناحکیم بن اَبجر مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو یہ اشعار کہتے سنا:
اِذَا مَا رَاَيْتَ الْمَرْءَ يَقْتَادُهُ الْهَوٰى فَقَدْ ثَكِلَتْهُ عِنْدَ ذَاكَ ثَـوَاكِلُهْ
وَقَدْ اَشْمَتَ الْاَعْدَاءَ جَهْلًا بِنَفْسِهٖ وَقَدْ وَجَدَتْ فِيْهِ مَقَالًا عَوَاذِلُهْ
وَلَنْ يَنْزِعَ النَّفْسَ اللَّحُوْحَ عَنِ الْهَوٰى مِنَ النَّاسِ اِلَّا وَافِرُ الْعَقْلِ كَامِلُهْ