(10685)…حضرت سیِّدُنا احمد بن ابوحَوَاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی ذکر کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: ابومحمد! دنیا سے بے رغبتی کس چیز کا نام ہے ؟ ارشادفرمایا: جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کو نعمت دے تو وہ اس پر شکر ادا کرے اورجب کسی کو مصیبت و آزمائش میں مبتلا کرے تو وہ صبر کرے ، یہی دنیا سے بے رغبتی ہے ۔ میں نے عرض کی: ابو محمد! اگر کوئی نعمت پر شکر ادا کرے اور مصیبت کے وقت صبربھی کرے مگر نعمت کو اپنے پاس روکے رکھے تو پھروہ زاہد (یعنی دنیا سے بے رغبت)کیسے ہو سکتا ہے ؟ فرمایا: چپ ہو جاؤ! جسے مصیبت صبر کرنے سے اور نعمت شکر کرنے سے نہ روکے تووہ زاہد ہے ۔
(10686)…سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: تمہارا ضروریاتِ زندگی کو طلب کرنا دنیا کی محبت نہیں ہے ۔
(10687)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: خود کو یوں خیال کرو گویا دنیا میں تھے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ سے آخرت میں تھے اورگویا مرنے والوں میں تم سب سے آخری تھے اور اب مر چکے ہو۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیہ بھی فرمایا کرتے تھے : بے شک انسان کی طرح دنیا کا بھی ایک وقت مقرر ہے جب اس کا وقت آجائے گا تو وہ بھی مرجائے گی۔
دنیا سے بے رغبتی کی عظیم مثال:
(10688)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان فرمایا کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام دن کا کھانا رات کے لئے اور رات کا کھانا دن کے لئے بچا کر نہیں رکھتے تھے اور فرمایا کر تے : ہر دن اور رات کے ساتھ اس کا رزق بھی ہے ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا کوئی گھر نہ تھا جو ویران ہو تا۔ کسی نے آپ سے عرض کی: آپ نکاح کیوں نہیں کرلیتے ؟ ارشاد فرمایا: کیا میں عورت سے نکاح کروں جس نے مرجانا ہے ؟ اور کسی نے پوچھا: آپ گھر کیوں نہیں بناتے ؟ارشاد فرمایا: میں تو ایک مسافر ہوں۔
حکمت کو ضائع ہونے سے بچاؤ:
(10689)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیا ن کیا کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: حکمت کے کچھ اہل ہوتے ہیں اگر تم کسی نااہل کوحکمت کی بات بتاؤ گے تو وہ ضائع ہو جائے گی اور اہل کو حکمت کی بات نہ بتاؤ گے تب بھی ضائع ہو جائے گی، طبیب کی طرح ہو جاؤ کہ وہ دوا اُسی کو دیتا ہے جسے دینی چاہیے ۔
میں بیماروں کا علاج کرتا ہوں:
(10690)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی اور حضرت سیِّدُنا یحییٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام ایک بستی میں داخل ہوئے تو حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے بستی کے بُرے لوگوں کا پتا معلوم کیا جبکہ حضرت سیِّدُنا یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے بستی کے اچھے لوگوں کے متعلق پوچھا ۔ حضرت سیِّدُنا یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے پوچھا: آپ برے لوگوں کے پاس کیوں ٹھہرناچاہتے ہیں؟ حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے جواب دیا: میں طبیب ہوں، بیماروں کا علاج کرتا ہوں۔
سیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کی نصیحتیں:
(10691)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: میں تمہیں اس لئے تعلیم دیتا ہوں کہ تم بھی تعلیم دو، اس لئے نہیں کہ تم خود پسندی میں مبتلا ہو جاؤ، اے زمین کے لئے نمک کی حیثیت رکھنے والو! تم خراب نہ ہونا کیونکہ جب کوئی چیز خراب ہوتی ہے تو اسے نمک ہی صحیح کرتا ہے اور نمک خراب ہو جائے تو اسے کوئی چیز صحیح نہیں کر سکتی اور تم جنہیں علم سکھاؤ ان سے وہی اجرت لینا جو میں نے تم سے لی ہے (یعنی اوروں کو تعلیم دینا)۔
(10692)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ذکر کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے ارشادفرمایا: کتابُاللہکے محافظ اورعلم کے چشمے بن جاؤ، اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ایک ایک دن کاہی رزق طلب کرو اور تمہارے لیے رزق کی کثرت نہ ہونا نقصان دہ نہیں۔
حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت میں ” کتابُاللہ “ کے بجائے ” علم کے محافظ بنو “ کے الفاظ ہیں۔
عالِم کو کیسا ہونا چاہیے ؟
(10693)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: عالِم وہ نہیں جو اچھائی اور بُرائی کو جانتاہو بلکہ عالِم وہ ہے جو اچھائی کو جان کر اس کی پیروی کرے اور بُرائی کو جان کر اس سے بچے ۔
(10694)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: علم کا پہلا درجہ غور سے سننا پھر خاموشی اختیار کرنا، پھراسے یاد رکھناپھر اس پر عمل کرنا اور پھر اسے پھیلانا ہے ۔
(10695)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں مسجد جایا کرتا تھا تو لوگوں کو بغور دیکھتااوراَدھیڑعمراور بوڑھے لوگوں کو دیکھ کر ان کے پاس بیٹھ جاتا تھااور آج یہ بچے مجھے گھیرے ہوئے ہیں۔ پھر یہ اشعار کہے :
خَلَتِ الدِّيَارُ فَسُدْتُ غَيْرَ مُسَوَّدِ وَمِنَ الشَّقَاءِ تَفَرُّدِي بِالسُّؤْدَدِ
ترجمہ: شہر خالی ہو گئے تو میں بغیر بنائے سردار بن گیا اور صرف میرا سرداری کے لئے بچ جانا بدنصیبی کی بات ہے ۔
عالم ” لَااَدْرِی “ کہنا نہ چھوڑے :
(10696)…حضرت سیِّدُنامحمد بن صباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ” اِذَا تَرَكَ الْعَالِمُ لَا اَدْرِي اُصِيْبَتْ مَقَاتِلُهُ یعنی جب کوئی عالِم ” لَا اَدْرِي “ (یعنی میں نہیں جانتا) کہنا چھوڑ دیتا ہے توہلاکتوں میں پڑ جاتا ہے ۔ “
(10697)…حضرت سیِّدُناامام علی بن مَدِینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی ذکر کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے جب کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا تو فرماتے : مجھے