میری پسند میں ہے یا ناپسند میں۔
اصلاح والا علم :
(10672)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کہا کرتا تھا: اپنے اندر کی خرابی کو جان لینا ہی میری اصلاح کرنے والا علم ہے اور کسی کے برا ہونے کو اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے اندر بگاڑ دیکھے اور اس کی اصلاح نہ کرے ۔
30 سال تک مجاہدہ:
(10673)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بیان کیاکہ ایک عالِمِ دین نے فرمایا: میں دو چیزوں کا علاج 30سال سے کر رہا ہوں: (۱)…لوگوں سے لالچ وطمع چھوڑنا اور(۲)…خالص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے عمل کرنا۔
(10674)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جو لوگوں کے سامنے ایسی چیز کے ساتھ خود نمائی کرے جو عِلْمِ الٰہی کے مطابق اس میں نہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے عیب دار بنا دے گا۔
(10675)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اگر میری رات بے وقوف کی رات کی طرح اور میرادن جاہل کے دن کی مانند ہو توپھر میں اپنے حاصل کیے ہوئے علم کا کیا کروں؟
(10676)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: علم کے اہل وہی لوگ ہیں جو اپنے علم پر عمل کرتے ہیں۔
عقل بڑھنے پر رزق میں کمی:
(10677)…(الف)حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: مَنْ زِيْدَفِيْ عَقْلِهٖ نَقَصَ مِنْ رِزْقِہٖیعنی جس کی عقل میں اضافہ ہوا اُس کارزق کم ہوگیا ۔
(10677)…(ب)حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکافرمان ہے : جس نے خودکودوسرے سے بہتر سمجھایقیناًاُسنے تکبُّرکیااورابلیس کوحضر ت سیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامکے سامنے سجدے سے روکنے والااسکاتکبُّرہی تھا۔
توبہ کی امید اور لعنت کا ڈر:
(10678)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جس کا گناہ خواہش کی وجہ سے ہواُس کے لئے توبہ کی امید رکھو کیونکہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے خواہش کے سبب لغزش واقع ہوئی تو انہیں معاف کر دیا گیااور اگر بندے کا گناہ تکبر کی وجہ سے ہو تواس پر لعنت کا خوف رکھو کیونکہ ابلیس نے تکبر کے سبب نافرمانی کی تو وہ مَلْعُون ہو گیا۔
زندہ کون اور مردہ کون؟
(10679)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’لَا اِلٰهَ اِلَّا الله‘‘آخرت میں ایسا ہے جیسے دنیا میں پانی، ہر ایک کی زندگی کا مدار پانی پر ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّؕ-اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ(۳۰) (پ۱۷، الانبیآء: ۳۰) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لا ئیں گے ۔
پس’’لَا اِلٰهَ اِلَّا الله‘‘پانی کے مرتبے میں ہے کہ جس کے ساتھ’’لَا اِلٰهَ اِلَّا الله‘‘نہیں وہ مردہ ہے اور جس کے ساتھ’’لَا اِلٰهَ اِلَّا الله‘‘ہے وہ زندہ ہے ۔
(10680)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں کو لَا اِلٰهَ اِلَّا الله کی معرفت سے افضل کوئی نعمت نہیں دی کیونکہلَااِلٰهَ اِلَّااللهان کے لئے آخرت میں ایساہے جیسے دنیا میں پانی۔
قرآنِ کریم سے محبت:
(10681)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ” اگر ہمارے دل پاک ہوتے تو کلامِ الٰہی سے کبھی سیر نہ ہوتے ۔ “ اور آپ ہی کا فرمان ہے : مجھے یہ پسندنہیں کہ کوئی دن یارات ایساآئے کہ میں قرآنِ کریم میں نظر نہ کروں ۔
(10682)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: دنیاسے بے رغبتی صبرکرنا اورموت کاانتظارکرناہے ۔
60 سال جو کی روٹی پر گزارا:
(10683)…حضرت سیِّدُنا حَرْمَلہ بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ایک کونے میں لائے اور اپنی آستین سے جو کی روٹی نکال کر مجھ سے فرمایا: اے حرملہ! لوگوں کی باتوں پہ کان نہ دھرو، 60سال سے میراکھانا یہی ہے ۔
(10684)…حضرت سیِّدُنا ابو یوسف فَسَویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضر ہواتو ان کے سامنے جو کی دوچھوٹی روٹیاں تھیں، مجھے دیکھا تو فرمایا: ابو یوسف! 40 سال سے یہ دوٹکیاں ہی میری خوراک ہیں۔
دنیا سے بے رغبتی صبروشکر کا نام ہے :