(10666)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عَمْر ورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ طَیِّب وطاہِرآقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اپنی جوتیاں مسجدکے دروازے پر ہی بغور دیکھ لیا کرو(تاکہ کوئی نجاست اندر نہ جائے )۔ (1)
ذِکْرُ اللہ کی فضیلت:
(10667)…حضرت سیِّدُنامحمد بنعبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ اگر ایک شخص مشرق سے نکلے اور دوسرا مغرب سے ، ایک کے پاس سونا ہو اور وہ اسے نیک و جائز کاموں میں خرچ کرتا رہے اور دوسرا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتا رہے حتّٰی کہ دونوں ایک دوسرے سے مل جائیں تو ذِکْرُاللہ کرنے والا ان میں افضل ہو گا یا فرمایا: ان میں سے زیادہ اجر والا ہو گا۔
(10668)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنَبیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے اگر چہ اس کا سگابھائی ہو(2)۔
مسلمان کا قتل:
(10669)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور رحمتِ عالَم، نُوْرِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لَزَ وَالُ الدُّنْيَا اَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ قَتْلِِ مُؤْمِنیعنی ایک مومن کے قتل کے مقابلے میں دنیا کا ختم ہو جانا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک زیادہ ہلکا ہے ۔ (3)
اہل عرب کی فضیلت:
(10670)…حضرت سیِّدُنا سلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ غریبوں کے غمگسار، بیکسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس تشریف لائے میں کھجور کے پودے لگا رہا تھا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری مدد کرنے لگے آپ نے میرا جو بھی پودا لگایا وہ اُگ گیا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” اے سلمان! مجھ سے بغض نہ کرنا۔ “ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ سے کیسے بغض کرسکتا ہوں حالانکہ میں آپ کی بعثت سے پہلے ہی اسلام کی تلاش میں نکل چکا تھا؟ ارشاد فرمایا: تم نے عربوں سے بغض رکھا تو وہ مجھ سے ہی بغض کرناہے ۔ (4)
٭…٭…٭…٭
نجومیوں اورکاہنوں سے حال معلوم کرنے کاحکم
سوال: نجومیوں، کاہنوں سے قسمت کاحال معلوم کرناکیسا؟جواب: کاہنوں اورجوتِشیوں سے ہاتھ دیکھاکرتقدیرکابُرابھلادریافت کرنااگربطورِاِعتقادہویعنی جویہ بتائے حق ہے توکفرِخالص ہے اوراگربطورِ اِعتقادوتَیَقُّن(یعنی بطورِیقین)نہ ہومگرمیل ورغبت کے ساتھ ہوتوگناہِ کبیرہ ہے اوراگربطورِہَزل واِستہزاء (یعنی ہنسی مذاق کے طورپر)ہوتوعبَث(یعنی بے کار)ومکروہ وحماقت ہے ، ہاں!اگربقصدِتعجیز(یعنی اسے عاجزکرنے کے لئے )ہوتوحَرَج نہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، ۲۱ / ۱۵۵)
مسلمان کے مسلمان پرحقوق
سوال: ایک مومن کے دوسرے مومن پرکتنے حقوق ہیں؟جواب: حضورنَبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پرچھ حق ہیں: (۱)…جب وہ بیمارہوتوعیادت کرے (۲)…جب وہ مرجائے تواس کے جنازے میں حاضرہو(۳)…جب وہ دعوت دے توقبول کرے (۴)…جب اس سے ملے توسلام کرے (۵)…جب وہ چھینکے (اوراَلْحَمْدُلِلّٰہ کہے )توجواب دے اور(۶)…حاضر وغائب اس کی خیرخواہی کرے ۔ (نسائی، کتاب الجنائز، باب النھی عن سب الاموات، ص۳۲۸، حدیث: ۱۹۳۵)
حضرت سیِّدُنا سُفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
ان تبع تابعین عظام میں سے ایک بزرگ امام وامین، پختہ عقل ومضبوط رائے والے ، مسائل کا استنباط کرنے اور دلائِلِ شرعیہ سے انہیں مضبوط کرنے والے حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہہلالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیبھی ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمحقِّق عالِمِ دین، عابد وزاہد، آپ کا علم مشہور اورزُہد معمول تھا۔
(10671)…حضرت سیِّدُنامحمد بن عَمْرو بن عباس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب میں یہ دو چیزیں جمع کر لیتا ہوں تو میرا معاملہآسان ہو جاتا ہے (۱)…جب بھی مصیبت آئے صبر کروں اور (۲)…اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فیصلے پر راضی رہوں۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قول ہے : مجھے پروا نہیں کہ میں اپنی پسندیدہ حالت میں صبح کروں یاناپسندیدہ حالت میں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ بھلائی
________________________________
1 - جامع صغیر، ص۲۰۱، حدیث: ۳۳۴۴، عن ابن عمر
2 - صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانامفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبہارشریعت، جلد2، حصہ11، صفحہ724پرنقل فرماتے ہیں: یعنی دیہاتی کوئی چیز فروخت کرنے کے لیے بازار میں آتا ہے مگر وہ ناواقف ہے سستی بیچ ڈالے گا شہری کہتا ہے تو مت بیچ، میں اچھے داموں بیچ دونگا، یہ دلال بن کر بیچتاہے اور حدیث کا مطلب بعض فقہانے یہ بیان کیاہے کہ جب اہْلِ شہر قحط میں مبتلا ہوں ان کو خود غلہ کی حاجت ہو ایسی صورت میں شہر کاغلہ باہر والوں کے ہاتھ گراں کرکے بیع کرنا ممنوع ہے کہ اس سے اہْلِ شہر کو ضررپہنچے گا اور اگریہاں والوں کو احتیاج نہ ہو تو بیچنے میں مضایقہ(حرج)نہیں۔ (ھدایة، کتاب البیوع، فصل فیمایکرہ، ۲ / ۵۴۔ فتح القدیر، کتاب البیع، باب بیع الفاسد، ۶ / ۱۰۷)
3 - ابن ماجہ، کتاب الدیات، باب التغليظ فی قتل مسلم ظلما، ۳ / ۲۶۱، حدیث: ۲۶۱۹، عن براء بن عازب
4 - ترمذی، کتاب المناقب، باب، مناقب فی فضل العرب، ۵ / ۴۸۷، حدیث: ۳۹۵۳، بدون بعض الفاظ