Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
282 - 361
کرواورقسم کوسچا کرو(1)بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے نام کی قسم کھائی جائے ۔ 
(10656)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ مُعَلِّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حج و عمرہ کا تلبیہ ایک ساتھ کہا۔ 
(10657)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: غَیْرُاللہ کی قسم کھا کر اسے پورا کرنے سے بڑھ کر مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم کھا کر اسے پورا نہ کروں۔ (2)
بلند آواز سے تلاوت: 
(10658)…حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ ہانیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ میں حضور نبیِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تلاوت سنا کرتی جبکہ میں اپنی چھت پر ہوتی تھی۔ 
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بندے سے محبت: 
(10659)…حضرت سیِّدُناابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین، خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہو تو میں اس کے ایک گز نزدیک ہوجاتا ہوں اورجو مجھ سے ایک گز نزدیک ہو تاہے تو میں اس سے ایک باع (3)قریب ہوجاتا ہوں اورجو میری طرف چلتا ہوا آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں (4)اور اگر کوئی بندہ زمین بھر گناہ کرے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے تو میں اس کی زمین بھر خطائیں بھی معاف کر دوں گا۔ (5)
(10660)…حضرت سیِّدُنا زُبَیْر بن عوامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قریش کے ایک شخص کوقید میں رکھ کر قتل کروایا پھر ارشاد فرمایا:  آج کے بعد کسی قریشی کو قید میں رکھ کر قتل نہ کیا جائے سوائے عثمان کے قاتل کے اگر تم ایسا نہ کر سکو تو (اسے )بکری کی طرح ذبح کرنا۔ (6)
ملفوظات سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ: 
(10661)…حضرت سیِّدُناعُمَر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: اپنے دوست کی حفاظت کرو، اپنے دشمن سے دور رہو اوراسی کو دوست بناؤ جو امانت دار ہو اور امانت داروہی ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنے والا ہے ، فاجر کی دوستی سے بچو کہ اس کے فسق و فجور میں پڑ جاؤ گے اور اپنے راز پر اسے مطلع نہ کرو کیونکہ وہ تمہیں رسوا کر دے گااور اپنے معاملے میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈرتے ہیں۔ 
(10662)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: رسول پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل خانہ نے جب بھی دن میں دو مرتبہ کھانا کھایا تو ان میں سے ایک  کھانا کھجور ہی ہوتا تھا۔ 
(10663)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ مکی مدنی سلطان، رحمَتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جس کی نمازِ جمعہ  چھوٹ جائے تو اسے چاہئے کہ نصف دینار صدقہ کرے (7)۔ (8)
بعض شعر حکمت ہیں: 
(10664)… اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ مُعَلِّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ” اِنَّ مِنَ الشَّعْرِ لَحِكْمَةً یعنی بعض شعر حکمت ہیں ۔  “ (9)
(10665)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:  ہم ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور سورت  اور دوسری دو میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں۔ 


________________________________
1 -   مسند الفردوس، ۱ / ۱۰۱، حدیث: ۳۳۳
2 -   مسند الفردوس، ۵ / ۱۷۴، حدیث: ۷۸۷۱
3 -   جب انسان دونوں ہاتھ سیدھے کرکے پھیلائے تو داہنے ہاتھ کی انگلی سے بائیں ہاتھ کی انگلی تک کو باع کہتے ہیں یہ کلام تمثیلی طور پر ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ تھوڑے عمل کے ذریعے قرب الٰہی حاصل کرو تو رب تعالیٰ اپنے کرم سے بہت زیادہ رحمت کے ساتھ تم سے قریب ہوگا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳ / ۳۰۷ )
4 -   یہ کلام بطورِ مثال سمجھانے کے لیے ہے مطلب یہ ہے کہ تمہاری طلب سے ہماری رحمت سبقت لے گئی ہے ، اگر تم ایسے معمولی اعمال کرو جن سے بدیر ہم تک پہنچ سکو تو ہم تم کو اپنے کرم سے بہت جلد اپنے دامن رحمت میں لے لیں گے اگر ربّ تعالیٰ سے قرب ہماری کوشش سے ہوتا تو قیامت تک ہم اس تک نہ پہنچ سکتے ، اس تک رسائی اس کی رحمت سے ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳ /  ۳۰۷)
5 -   بخاری، کتاب التوحید، باب ذکر النبی وروایتہ   الخ، ۴ / ۵۹۰، حدیث:  ۷۵۳۶
	مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الذکر   الخ، ۱۴۴۳، حدیث:  ۲۶۸۷
6 -   مسلم، کتاب الجھاد، باب لا يقتل قرشی صبرا بعد الفتحِ ، ص۹۸۴، حدیث: ۱۷۸۲، معجم اوسط، ۱ / ۴۴۹، حدیث: ۱۶۵۳
7 -   یہ دینار تصَدُّق کرنا شاید اس ليے ہو کہ قبولِ توبہ کے ليے مُعِیْن(یعنی مددگار)ہو ورنہ حقیقۃً تو توبہ کرنا فرض ہے ۔ (بہار شریعت، حصہ۴، ۱ /  ۷۵۸)
8 -   ابو داود، کتاب الصلوة، باب کفارة من تركها، ۱ / ۳۹۳، حدیث:  ۱۰۵۳
9 -   ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الشعر، ۴ / ۲۲۷، حدیث: ۳۷۵۵، عن ابی بن کعب