ادا فرمارہے ہیں۔ (1)
نشہ آور چیز کا حکم:
(10645)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک و مختارباذن پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ یعنی ہر نشہ آور چیزشراب ہے (یعنی حرام ہے )۔ “ (2)
(10646)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو نمازِ جمعہ کے لئے آئے اسے چاہئے کہ غسل کر ے ۔ (3)
(10647)…حضرت سیِّدُناعَمْروبن حُرَیْث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے محبوبِ ربِّ ذُو الجلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نمازِ فجر میں فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ(۱۵) الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ(۱۶) پڑھتے سنا۔ (4)
(10648)…حضرت سیِّدُناعَمْروبن حُرَیْثرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے زینتِ کائنات، فخْرِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نمازِ فجر میں وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ(۱۷) پڑھتے سنا۔ (5)
(10649)…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ عیدین کی نماز میں حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے نیزہ گاڑا جاتا تھا اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے سامنے نماز پڑھاتے تھے ۔
(10650)…حضرت سیِّدُنانعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرورِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ناحق کسی کو حد لگائی تووہ حدسے بڑھنے والوں میں سے ہے ۔ (6)
کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟
(10651)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ ارشاد فرمایا: نماز اپنے وقت میں پڑھنا، والدین کی اطاعت کرنا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (7)
(10652)…حضرت سیِّدُناوَبَرہ بن عبد الرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: حضور نبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے اہْلِ یمن کے لئے یَلَمْلَم کو، مدینہ والوں کے لئے ذُو الْحُلَیْفَہ کو، اہلِ شام کے لئے جُحْفہ کو اور اہْلِ نجد کے لئے قَرْن کو میقات (8) بنایا۔ حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے عراق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اس وقت کوفہ تھا نہ بصرہ۔
(10653)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہل نجد کے لئے قرنِ منازل کو، مدینہ والوں کے لیے ذُوالْحُلَیْفَہکو، اہْلِ شام کے لئے جُحْفَہ کو اور یمن والوں کے لیے یَلَمْلَم کومیقات بنایا ہے ۔ (9)
(10654)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ ہادیٔ عالَم، رسولِ محتشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فریایا: تَنَقَّهْ وَتَوَقَّهْ یعنی اپنے نفس کوستھراکرو اور آفات سے بچاؤ۔ (10)
اللہعَزَّ وَجَلَّ کے نام کی قسم:
(10655)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اللہعَزَّ وَجَلَّکے نام کی قسم کھاؤاورپوری
________________________________
1 - نسائی، کتاب الاذان، باب القول مثل ما یتشھد المؤذن، ص۱۱۷، حدیث: ۶۷۳
2 - مسلم، کتاب الاشربة، باب بيان ان كل مسكر خمر الخ ، ص۱۱۰۹، حدیث: ۲۰۰۳
3 - بخاری، کتاب الجمعة ، باب هل على من لم يشهد الجمعة الخ ، ۱ / ۳۰۹، حدیث: ۸۹۴
4 - سنن کبری للنسائی، کتاب التفسیر، باب سورة التکویر، ۶ / ۵۰۷، حدیث: ۱۱۶۵۰
5 - مسلم، کتاب الصلاة، باب القراءة فی الصبح، ص۲۳۹، حدیث: ۴۵۶
6 - سنن کبری للبیھقی، كتاب الاشربة والحد فيها، باب ما جاء فی التعزير وانه لا يبلغ به اربعين، ۸ / ۵۶۷، حدیث: ۱۷۵۸۴
7 - مسلم، کتاب الایمان، باب بيان كون الايمان بالله تعالى افضل الاعمال، ص۵۸، حدیث: ۸۵
8 - میقات اُس جگہ کو کہتے ہیں کہمَکَّۂ مُعَظَّمہزَادَھَا اللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاجانے والے آفاقی کو بِغیر احرام وہاں سے آگے جانا جائز نہیں، چاہے تجارت یا کسی بھی غرض سے جاتا ہو، یہاں تک کہمَکَّۂ مُکَرَّمَہزَادَھَا اللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے رہنے والے بھی اگر میقات کی حدود سے باہر(مثلاً طائف یا مدینہ مُنَوَّرَہ) جائیں تو اُنھیں بھی اب بغیر احرام مکَّۂ پاک زَادَھَا اللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاآنا ناجائز ہے ۔ (رفیق الحرمین ، ص۶۳)
9 - ابو داود، کتاب المناسک، باب فی المواقيت، ۲ / ۱۹۹، حدیث: ۱۷۳۷، بتقدم وتاخر
10 - معجم صغیر، جزء۱، ص۲۶۶، حدیث: ۷۵۵