سب سے افضل کون؟
(10635)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مہاجرین و انصار رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازے پر جمع تھے ، ہمارے درمیان ایک دوسرے پر فضیلتوں کے حوالے سے بحث چھڑی تو آواز بلند ہونے لگی، چنانچہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے درمیان آوازیں کیوں بلند ہو رہی ہیں؟ عرض کی گئی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم باہمی فضائل سے متعلق گفتگوکر رہے تھے ۔ ارشاد فرمایا: کیا تم میں ابوبکرموجود ہیں؟ ہم نے عرض کی: یارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ یہاں موجودنہیں ہیں۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم ابو بکر پر کسی کو فضیلت مت دیناکیونکہ وہ دنیا و آخرت میں تم سب سے افضل ہیں۔ (1)
جھوٹی گواہی کا وبال:
(10636)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ سرورِ دو عالَم، شَفیعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بروزِقیامت جھوٹی گواہی دینے والے کے قدم ہلنے بھی نہ پائیں گے کہ اس پر جہنم واجب ہو چکا ہو گا۔ (2)
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سادگی:
(10637)…حضرت سیِّدُنا شريح بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے گھر آکرکَیاکِیا کرتے تھے ؟ فرمایا: تم لوگوں کی طرح کام کاج میں اپنے گھر والوں کی مدد کرتے ، اپنے موزے پر پیوند لگاتے اور اپنی مبارک نعل خود ہی گانٹھ لیا کرتے تھے ۔
(10638)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ حضورنَبِیِّ اکرم، نُوْرِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بطور مثال یہ شعر کہا کرتے تھے : وَيَاْتِيْكَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدِیعنی تجھے ایسے واقعات سے پالا پڑے گا جن کے لئے تو نے توشہ نہیں لیا ہو گا۔
(10639)…حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت، شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمٍ وَّلَدَتْهُ اُمُّهٗیعنی جس نے بَیْتُ اﷲ کا حج کیا پس فحش کلامی اور فسق کی باتیں نہ کیں تو ایسے لوٹا جیسے اس کی ماں نے آج ہی اسے جنا ہے ۔ “ (3)
گھر سے نکلتے وقت کی دعا:
(10640)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنااُمِّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے حبیب، حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر سے نکلتے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے : اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَزِلَّ اَوْ اُزَلَّ اَوْ اَذِلَّ اَوْ اُذَلَّ اَوْ اَجْهَلَ اَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّیعنی اے ربّ عَزَّ وَجَلَّ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں لغزش کروں یا مجھے کوئی لغزش دے ، ذلیل ہوں یا ذلیل کیا جاؤں، میں جہالت والا سلوک کروں یا میرے ساتھ جہالت والا سلوک کیا جائے ۔ “ (4)
(10641)…حضرت سیِّدُنااِبْنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنَبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس آیَتِ مُبارَکہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۵) (پ۱، الفاتحہ: ۵)کی تفسیرمیں فرمایا: (صراطِ مستقیم سے مراد) اسلام ہے ۔ (5)
دم سے علاج:
(10642)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نظر لگنے کی صورت میں انہیں دم کروانے کا حکم دیا کرتے تھے ۔
(10643)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو قربانی کا اونٹ لے کر جا رہا تھا، آپ نے اس سے ارشاد فرمایا: تم پرافسوس ہے ! اس پرسوار ہو جاؤ۔ (6)
اذان کا جواب:
(10644)…حضرت سیِّدُناامیْرِمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سنا کہ موذن جو الفاظ کہہ رہا ہے آپ بھی وہی
________________________________
1 - تاریخ ابن عساکر، ۳۰ / ۲۱۲، رقم: ۳۳۹۸، عبد الله ويقال عتيق بن عثمان بن قحافة
2 - معجم اوسط، ۶ / ۱۶۲، حدیث: ۸۳۶۷
3 - بخاری، کتاب المحصر، باب قول اللّٰه عزوجل (ولا فسوق ولا جدال فی الحج)، ۱ / ۶۰۰، حدیث: ۱۸۲۰
4 - ابن ماجہ، کتاب الدعاء، باب مایدعو بہ الرجل اذا خرج من بیتہ، ۴ / ۲۹۱، حدیث: ۳۸۸۴
سنن کبری للنسائی، کتاب الاستعاذة ، باب الاستعاذة من الضلال، ۴ / ۴۵۶، حدیث: ۷۹۲۱
5 - تاریخ اصبھان، ۲ / ۶۵، رقم: ۱۱۰۱، عبيد الله بن محمود بن على بن مالك
6 - بخاری، کتاب الوصایا، باب ھل ینتفع الواقف بوقفہ، ۲ / ۲۳۸، حدیث: ۲۷۵۴