Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
278 - 361
(10614)…حضرت سیِّدُناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا، وہاں ایک سونے کامحل دیکھاتوپوچھا: یہ کس کاہے ؟بتایاگیاکہ عُمَربن خطاب کا۔ (1)
(10615)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس سے ایک شخص قربانی کا جانور  لے کرگزرا، آپ نے اس سے ارشاد فرمایا:  اس پر سوار ہو جاؤ۔ (2) اس نے عرض کی:  یہ تو قربانی کا جانور ہے ۔ ارشاد فرمایا: افسوس ہے تم پر!سوار ہو جاؤ۔ (3)
صفیں سیدھی رکھو: 
(10616)…حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ مُعَلِّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اَقِيْمُوْاصُفُوْفَكُمْ فَاِنَّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ اِقَامَةَ الصَّفِّیعنی اپنی صفیں سیدھی کروکہ نماز کی تکمیل میں سے صفیں سیدھی رکھنا بھی ہے ۔ (4) 
(10617)…حضرت سیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ(معراج کی رات)اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے پیارے حبیب، حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس خچرسے چھوٹااورگدھے سے بڑاایک جانور(بُراق) لایاگیا، اس کاایک قدم انتہائے نظرتک جاتاتھا، جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے قریب ہوئے تووہ اچھل کودکرنے لگا، حضرت سیِّدُناجبرئیلعَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: ٹھہر جا، تجھ پر ایسا کوئی سوار نہیں ہوا جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک  حضرت محمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ عزت والاہو۔ 
ختْمِ قرآن کے موقع پر دعا: 
(10618)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ جب رسولِ پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قرآنِ مجید ختم فرماتے تو اپنے گھر والوں کو جمع کر کے دعا کیا کرتے تھے ۔ 
(10619)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرورِ کونین، شہنشاہِ دارینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  عِنْدَ كُلِّ خَتْمَةٍ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ یعنی ہر ختْمِ قرآن کے وقت ایک مقبول دعا ہے ۔ (5) 
(10620)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  تم میں سے کوئی یہ نہ کہا کرے کہ میں نے دعا کی مگر میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ (6)
یارِ غار کا عشق: 
(10621)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ جب مدینے کے تاجدار، نبیوں کے سردارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغارِثورپہنچ کر اس میں داخل ہونے لگے تو حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:  یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے ماں باپ آپ پر قربان! مہربانی فرما کر پہلے مجھے داخل ہونے کی اجازت مرحمت فرمائیے کہیں اس غار میں کوئی مُوذِی جانور نہ ہواور اگر ایسی کوئی چیزہوبھی تو اس کی تکلیف مجھے ہو آپ کو نہ ہو۔ پھر حضرت سیِّدُناابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ غار میں داخل ہو کر اپنے ہاتھ سے ٹٹولنے لگے جہاں کوئی سوراخ  ملتااپنا کپڑا پھاڑ کر اس سے سوراخ بند کر دیتے حتّٰی کہ کپڑے کا کوئی ٹکڑا باقی نہ بچا اور ایک سوراخ بند ہونے سے رہ گیا اب کوئی کپڑا ہی نہیں تھا جس سے اس سوراخ کو بند کرتے لہٰذا اپنی  ایڑی سے اس سوراخ کا منہ بند کر دیا اورپھر عرض کی:  میرے ماں باپ آپ پر قربان یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اندرتشریف لے آئیے ۔ جب آپ اندر تشریف لائے تو ارشاد فرمایا:  ابو بکر! تمہارا کپڑا کہاں ہے ؟ انہوں نے پوری بات بتائی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہاتھ اٹھائے اور ان کے لیے دعا کی۔ (7)
حرص اور امید: 
(10622)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اِبْنِ آدم ہلاک ہونے لگے اور انتہائی ضعیف ہوجائے پھر بھی اس کی دو چیزیں باقی رہتی ہیں: (۱)…حرص اور (۲)…اُمید۔ (8)
شفاعَتِ مصطفٰے : 
(10623)…حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم، شافِعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  میری شفاعت میری امت کے گناہِ کبیرہ 


________________________________
1 -   مسند امام احمد، مسند انس بن مالک، ۴ / ۲۱۵، حدیث: ۱۲۰۴۶
2 -   قربانی کے جانور پر مجبوراً و ضرورۃً سوار ہونا جائز، بلا ضرورت منع ہے ۔ (ماخوذ از مراٰۃ المناجیح، ۴ /  ۱۶۰)
3 -   بخاری، کتاب الوصایا، باب ھل ینتفع الواقف بوقفہ، ۲ / ۲۳۸، حدیث: ۲۷۵۴
4 -   مسند امام احمد، مسند انس بن مالک، ۴ / ۵۴۵، حدیث: ۱۳۹۰۱، ۱۳۹۰۲
5 -   مسند الفردوس، ۲ / ۷۱، حدیث: ۳۹۴۰
6 -   ترمذی، کتاب الدعوات، باب۱۳۵، ۵ / ۳۴۸، حدیث:  ۳۶۱۹، بتغیر، عن ابی ھریرة
7 -   جامع الاحادیث، مسند انس بن مالک، ۱۹ / ۸۳، حدیث: ۱۳۶۳۴
8 -   الزھد لابن المبارک، باب النهی عن طول الامل، ص۸۷، حدیث: ۲۵۶