رونے کے ساتھ ہوتوبھی یہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے رونے کے برابر نہ ہو گا۔ (1)
(10605)…حضرت سیِّدُناابُوجُحَیْفَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلِ خدا، شفیْعِ روزِجزاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مقام اَبطح پرنمازپڑھی، آپ کے سامنے نیزہ یااس جیسی کوئی لکڑی کھڑی تھی اوراس کے آگے گزرگاہ تھی جہاں سے راہ گیر گزر رہے تھے ۔
(10606)…حضرت سیِّدُناابُوجُحَیْفَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں (فتح کی) خوشخبری لے کرآیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سجدے میں چلے گئے ۔
ناموسِ مسلم کے دفاع کا انعام:
(10607)…حضرت سیِّدُناعون بنعبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اُمِّ درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ایک شخص کو اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: مجھے تم پر رشک آرہا ہے کیونکہ میں نے اپنے شوہر نامدارحضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے سنا ہے کہ رحمتِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرے گابروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے چہرے کو آگ کی لپٹ سے محفوظ رکھے گا۔ (2)
(10608)…ایک تمیمی شخص کے دادا کابیان ہے کہ میرے والد نے میرے ذریعے حضورجانِ عالَم، شفیْعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوسلام کہلوایاتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جواباًفرمایا: عَلَيْكَ وَعَلٰى اَبِيْكَ السَّلَام یعنی تم پراور تمہارے والد پر سلام ہو۔ (3)
(10609)…حضرت سیِّدُنا کَعْب بن عُجْرَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: میرے بعد کچھ حاکم ہوں گے تو جس نے ان کے پاس جا کر ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور وہ میرے حوض پرہرگز نہیں آئے گا۔ (4)
بوقتِ وصال خوف کی کیفیت:
(10610)…حضرت سیِّدُنا طارق بن شِہابرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ کچھ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضرت سیِّدُنا خباب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کرنے کے لئے آئے اور کہنے لگے : ابو عبداللہ! آپ کو مبارک ہو کہ آپ حوض کوثر پر اپنے مسلمان بھائیوں سے ملیں گے ۔ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہرو دیئے اور کہا: تم نے میرے سامنے کچھ لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہیں تم نے میرا بھائی کہا ہے ، وہ لوگ دنیا سے اس حال میں چلے گئے کہ اپنے کسی عمل کا بدلہ یہاں نہیں لیا، ان کے بعد ہم باقی رہ گئے ہیں اور ہم نے دنیامیں سے اتنا لے لیاکہ اب خوف ہے کہ کہیں یہی ہمارے ان اعمال کا بدلہ نہ ہو۔
ایمان کا کمزورترین درجہ:
(10611)…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور رحمتِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص برا کام دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل سے (بُرا جانے ) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔ (5)
بے مثل نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(10612)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ بی بی آمنہ کے لال، محبوبِ رب ذوالجلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صومِ وصال(روزہ رکھ کرافطارکیے بغیر دوسرے دن پھرروزہ رکھنے ) سے منع کیا توعرض کی گئی: آپ تو صومِ وصال رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں، میں اس حال میں رات بسر کرتا ہوں کہ مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے ۔ (6)
(10613)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت، شفیْعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کی ایک (مقبول) دعا ہوتی ہے جو وہ اپنی امت کے لئے کرتا ہے میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لئے بچا رکھی ہے ۔ (7)
سیِّدُناعُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا جنتی محل:
________________________________
1 - معجم اوسط، ۱ / ۵۴، حدیث: ۱۴۳
2 - ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ماجاء فی الذب عن عرض المسلم، ۳ / ۳۷۴، حدیث: ۱۹۳۸
3 - سنن کبری للنسائی، کتاب عمل الیوم واللیلة، باب ما يقول اذا قيل له ان فلانا الخ ، ۶ / ۱۰۱، حدیث: ۱۰۲۰۵
4 - معجم کبیر، ۱۹ / ۱۴۱، حدیث: ۳۰۹
5 - مسلم، کتاب الایمان، باب بيان كون النهی عن المنكر الخ ، ص۴۴، حدیث: ۴۹
6 - بخاری، کتاب الصوم، باب الوصال ومن قال لیس فی اللیل صیام، ۱ / ۶۴۵، حدیث: ۱۹۶۱
بخاری، کتاب التمنی، باب مایجوز من اللو، ۴ / ۴۸۸، حدیث: ۷۲۴۲، عن ابی ھریرة
7 - بخاری، کتاب الدعوات، باب لکل نبی دعوة الخ، ۴ / ۱۸۹، حدیث: ۶۳۰۴، ۶۳۰۵