کو حوض کوثر پر آتا دیکھوں پھر میں ان کا آبِ کوثر سے بھرے برتنوں کے ساتھ استقبال کروں اورانہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے میں اپنے حوض سے پلاؤں۔ عرض کی گئی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ ارشاد فرمایا: تم میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو بن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے ، میں نے اپنے رب تعالیٰ سے سوال کیا ہے کہ وہ تمہارے اور مجھ پربن دیکھے ایمان لانے والوں کے ذریعے میری آنکھیں ٹھنڈی فرمائے ۔ (1)
شانِ مولٰی علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ:
(10598)…حضرت سیِّدُناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم، شَفیعِ مُعَظّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: زمین وآسمانوں کی تخلیق سے دوہزار سال پہلے جنت کے دروازے پر یہ لکھا ہواتھا’’ لَااِلٰهَ اِلَّااللهُ، مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللهِ، عَلِيٌّ اَخُوْرَسُوْلِاللهِیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں، حضرت محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اللہتعالیٰ کے رسول ہیں، علی، رسوْلُ اللہ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے بھائی ہیں۔ ‘‘(2)
(10599)…حضرت سیِّدُناابو جُحَیْفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا اٰكُلُ مُتَّكِئًا یعنی میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ (3)
خراب کھجوریں نہ دِیں :
(10600)…حضرت سیِّدُنا ابو جحیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھجوریں تناول فرما رہے تھے ، اس دوران جب کوئی خراب کھجور آتی تو اسے ہاتھ میں رکھ لیتے ۔ ایک شخص نے عرض کی: یہ کھجوریں مجھے عطا فرما دیجئے جو آپ نے بچائی ہیں۔ ارشاد فرمایا: میں تمہارے لئے وہ چیز پسند نہیں کروں گا جسے میں اپنے لئے پسند نہیں کرتا۔ (4)
شکم سیری کا نقصان:
(10601)…حضرت سیِّدُناابُوجُحَیْفَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ میں روٹی کھاکربارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، مجھے ڈکارآئی تواللہعَزَّ وَجَلَّکے محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ابُوجُحَیْفَہ!ہمارے سامنے ڈکار کوکم کروکیونکہ دنیا میں بہت زیادہ شکم سیر ہونے والا قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ بھوکا ہوگا۔ (5)
(10602)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا وہ رجزیہ اشعار پڑھنے والا ہے (6)۔
مجاہداسلام کی اہلیہ کا مقام:
(10603)…حضرت سیِّدُنا بریدہ بن حصیب اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار، دو عالَم کے مالِک ومختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: گھروں میں بیٹھے (یعنی جہادسے پیچھے )رہ جانے والوں پرمجاہدین کی عورتیں حرمت میں ان کی ماؤں کی طرح ہیں، تواگر پیچھے رہنے والاکوئی شخص کسی مجاہد کی بیوی کے پاس آئے پس اُس کے بارے میں مجاہدکے ساتھ خیانت کرے تو بروزِ قیامت اسے مجاہد کے سامنے کھڑا کرکے مجاہد سے کہا جائے گا: اس نے تیرے گھروالوں کے بارے میں تیرے ساتھ خیانت کی تھی لہٰذاتُو اس کے اعمال میں سے جو چاہے لے لے ۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: اب تمہارا کیا خیال ہے ؟(7)
سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کی گریہ و زاری:
(10604)…حضرت سیِّدُنا بُرَیْدہ بن حُصَیْب اَسْلَمِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوع روایت ہے کہ اگر حضرت داود عَلَیْہِ السَّلَاماورتمام زمین والوں کے رونے کاموازنہ حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامکے
________________________________
1 - جمع الجوامع، حرف اللام، ۶ / ۱۶۹، حدیث: ۱۸۱۹۵
2 - معجم اوسط، ۴ / ۱۴۱، حدیث: ۵۴۹۸، بتغیر قلیل
3 - بخاری، کتاب الاطعمة، باب الاکل متکئا، ۳ / ۵۲۸، حدیث: ۵۳۹۸
4 - طبقات لابن سعد، ذكر طعام رسول الله صلی الله علیه وسلم، ۱ / ۳۰۰، عن علی بن الاقمر
5 - مسند الفردوس، ۵ / ۳۵۶، حدیث: ۸۴۲۳
6 - تین دن سے کم میں قرآن کاختم خلافِ اولیٰ ہے ۔ (بہارشریعت، حصہ۳، ۱ / ۵۵۱)کہ حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’جوتین دن سے کم قرآن کریم ختم کرے وہ سمجھے گانہیں۔ ‘‘(ابوداود، کتاب شھررمضان، باب تخریب القران، ۲ / ۷۹، حدیث: ۱۳۹۴)مفسرشہیر، حکیْمُ الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس حدیْثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: جو شخص ہمیشہ تین دن سے کم میں ختْمِ قرآن کیا کرے ، وہ جلدی تلاوت کی وجہ سے نہ تو الفاظِ قرآن صحیح طور پر سمجھ سکے گااورنہ اس کے ظاہری معنی میں غورکرسکے گا۔ خیال رہے کہ یہ حکم عام مسلمانوں کے لیے ہے کہ وہ اگر بہت جلدی تلاوت کریں، تو زبان لپٹ جاتی ہے حرف صحیح ادا نہیں ہوتے خواص کا حکم اور ہے خود حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمتہجد کی ایک ایک رکعت میں پانچ پانچ چھ چھ پارے پڑھ لیتے تھے ۔ حضرت عثمان غنی(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے ایک رات میں ختْمِ قرآن کیا ہے ، (سیِّدُنا)داؤدعَلَیْہِ السَّلَام چند منٹ میں زبورختم کرلیتے تھے ، حضرت علی(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) گھوڑا کسنے سے پہلے ختْمِ قرآن کرلیتے تھے ۔ (صاحِبِ)مرقات نے فرمایا کہ شیخ موسیٰ سدوانی جوشیخ ابو مدین کے اصحاب میں سے تھے ایک دن و رات میں ستر ہزارختم کرلیتے تھے ایک دفعہ انہوں نے کعبہ معظمہ میں سنگ اسود چوم کر دروازہ کعبہ پر پہنچ کر ختْم قرآن فرمالیااور لوگوں نے ایک ایک حرف سنا، لہٰذااس حدیث کی بناپرنہ تومروجہ شبینوں کوحرام کہا جاسکتا ہے اور نہ امام اعظم ابوحنیفہ(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) اور ان صحابَۂ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)پر اعتراض کیا جاسکتا ہے جو ایک دن و رات میں پورا ختم کرلیتے تھے کہ یہ حکم عوام مسلمانوں کے لیے ہے جواس قدر جلد قرآن شریف پڑھنے میں درست نہ پڑھ سکیں۔ ختْمِ قرآن میں عام بزرگوں کے طریقے مختلف رہے ہیں، بعض ایک ماہ میں ایک ختم کرتے تھے ، بعض ایک ہفتہ میں ایک ختم، بعض حضرات تین دن میں۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳ / ۲۷۰، ملتقطًا)
7 - نسائی، کتاب الجھاد، باب حرمة نساء المجاھدین، ص۵۱۹، ۵۲۰، حدیث: ۳۱۸۶، ۳۱۸۷