Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
275 - 361
(10590)…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جس نے جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑی  اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخِلِ جہنم ہو گا۔ (1)
حاجت پوری کردی جاتی ہے : 
(10591)…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جب اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کا بندہ باجماعت نماز پڑھ کر اس کی بارگاہ میں کسی حاجت کا سوال کرتا ہے تو اللہ عَزَّ   وَجَلَّ اس بات سے حیا فرماتا ہے کہ اس کے واپس ہونے سے پہلے اس کی حاجت پوری نہ کرے ۔ (2)
(10592)…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا، حبیبِ کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتے وقت بِسْمِ اللہ پڑھتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے : تیری ذمہ داری لے لی گئی۔ (3)
(10593)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  رات کی نماز دو دور رکعتیں ہیں پھر  جب تمہیں صبح کا خوف ہو تو ایک رکعت اور ملا لو(4)۔ (5)
محشر میں علما کا مقام ومرتبہ: 
(10594)…حضرت سیِّدُناابن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاروایت کرتے ہیں کہ آقائے نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جب قیامت کا دن ہوگا تو سونے کے منبر رکھے جائیں گے جن پر چاندی کے گنبد ہوں گے ، ان میں موتی، یاقوت اور زمرد جَڑے ہوں گے اور اس کی چادریں باریک اور موٹے ریشم کی ہوں گی، علمائے کرام کو بلا کر اُن پر بٹھا یا جائے گا پھر رحمٰن عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ایک منادی ندادے گا:  ” کہاں ہیں وہ جورضائے الٰہی کے لئے اُمتِ محمدیہ تک علم پہنچاتے تھے ، اِن منبروں پر بیٹھو! آج تم پر کوئی خوف نہیں حتّٰی کہ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔  “ (6)
(10595)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے ، ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی تھا انہوں نے اپنے بیٹے کو بوسہ دیا تو حضور نبی رحمت، شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  بوسہ دینا نیکی ہے اورایک نیکی10کے برابر ہے ۔ (7)
بِسْمِ اللہ شریف پردہ ہے : 
(10596)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ” جب تم میں سے کوئی اپنے کپڑے اُتارنے لگے یا بَرہنہ ہونے لگے تو اسے چاہئے کہ بِسْمِ اللہ کہہ لے کیونکہ یہ شیطان اور اس کے درمیان پردہ ہے ۔ (8) “ اور ارشاد فرمایا: ’’اپنے پیٹوں اور اپنی پیٹھوں کو نماز قائم کرنے کے لیے ہلکا رکھو۔ (9)‘‘
بن دیکھے ایمان لانے والوں کی شان: 
(10597)…عَطِیَّہ بن سعد کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے کہا: کاش!میں نے رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت کی ہوتی۔ آپ نے اس سے فرمایا:  توپھرتمکیاکرتے ؟اس نے کہا: خداکی قسم!میںآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرایمان لاتا، آپ کی پیشانی کابوسہ لیتا اورآپ کی اطاعت کرتا۔ حضرت سیِّدُنااِبْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اس سے فرمایا: کیامیں تمہیں خوشخبری نہ  دوں؟ اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن!کیوں نہیں۔ فرمایا: میں نے رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا ہے :  جس بندے کے دل میں میری محبت آئے اور وہ مجھ سے محبت کرنے  لگے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے جسم کو آگ پر حرام فرما دیتا ہے ۔ (10)پھر ارشاد فرمایا:  میری دلی تمنا ہے کہ میں اپنے بھائیوں 


________________________________
1 -   جمع الجوامع، حرف المیم، ۷ / ۱۲۹، حدیث: ۲۱۶۴۱
2 -   جمع الجوامع، حرف الھمزة، ۲ / ۲۷۵، حدیث: ۵۶۱۹
3 -   جمع الجوامع، حرف الھمزة، ۱ / ۳۰۲، حدیث: ۲۲۱۰، عن عون بن عبد اللّٰہ مرسلا
4 -   مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:  بہتر یہ ہے کہ نماز تہجدِدو۲دو۲ رکعتیں پڑھے ، چار چار یا زیادہ کی نیت نہ باندھے یہ حدیث صاحبین اور امام شافعی کی دلیل ہے کہ رات کے نوافل دو دو کرکے پڑھنا افضل ہے ۔ مزید فرماتے ہیں:  اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ایک رکعت دو رکعتوں کے ساتھ پڑھے (یہ ایک رکعت تمام نمازکوطاق بنادے گی) یہ مطلب نہیں کہ علیٰحدہ ایک رکعت پڑھے ورنہ یہ حدیث تین رکعت والی احادیث کے خلاف ہوگی۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ /  ۲۶۹)
5 -   مسلم، کتاب صلاة  المسافرین، باب صلاة اللیل مثنی مثنی    الخ ، ص۳۷۷، حدیث: ۷۴۹، ملتقطا
6 -   تمھید الفرش، ذکر خصا ل التی وقعت لی، ص۸۱
7 -   الکامل لابن عدی، ۱ / ۴۹۵، رقم:  ۱۲۹، إسماعيل بن يحيى بن عبيد اللّٰه التيمی
8 -   مسند الفردوس، ۱ / ۴۴۷، حدیث: ۳۳۳۰، بتقدم وتاخر، عن انس
9 -   جامع صغیر، ص۲۳۹، حدیث:  ۳۹۲۲
10 -   جامع صغیر، باب حرف المیم، ص۴۷۷، حدیث:  ۷۷۹۸